بشری بی بی نےاڈیالہ جیل منتقلی کیلئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا
بشریٰ بی بی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے اپیل کی ہے کہ انہیں بنی گالہ سب جیل میں رکھنے کی بجائے اڈیالہ جیل منتقل کیا جائے ۔ وہ کسی بھی عام شہری کی طرح اپنی سزا کاٹنا چاہتی ہیں۔
بشریٰ بی بی نے اپنی درخواست میں بنی گالہ کو سب جیل قرار دینے کا 31جنوری کا نوٹی فیکیشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔ انہوں نے درخواست میں کہا کہ کسی بھی عام قیدی کی طرح سزا اڈیالہ جیل میں کاٹنا چاہتی ہوں، تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی اہلیہ نے اپنی درخواست میں کہا کہ دوسرے سیاسی ورکر جیلوں میں عام قیدیوں کے ساتھ ہیں۔ بنی گالہ سب جیل میں منتقلی مساوی حقوق کے منافی ہے۔ بشری بی بی نے کہا کہ31جنوری کوصبح 10 سے رات 9بجےتک اڈیالہ جیل میں انتظار کرانے کے بعد سب جیل منتقل کیاگیا۔ پوچھنے پر مجھے بتایا گیا کہ بنی گالہ رہائش کو سب جیل قرار دےدیا گیا ہے۔
31 جنوری کو بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ ریفرنس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے بعد بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل پہنچ کر گرفتاری کے لیے سرنڈر کیا۔ بشریٰ بی بی نے صبح 10 بجے اڈیالہ جیل پہنچ کر سپرنٹنڈنٹ کو آگاہ کیا کہ وہ خود کو گرفتاری کے لیے پیش کرنے کے لیے آگئی ہیں۔ سابق خاتون اول کو صبح 10 سے رات 9 بجے تک انتظار گاہ میں ٹھہرایا گیا۔ رات 9 بجے کے بعد بشریٰ بی بی کو کہا گیا کہ آپ کو کسی اور جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔ بشریٰ بی بی کے استفسار پر جیل حکام نے بتایا کہ خان ہاؤس بنی گالا کو ہی سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔
اس کے مطابق بشریٰ بی بی کی جانب سے خان ہاؤس کو سب جیل قرار دے کر وہاں منتقل کرنے کی کبھی کوئی درخواست نہیں کی گئی۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ بشریٰ بی بی پاکستان کی سب سے مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ کی اہلیہ ہیں اور کسی بھی عام کارکن کی طرح بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ہی اپنی سزا کاٹنا چاہتی ہیں۔
درخواست لکے مطابق بشریٰ بی بی بطور خاتون خود کو سب جیل میں محفوظ نہیں سمجھتیں۔ سب جیل میں نامعلوم افراد کی نقل و حرکت کے باعث بشریٰ بی بی خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں۔ ان کے ساتھ یہ خصوصی برتاؤ دیگر خاتون قیدیوں کے ساتھ متعصبانہ رویے کے مترادف ہے۔