اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسانی حقوق کی پی ٹی آئی ارکان کو ہراساں کرنے پر تشویش

  • بدھ 07 / فروری / 2024

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک نے پاکستانی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ مکمل طور پر آزادانہ اور منصفانہ ووٹنگ کو یقینی بنائیں۔ اور جمہوری عمل کے لیے اپنے عزم کی تجدید کریں۔

جنیوا میں ایک نیوز بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی ترجمان لِز تھروسل نے زور دیا کہ مکمل طور پر آزادانہ اور منصفانہ عمل کو یقینی بنایا جائے۔

یہ بیان عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی طرف سے ہراساں کیے جانے اور انہیں مسلم لیگ نون جماعت اور اس کے امیدوار نواز شریف کی طرح جلسے جلوس نہ کرنے کی شکایات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ حکام نے ایسی شکایات کی تردید کی ہے۔

عمران خان کو چار مقدمات میں جرم ثابت ہونے کے بعد مجموعی طور پر 34 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ تاہم یہ سزائیں اگر ایک ساتھ شروع ہوئیں تو قید کا دورانیہ کسی ایک سب سے زیادہ سزا کے برابر رہ جائے گا۔ عدالت نے انہیں الیکشن لڑنے کے لیے بھی نااہل قرار دے دیا ہے۔ ان کی پارٹی اور حامیوں نے دعویٰ کیا ہےکہ یہ پاکستان کی طاقتور فوج کے خلاف ان کی بیان بازی کی سزا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے کئی ارکان 9 مئی کو فوج کی تنصیبات پر حملے کرنے، توڑ پھوڑ  اور انہیں نذر آتش کرنے سمیت لوگوں کو فوج کے خلاف اکسانے میں ملوث ہیں۔

الزبیتھ تھروسیل نے کہا کہ اقوام متحدہ کے حقوق کا ادارہ خان کی پارٹی اور اس کے حامیوں کو ہراساں کیے جانے، گرفتاریوں اور رہنماؤں کی طویل حراستوں کے ’پیٹرن سے پریشان ہے۔  پاکستان میں تمام اہل جماعتوں کو منصفانہ طور پر مقابلے میں شرکت کے قابل ہونا چاہیے۔۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی ترجمان نے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں جمعرات کے پارلیمانی انتخابات سے پہلے، ہم سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے خلاف تشدد کی تمام کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ اور حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ ایک جامع اور بامعنی جمہوری عمل کے لیے لازم بنیادی آزادیوں کو برقرار رکھیں۔