بلوچستان میں دو امیدواروں کے انتخابی دفاتر کے باہر دھماکے، 24 افراد جاں بحق
بلوچستان کے دو اضلاع میں انتخابی امیدواروں کے باہر ہونے والے دھماکوں میں کم از کم 24 افراد جاں بحق اور دو درجن سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
بدھ کو پہلا دھماکہ ضلع پشین جب کہ دوسرا دھماکہ قلعہ سیف اللہ میں امیدواروں کے دفتر کے باہر ہوا۔ نگراں وزیرِ داخلہ میر زبیر جمالی نے وائس آف امریکہ کے نمائندے مرتضیٰ زہری سے گفتگو میں بتایا کہ پشین کے علاقے خانوزئی میں بلوچستان اسمبلی کے حلقہ 47 کے آزاد امیدوار اسفند یار کاکڑ کے انتخابی دفتر کے باہر دھماکہ ہوا۔
یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان میں عام انتخابات میں 24 گھنٹے سے بھی کم وقت باقی ہے اور انتخابی مہم کا وقت بھی منگل کی رات 12 بجے ختم ہو چکا ہے۔ خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پشین دھماکے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہوئے ہیں جب کہ متعدد زخمی ہیں جنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔ صوبے کے نگراں وزیرِ اطلاعات جان اچکزئی اور مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قلعہ سیف اللہ میں جے یو آئی (ف) کے انتخابی دفتر کے باہر ہونے والے دھماکے میں کم از کم 10 افراد جاں بحق ہوئے۔ پولیس کے مطابق دھماکے کے وقت بلوچستان اسمبلی کے حلقہ تین قلعہ سیف اللہ سے جے یو آئی (ف) کے امیدوار مولانا عبدالواسع دفتر میں موجود نہیں تھے۔
ڈپٹی کمشنر قلعہ سیف اللہ کے مطابق دھماکے میں 12 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ صوبے میں ہونے والے ان دونوں دھماکوں کی ذمہ داری فوری طور پر کسی نے قبول نہیں کی ہے۔ یہ دھماکے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب پاکستان بالخصوص بلوچستان میں عسکریت پسندوں کے حالیہ حملوں کے بعد امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور پیراملٹری فورسز کی بڑی نفری تعینات ہے۔
صدر عارف علوی، نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے علاوہ سیاسی لیڈروں نے ان حإلوں کی مذمت کی ہے۔