آٹھ فروری کے یومِ انتخاب کے بعد؟
- تحریر نصرت جاوید
- منگل 06 / فروری / 2024
کالم کے اصل موضوع کی طرف آنے سے قبل اپنے دیرینہ قارئین کی خدمت میں دست بستہ عرض کرنا ہے کہ منگل کی صبح اٹھ کر نیا کالم لکھنے کے بجائے میں سامان سفر باندھے اسلام آباد سے چند دنوں کے لئے لاہور روانہ ہو چکا ہوں گا۔
8 فروری کے یوم انتخاب کے لئے ٹی وی چینل کی خصوصی نشریات میری توجہ کا مرکز رہیں گی اور ان میں شرکت کے لئے ہمہ وقت پاکستان کے تمام شہروں میں نمودار ہوئی فضا کے بارے میں معلومات کے حصول کے بعد تبصرہ آرائی کرنا ہو گی۔ امید ہے کہ آئندہ کالم پیر کی صبح اسلام آباد لوٹ کر لکھوں گا۔ اس دوران آپ سے دوری کی خلش محسوس ہوتی رہے گی اور اس امر کی بابت شرمندگی کا احساس بھی کہ طویل عرصے کے بعد آپ سے تقریباً ایک ہفتہ تک رابطے میں نہیں رہوں گا۔
آج کے کالم کا موضوع 8 فروری کے انتخاب کے علاوہ کچھ ہو نہیں سکتا۔ جو انتخاب ہونا ہیں، ان میں شر کت سے یقیناً ہمارے ملک کی ایک مقبول جماعت کو ریاستی اداروں نے ہر حربہ استعمال کرتے ہوئے روکنے کی کوشش کی۔ تحریک انصاف کے مخالفین کو یہ حقیقت یاد دلائی جائے تو وہ 2018 کا انتخاب یاد دلاتے ہیں جس سے قبل ایک طویل عدالتی عمل کے ذریعے ان دنوں کی مقبول جماعت کے سربراہ اور تین بار وطن عزیز کے وزیر اعظم رہے نواز شریف کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لئے نااہل ٹھہرانے کے بعد بدعنوانی کے الزامات کے تحت جیل بھجوا دیا گیا تھا۔
نواز شریف کو جیل بھجوا دینے کے باوجود ان کے نام سے منسوب جماعت کو لیکن اس کے انتخابی نشان سمیت میدان میں موجود رہنے دیا گیا تھا۔ تحریک انصاف کو یہ سہولت میسر نہیں۔ اس کے بانی کو ریکارڈ بناتی سبک رفتاری کے ساتھ اڈیالہ جیل میں چلائے مقدمات کے اختتام پر کئی سالوں تک پھیلی سزائیں سنادی گئی ہیں۔ ان پر بھاری بھر کم جرمانے بھی عائد ہوئے ہیں۔ اس جماعت کے بانی کی نااہلی کے بعد باقی بچی جماعت کے سربراہ اس کا انتخابی نشان بچانے میں ناکام رہے۔ میدان میں اب تحریک انصاف کے نہیں اس کے حمایت یافتہ امیدوار اترے ہیں۔ تکنیکی اعتبار سے وہ آزاد ہیں اور لازمی نہیں کہ منتخب ہو جانے کے بعد وہ تحریک انصاف ہی کے وفادار رہیں۔ ملکی تاریخ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہم یہ سوچنے کو مجبور ہیں کہ رکن اسمبلی کا حلف اٹھا لینے کے بعد تحریک انصاف کے حمایت یافتہ ارکان ”وسیع تر قومی مفاد“ میں اس جماعت میں شامل ہوجائیں گے جو سادہ اکثریت کے ساتھ نمودار ہو گی۔
ہم صحافیوں کی کثیر تعداد عوامی رابطوں کے بعد یہ محسوس کررہی ہے کہ تحریک انصاف سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے حامیوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔ اس جماعت کے بانی اور دیگر کئی سرکردہ رہنماﺅں کے ساتھ ریاست کے ہاتھوں ہوئے سلوک نے ”ہمدردی کا ووٹ“ بھی متاثر کن تعداد میں بڑھادیا ہے۔ تحریک انصاف کے حامی خاموشی مگر ثابت قدمی سے 8 فروری کے منتظر ہیں۔ وہ ازخود گھروں سے نکل کر پولنگ اسٹیشن پہنچ جائیں گے اور نظر بظاہر دیگر سیاسی جماعتوں کے لگائے کیمپوں سے ووٹ کی پرچی کے حصول کے بعد پولنگ بوتھ تک پہنچ جانے کے بعد بیلٹ پیپر پر موجود تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار کے انتخابی نشان پر مہر لگانے کے بعد گھر واپس آجائیں گے۔ عمران خان کا وفادار شمار ہوتا ”کھمبا“ بھی کامیاب ہوجائے گا۔
1989 سے بطور رپورٹر میں انتخابی حرکیات کا طالب علمانہ لگن سے مسلسل مشاہدہ کررہا ہوں۔ مجھے شبہ ہے کہ کھمبے کے بارے میں جو خوش کن خواب بنے اور بتائے جا رہے ہیں، وہ حقیقت میں تبدیل نہ ہو پائیں گے۔ یہ لکھنے کے بعد اعتراف اگرچہ یہ بھی کرنا ہے کہ ڈھلتی عمر کا صحافی ہوں۔ اس توانائی اور ضد کی شدت کا غالباً اندازہ لگانے کے قابل نہیں جوسوشل میڈیا کے عادی افراد کو متحرک بناتی ہے۔ یہ اعتراف کرنے کے باوجود مجھے رپورٹ کرنا ہوگا کہ اسلام آباد کے 30 سے زیادہ رہائشیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں۔ وہ تحریک انصا ف کے شیدائی ہیں اور اس جماعت کو ان دنوں شدید زیادتی کا نشانہ بنا ہوا بھی تصور کرتے ہیں۔ وہ گزشتہ دودہائیوں سے ہر انتخاب میں حصہ بھی لیتے رہے ہیں۔ ان کی اکثریت مجھے نہایت دکھ سے یہ بتاتی رہی کہ اب کی بار وہ ووٹ ڈالنے کو آمادہ نہیں۔
چند افراد پر مشتمل جو انتہائی مختصر گروہ میں نے انتخابی نتائج کا اندازہ لگانے کے لئے چنا ہے ان میں سے پچاس فی صد افراد کو گزرے ہفتے کی شام تک یہ خبر ہی نہیں تھی کہ ان کے حلقے میں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدوار کا نام کیا ہے اور اسے کون سا انتخابی نشان الاٹ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اہم بات یہ بھی ہے کہ تحریک انصاف کے ممکنہ ووٹروں کو اعتماد نہیں کہ وہ جس شخص کو عمران خان کی محبت میں گھروں سے ووٹ ڈالنے نکلیں گے وہ رکن اسمبلی کا حلف اٹھالینے کے بعد تحریک انصاف کا وفادار رہے گا یا نہیں۔ 30 سے زائد افراد پر مشتمل چنے گروہ کو ملک بھر میں چھائے موڈ کا حقیقی نمائندہ تصور کیا نہیں جا سکتا۔ اس کے باوجود دن میں دو سے تین بار مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے وہ جن خدشات کا اظہار کرتے ہیں، ملک بھر میں پھیلے مناسب حد تک تحریک انصاف کے حامیوں کے دل ودماغ میں موجود خیالات کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان سے گفتگو لہٰذا مجھے یہ سوچنے کو ا کسارہی ہے کہ 8 فروری کے دن غالباً تحریک انصاف کے ممکنہ ووٹروں کی اکثریت اپنے گھروں ہی میں بیٹھی رہے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ایسا واقعہ 1997ءکے انتخاب کے دوران ہوا تھا۔
نسبتاً کم ٹرن آﺅٹ کے باوجود مسلم لیگ (نون) 1997 کی طرح ”ہیوی مینڈیٹ“ لیتی بھی نظر نہیں آ رہی۔ مختلف حلقوں میں جاکر بہت لگن اور محنت سے عوام کی رائے جاننے میں مصروف کئی رپورٹروں سے جو رابطے ہوئے ہیں یہ سوچنے کو مائل کررہے ہیں کہ مسلم لیگ (نون) کو اپنے تئیں سادہ اکثریت کے حصول میں بھی بہت دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 8 فروری کے بعد اسے دیگر سیاسی جما عتوں اور آزاد اراکین اسمبلی کے ساتھ مخلوط حکومت بنانا ہو گی۔ پنجاب کے علاوہ دیگر تین صوبوں میں بھی وہ اپنے تئیں حکومت نہیں بناپائے گی۔ پاکستان ان دنوں کئی بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان سے نبردآزما ہونے کے لئے ہمیں بھرپور عوامی حمایت سے قائم ہوئی حکومت درکار ہے جو وقتی طور پر عوام میں غیر مقبول مگر دیرپا تناظر میں معاشی اور سیاسی استحکام یقینی بنانے کیلئے سخت گیر اصلاحی اقدامات ا ٹھا سکے۔
مخلوط حکومت ممکنہ طورپر اس ضمن میں مطلوبہ جی داری دکھا نہیں پائے گی۔ ایک بڑی جماعت کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کی وجہ سے تلخیوں اور معاشرتی تقسیم میں بھی مزید اضافہ ہو گا۔ ایسے میں 8 فروری کا دن گزرنے کے بعد معاملات کو مستحکم ہوتا دیکھنے میں دشواری محسوس کر رہا ہوں۔
(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)