70 فیصد نوجوان ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں: سروے
- تحریر وائس آف امریکہ اردو
- منگل 06 / فروری / 2024
وائس آف امریکہ اردو کے حالیہ سروے کے مطابق پاکستان کے 70 فی صد نوجوانوں نے آٹھ فروری کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اگر نوجوان اتنی بڑی تعداد میں ووٹ دینے نکلتے ہیں تو انتخابی سیاست میں کئی بڑی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ وی او اے نے یہ سائنٹیفک سروے ملٹی نیشنل کمپنی ’اپسوس‘ کے ذریعے کرایا تھا جس میں 18 سے 34 برس کے افراد کی رائے لی گئی تھی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک میں 18 سے 35 سال کے ووٹرز کی تعداد پانچ کروڑ 68 لاکھ سے زائد ہے اور مجموعی ووٹرز میں ان کی شرح 44 فی صد سے زائد بنتی ہے۔ مبصرین کے نزدیک اگر نوجوان ووٹرز کا ٹرن آؤٹ زیادہ ہوتا ہے تو اس سے ووٹ ڈالنے کی مجموعی شرح میں بھی اضافہ ہو گا۔
تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابات کی شفافیت پر اٹھنے والے سوالات کی وجہ سے ووٹرز میں انتخابی عمل سے متعلق لاتعلقی بڑھ رہی ہے جو ووٹنگ ٹرن آؤٹ پر بھی اثر انداز ہو گی۔
ڈیٹا کی بنیاد پر سیاسی تجزیے اور سروے کرنے والے ادارے ’ڈیٹا ورس‘ کے سربراہ حاشر ابن ارشاد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ووٹنگ ٹرینڈ کے لیے وائس آف امریکہ کے سروے کا سیپمل سائز (دو ہزار افراد) بہت کم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت بڑے پیمانے پر لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ انتخابات کے نتائج طے شدہ ہیں، اس لیے ٹرن آوٹ 70 فی صد تک پہنچنا ممکن نظر نہیں آتا۔
قائدِ اعظم یونیورسٹی سے وابستہ ماہرِ سماجیات پروفیسر محمد زمان کا کہنا ہے کہ نوجوان ووٹرز کے لیے حالیہ انتخابات میں حوصلہ شکنی کرنے والے محرکات زیادہ ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کے قائد اور ان کا انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے ووٹر ٹرن آؤٹ متاثر ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر شہری علاقوں میں جہاں پی ٹی آئی کا ووٹ بینک زیادہ ہے وہاں ووٹر پولنگ کے لیے سہولت چاہتا ہے لیکن اب تو اسے امیدوار بھی خود ہی تلاش کرنا ہے۔
صحافی ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو انتخابات میں نوجوان ووٹرز کے ٹرن آؤٹ سے متعلق کوئی بڑی خبر سامنے نہیں آسکی ہے۔ ہر بار اس پر تو بات ہوتی ہے کہ گزشتہ الیکشن کے بعد بڑی تعداد میں نئے ووٹرز آئے ہیں لیکن الیکشن کے روز نئے ووٹرز کی شمولیت نظر نہیں آتی۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر مجموعی ٹرن آؤٹ 50 فی صد کے آس پاس ہی رہتا ہے۔
اس مرتبہ نوجوانوں کی نمائندہ سمجھی جانے والی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف مشکل میں ہے جس کی وجہ سے پیدا ہونے والی ناامیدی کی وجہ سے نوجوان ووٹر بڑی تعداد میں ووٹ دینے نہیں نکلے گا لیکن اگر آٹھ فروری کو نوجوانوں کے ٹرن آؤٹ میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے تو یہ ایک سیاسی معجزہ ہو گا۔
پاکستان میں ووٹ دینے والوں کا ان کی عمر کے حساب سے کوئی ریکارڈ مرتب نہیں کیا جاتا۔ کسی خاص عمر کے افراد میں ووٹ کا رجحان جاننے کے لیے ایگزٹ پولز یعنی ووٹ دے کے باہر آنے والے افراد کے سروے پر انحصار کیا جاتا ہے۔ ایگزٹ پولز پر مبنی مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستانی نوجوانوں میں ووٹ دینے کا رجحان بہت کم ہے۔