ڈاکٹر عاشق غوری: ستارہ ٹوٹ کے روشن لکیر چھوڑ گیا

جب انہیں معلوم ہوا کہ میرا تعلق بہاولپور سے ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور مجھ سے دوبارہ ہاتھ ملایا۔ ان کی بے ساختہ وارفتگی نے مجھے بھی سرشار کر دیا۔ یہ ڈاکٹر عاشق غوری سے میری پہلی ملاقات تھی۔

یہ غالباً 1994 کی بات ہے اور مجھے لندن آئے ہوئے چند ہی مہینے ہوئے تھے۔ اس پہلی ملاقات کے بعد ڈاکٹر غوری سے میرا ایک ایسا خوشگوار رابطہ استوار ہوا جو ان کے اس دنیا سے رخصت ہونے تک برقرار رہا۔ وہ لندن کے ان چند گنے چنے اوورسیز پاکستانیوں میں سے تھے جن کا شمار اپنی کمیونٹی کے سرکردہ اور کامیاب پروفیشنلز میں کیا جاتا تھا۔ وہ ایک ایسے وضعدار انسان اور شاندار ڈینٹسٹ تھے جنہوں نے درجنوں ڈاکٹرز کی تربیت اور حوصلہ افزائی کر کے ان کے لیے ترقی اور کامیابی کی راہیں ہموار کیں۔ غلام مصطفی جتوئی (سابق نگران وزیراعظم)، مخدوم امین فہیم اورمعین الدین حیدر (سابق گورنر سندھ) سمیت پاکستان کی درجنوں شخصیات ڈاکٹر عاشق غوری کے ذاتی دوستوں اور حلقہ احباب میں شامل تھیں۔

پاکستان سے دور رہ کر بھی ان کا دل اپنے وطن کے لیے دھڑکتا تھا اور وہ اپنے ملک کے سیاسی اور سماجی حالات کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار روزنامہ جنگ لندن میں اپنے بیانات کے ذریعے ضرور کیا کرتے تھے۔ ویسٹ لندن میں ان کی ڈینٹل سرجری بہت مصروف ہونے کے باوجود دوست احباب سے ملاقاتوں کا مرکز بھی تھی۔ شیپرڈبش کی ا س سرجری میں ڈاکٹر عاشق غوری سے میری درجنوں ملاقاتیں ہوئیں۔ ایک بار میں نے انہیں بتایا کہ ڈینٹسٹ بننے کی خوبیاں ہونے کے باوجود میں ڈینٹسٹ نہیں بنا تو وہ دلچسپی سے پوچھنے لگے کہ کیسے؟ میں نے کہا کہ میں بچپن سے ہی ہنس مکھ تھا اور ذرا ذرا سی بات پر دانت نکالتا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے میری بات سن کر کہ قہقہہ لگایا۔ وہ ایک زندہ دل اور ہر وقت ہنسنے مسکرانے والے انسان تھے۔ ایک روز ڈاکٹر غوری خوشگوار موڈ میں تھے۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب ڈینٹسٹ ہونے میں ایک بڑی خرابی ہے۔ پوچھنے لگے وہ کیا؟ میں نے کہا کہ اگر کوئی خوبصورت لڑکی قہقہہ لگا رہی ہو تو ایک ڈینٹسٹ اس کی ہنسی سے لطف اندوز ہونے کی بجائے یہ دیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کی کسی داڑھ میں کیڑا تو نہیں لگا ہوا یا اس کی کسی داڑھ میں فلنگ تو نہیں ہونے والی۔ میری بات سن کر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگے کہ میں تو اتنا بد ذوق نہیں ہوں۔

ڈاکٹر عاشق غوری واقعی اعلیٰ ذوق کے مالک تھے اور ان کی تمام ڈینٹل سرجریز میں شاندار حسن انتظام کو دیکھ کر ان کی خوش ذوقی کا یقین آجاتا تھا۔ نفاست اور ملنساری کے علاوہ حب الوطنی بھی ڈاکٹر عاشق غوری کی پہچان کا اہم جزو تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح ان کی پسندیدہ شخصیت تھی۔ 2007 میں مجھے اپنی کتاب ”کامیاب لوگ“ کے سلسلے میں ڈاکٹر غوری سے ایک طویل انٹرویو کرنے کا موقع ملا۔ اس انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش ہے کہ پاکستان میں ایک ایسا معاشرہ قائم ہو جہاں ہر سطح پر انصاف کی بالادستی ہو۔ استحصالی اور جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ہو اور پاکستان حقیقی جمہوری اور فلاحی ریاست بن جائے۔ ڈاکٹر عاشق غوری کھانے پینے کے بھی شوقین تھے اور دانتوں کی تکلیف میں مبتلا اپنے بے تکلف دوستوں کو ازراہِ تفنن وہسکی سے غرارے کرنے کا مشورہ بھی دے دیا کرتے تھے۔ شیپرڈبش سرجری میں ان کا کچن لنچ ٹائم پر دعوتِ شیراز کا منظر پیش کرتا تھا جہاں سٹاف کے علاوہ دوست احباب کو بھی دوپہر کی اس مشترکہ دعوت میں شریک کیا جاتا تھا۔ ڈاکٹر غوری صاحب کی موجودگی کے باعث اس سرجری میں ہمہ وقت رونق رہتی۔

اسی سرجری میں ہی میرا ڈاکٹر وصی حیدر، ڈاکٹر سرفراز غوری، رضوان غوری،ظہور صاحب اور علی اصغر سے تعارف ہوا جو غوری صاحب کی ڈینٹل پریکٹس نیٹ ورک کا اہم حصہ ہیں۔ ڈاکٹر عاشق غوری صرف نام کے ہی عاشق نہیں تھے انہیں اپنے کام اور اپنے ملک سے بھی عشق تھا۔ ان کی ایک تمنا یہ بھی تھی کہ پاکستان میں عام لوگوں کے لیے جدید ڈینٹل پریکٹسز کا نیٹ ورک بنایا جائے جہاں انہیں دانتوں کی حفاظت کے لیے آگاہی فراہم کرنے کے علاوہ علاج معالجے کی جدید سہولتیں بھی میسر ہوں۔ 31 جولائی 1936 کو پیدا ہونے والے ڈاکٹر عاشق غوری 1972 میں پاکستان سے لندن آئے اور پھر اس شہر میں پاکستانی کمیونٹی کی پہچان کا ایک اہم حوالہ بن گئے۔ انہوں نے بہت بھرپور اور کامیاب زندگی گزاری۔ اپنے بچوں کی بہترین تربیت کی، انہیں اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ ان کے ایک صاحبزادے سرفراز غوری بھی ڈینٹسٹ ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جو صرف اپنا ہی نہیں بلکہ اپنے خاندان اور عزیزوں کے علاوہ اپنے دوست احباب کا بھی بہت خیال رکھتے تھے اور ہر معاملے میں ان کی مدد اور معاونت کی ہر ممکن کوشش کرتے تھے۔ وہ لندن اور برطانیہ کے مختلف شہروں میں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا جھنڈا اٹھانے اور ان کی شاخیں قائم کرنے والوں کو ہمیشہ تلقین کیا کرتے تھے کہ وہ یونائیٹڈ کنگڈم کی سیاست میں شریک ہوں۔ اس ملک کی پارلیمنٹ میں اپنی نمائندگی کو بڑھائیں۔ اپنے بچوں اور نئی نسل کی اعلیٰ تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور اس معاملے میں کسی قسم کی غفلت سے کام نہ لیں۔

ڈاکٹر عاشق غوری ان لوگوں میں سے تھے جن کی ساری زندگی محنت اور جستجو سے عبارت تھی۔ انہوں نے کسی ستائش اور صلے کی تمنا کیے بغیر خلوص نیت کے ساتھ اپنی پیشہ ورانہ اور سماجی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ ان کی ڈینٹل پریکٹس کو کئی طرح کے اعزازات اور سرٹیفکیٹس بھی ملے اور ان کی سروسز کو مختلف اداروں اور افراد کی طرف سے بھی ہمیشہ سراہا گیا۔ ویسے تو یہ اس دنیا کی اٹل حقیقت ہے کہ کسی کے اس جہان سے چلے جانے کے بعد بھی روزمرہ کا کوئی ی کام نہیں رکتا لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے شعبے اور پیشے میں دوسرے لوگوں کے لیے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ایسے لوگوں کی اس دنیا سے رخصتی کے بعد ان کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ اور طویل مدت تک ان کی جدائی کا احساس ہمیں اپنی گرفت میں لیے رکھتا ہے۔ ڈاکٹر غوری کی زندگی کے سفر کا اختتام نئے سال کے آغاز میں ہوا۔ وہ اس سفر میں جو چراغ روشن کرکے گئے ہیں، ان کی تابناکی سے نئی نسل تادیر استفادہ کرتی رہے گی: ستارہ ٹوٹ کے روشن لکیر چھوڑ گیا۔

جو لوگ 70 کی دہائی میں ہجرت کر کے پاکستان سے برطانیہ آئے تھے انہوں نے اپنی مٹی کی محبت میں وہ قرض بھی اتارے جو ان پر واجب نہیں تھے۔ یہ لوگ جیسا پاکستان چھوڑ کر دیار ِغیر اور اجنبی معاشروں میں آباد ہوئے تھے ہمارے ظالم حکمرانوں نے اس پاکستان کو اپنی تجربہ گاہ بنا کر اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ اب وہاں عوام کی اکثریت بنیادی ضروریات زندگی کے لیے ترس رہی ہے۔ ڈاکٹر عاشق غوری 70 کی دہائی کے پاکستان کو یاد کر کے کہتے تھے کہ کاش ہمارے حکمران ذاتی مفاد کی بجائے ملکی مفاد کو ترجیح دیتے تو ہمارا وطن ترقی اور خوشحالی کی منزل تک پہنچ چکا ہوتا اور ہم امداد لینے والے ملک کی بجائے امداد دینے والے ملک کے طور پر پہچانے جاتے۔ ڈاکٹر عاشق غوری نے لندن میں اپنے پیچھے دوست اور احباب کا ایک وسیع حلقہ سوگوار چھوڑا ہے۔ ہم ڈاکٹر غوری کی جدائی پر سوگوار ضرور ہیں لیکن ہم ہمیشہ آپ کو اچھے لفظوں میں یاد کرتے اور اپ کے مثبت طرزِ زندگی اور کمیونٹی کے لیے کیے گئے اچھے کاموں کوسراہتے رہیں گے۔ آپ نے ایک بھرپور اور شاندار زندگی گزاری۔ آپ ایک بہترین دوست، ذمہ دار باپ، اچھے شوہر اور عمدہ منتظم تھے۔ خالقِ کائنات آپ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے:

میں رفتگاں کے لیے رو نہیں رہا لیکن

مری دعاؤں میں کچھ نام بڑھتے جاتے ہیں (ثنا اللہ ظہیر)