عوام کی تقدیر، آج کن ہاتھوں میں؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 07 / فروری / 2024
آج ہمارے اس بد قسمت خطہ ارضی کی تقدیر کا فیصلہ ہونے جا رہا ہے جو لوگ ہمارے ان انتخابات کی شفافیت پر مختلف النوع سوالات اٹھا رہے ہیں، وہ جائز ہیں اور انہیں ان کے جوابات ملنے چاہیں۔
نہ یہ سوالات نئے ہیں اور نہ جوابات انوکھے ہیں۔ ہمارے اس تضادستان کی پوری پون صدی پر محیط ہسٹری اس نوع کے اعتراضات و تلخ حقائق سے آلودہ ہے سوائے 1970 والے انتخابات کے جن کے نتائج کو تسلیم ہی نہیں کیا گیا کیونکہ جو طاقتوران دنوں اقتدار پر براجمان تھے۔ وہ نئی ابھری خالص عوامی جمہوریت کو انتقال اقتدار کے لیے تیار ہی نہیں تھے۔ وہ حکمرانی کے کیک سے بندربانٹ کے ذریعے اپنا جو بھاری شیئر چاہتے تھے۔ عوامی قیادت وہ دینے کے لیے تیار نہ تھی۔ ناچارملک تڑوالیا لیکن اپنی کٹھ پتلی کو لایا گیا لیکن جب اس نے بھی خود کو سچ مچ کا لیڈر سمجھ لیا تو اُسے لٹکادیا گیا۔ 77 کے انتخابات میں اسی کٹھ پتلی نے دھاندلی کی اخیر کردی پھر بھرپور عوامی ایجی ٹیشن ہوئی۔ اقتدار کے لالچی و حریص سویلین شخص نے بھی خود کو عسکریوں جیسا ہی ہولا ثابت کردکھایا۔ یوں طاقتوروں کو موقع دے دیا کہ وہ پورے کیک پر ہی جھپٹا مارلیں۔
1985 کے انتخابات مخصوص مقاصد کے تحت غیر جماعتی طور پر منعقد کروائے گئے جن میں اس وقت کی جمہوری قیادت نے بائیکاٹ کا اتنا بڑا بلنڈر کر ڈالا جس کے منفی نتائج آج بھی
ہماری قومی سیاست میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔
88 کے انتخابات جن حالات میں منعقد ہوئے ان میں جمہوری قیادت کو جتنی موہوم یا کمزور کامیابی ملی وہ بھی غنیمت تھی مگر ایسی کڑی شرائط لگائی گئیں جن میں انتقالِ اقتدار نہیں شراکتِ اقتدار کا جمہوریت کے حق میں کمزور ترین فارمولا تشکیل پایا۔ مابعد یہی فارمولا 90، 93 اور 97 سے ہوتا ہوا 2002 ، 2008، 2013 اور 2018 تک پہنچا اور جوں کا توں آج 2024 تک جاری و ساری ہے۔ جمہوریت کا جثہ کبھی زیادہ سکڑتا رہا اور کبھی کم۔ 2002 میں تو اخیر ہوگئی تھی لیکن کم بعد میں بھی نہیں رہی۔ جمہوری آواز ہمیشہ دبک کر رہی اور ہماری پروپیگنڈے کی ماری قوم نے بھی اکثر و بیشتر یہی بہتر جانا کہ عسکریت ہی ہماری محافظ ہے، یہ ہیں تو ہم ہیں یہ نہیں تو ہمارا جیسا تیسا تضادتسان بھی نہیں۔ یہ جاگتے ہیں تو ہم سوتے ہیں۔ سارے پراڈکٹس، ساری رونقیں انہی کے دم قدم سے ہیں۔ اس امر میں کوئی اشتباہ نہیں کہ پاپولر سویلین میں بھی جو جتنے سیاسی قد کاٹھ کا ہے، اتنی ہی بات کرسکتا ہے۔ اتنی ہی آواز اٹھا سکتا ہے۔
اس دورانیے میں سویلینز اتھارٹی منوانے کے لیے بی بی اور میاں صاحب کے دو نام ضرور ابھر کر سامنے آئے مگر ایک کو مروادیا گیا اور دوسرے کی خوش بختی یا دانشمندی کہ جیل یاترا جلاوطنی پر اکتفا کیا گیا۔ ان دو کے علاوہ اس درویش کو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہاں ہمیشہ ”قومی مقابلۂ چاپلوساں“ جاری و ساری رہا اور آج بھی اسی آب و تاب کے ساتھ یہی چھایا ہوا ہے۔ آج ہمارے ایک سابق کھلاڑی کو میڈیا یا سوشل میڈیا کے زور سے بڑھا چڑھا کر پیش
کیاجاتا ہے کہ جیسے وہ سویلین اتھارٹی منوانے کے لیے آئینی و جمہوری جدوجہد میں قید و بند کی صعوبتیں اٹھارہا ہے ۔ حالانکہ ایسی بات کہیں سرے سے موجود ہی نہیں۔ اسے بھلا آئین، جمہوریت، ہیومن رائیٹس یا سویلین اتھارٹی سے کیا غرض۔ اس کا اول و آخر ملجا و ماوا ایجنڈا اپنی ذات کے گرد گھومتا ہے۔ اس کی طاقتوروں سے لڑائی محض ایک شخص تیس مار خاں کو وزیراعظم بنوانے کے لیے ہے۔ اگر یہ نہیں تو ملک و قوم جائیں بھاڑ میں۔ ان پرایٹم بم گرے یا مہنگائی کا بم اس کی بلا سے۔ جو اس علمی نکتے یا مسئلہ فیثہ غورث کو نہیں سمجھتے، اس کی نظروں میں وہ سب جانور ہیں۔ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے جب تک اُس کی انا کو تسکین بخشے رکھی، وہ اس کے لیے ڈیڈی کی حیثیت رکھتی تھی۔ مابعد وہ انہیں تاحیات ایکسٹینشن دینے کے لیے بھی تیار ہوگیا تھا۔ مگر تب بگاڑ بہت آگے تک جاچکا تھا۔ وہ جس ہستی سے فیضیاب ہونا چاہتا تھا، اس کے لیے ہر نوع کی الٹی سیدھی چھلانگیں ماریں۔ اندر خانے ایک خوف تھا کہ کہیں وہ حافظ نہ آجائے جسے پیرنی بی بی کی کرپشن پکڑنے پربھونڈے طریقے سے نکال باہر کیا تھا۔ لیکن جب کوئی بندہ اپنی ذات کے خول یا خودپرستی و تکبر کی بیماری میں مبتلا ہوجائے تو پھر اُسے اندر سے یا باہر سے کچھ سجھائی نہیں دیتا، نہ وہ کسی پر اعتماد کرسکتا ہے۔ یوں غلطیوں پر غلطیاں کرتے چلے جاتا ہے۔ یہی کچھ ہمارے اس تیس مار خاں کھلاڑی کے ساتھ ہوا ہے۔
وہ بھی وہ اپنے تئیں یہ زعم پالے بیٹھا ہے کہ وہ عوام میں بے حد مقبول ہے، اس کے کھڑے کیے گئے کھمبوں کو بھی ووٹ پڑ جائیں گے۔ یوں وہ بھاری میجارٹی کے ساتھ جیت کر اپنی عوامی طاقت کا لوہا طاقتوروں سے منوالے گا۔ یہ درویش اپنی سیاسی بصیرت کی بنیاد پر بغیر لگی لپٹی کے واضح لفظوں میں یہاں یہ تحریر کیے دیتا ہے کہ ہمارا یہ جناح تھرڈ سلیبرٹی یا کھلاڑی ہمیشہ کے لیے اقتدار یا حکمرانی سے ان فٹ ہوچکا ہے۔ دوبارہ کبھی وزیراعظم نہیں بن سکے گا۔ رہ گئی اس کی پارٹی بلاشبہ اس کو کچھ سیٹیں مل جائیں گی، بالخصوص کے پی سے۔ مگر ان سے مستفید یہ نہیں کوئی اور ہوں گے۔ ہمارے موجودہ سیاسی منظرنامے پرجیسی چاہے غیرجانبدارانہ نظر ڈالتے ہوئے حقائق کا ادراک کرلیا جائے اس وقت یہ قوم سوائے نوازشریف کے کسی اناڑی یا بچہ جمہورا کو اپنی باگیں نہیں تھماسکتی۔ ہمارے ناعاقبت اندیشانہ جبری و ماورائی مفاداتی فیصلوں نے آج اس ملک کو جس ڈانواں ڈول حالت میں پہنچا دیا ہے۔ پوری دنیا میں ہم بھکاری کی پہچان رکھتے ہیں۔ اس کے بچاؤ کی جیسی تیسی امیداسی منجھے ہوئے سیاستدان اور قومی قائد سے ہیں۔ جس کی شخصیت کو داغدار کرنے کے لیے جعلی پروپیگنڈے کے کیسے کیسے طوفان نہیں اُٹھائے گئے۔ کرپشن اور ملک دشمنی کے کون کون سے گھناؤنے الزامات عائد نہیں کیے گئے۔ انتخابات میں ہرانے کے لیے کیسے کیسے حیلے اور جتن روا نہیں رکھےگئے۔ طاقتوروں سے لے کر انصافی ایوانوں تک کون کون سے پاپڑ نہیں بیلے گئے۔ مگر آفریں ہے عزم و دھن کے پکے اس بظاہربھولے بھالے قومی قائد پر، اس کی استقامت میں کبھی لغزش نہیں آئی۔
کسی اناڑی کی طرح ذاتی انا کی تسکین یا غرور و تکبر کیلیے نہیں، سویلین اتھارٹی منوانے کے لیے، جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کیلیے، اس نے اپنے اقتدار کی قربانیاں دیں جیلیں اور جلاوطنیاں بھگتیں۔ مگر کسی بھی آزمائش میں وہ اپنے قومی تعمیر و ترقی اور پاکستان کی خوشحالی کے ایجنڈے سے دستبردار نہیں ہوا۔ انڈیا دشمنی کی جنونی نعرے بازی و منافرت کو ملک اور عوام دشمنی قرار دیتے ہوئے سچائی اور وسیع تر قومی مفاد پر ڈٹ کر ہمیشہ وہ کیا جس سے اس ملک کی تقدیر بدلے یہاں سے غربت، جہالت، بیماری اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ آج اگر ہم نوازشریف کے ادوار کو الگ کرتے ہوئے اس ملکِ بدنصیب کی حالتِ زار ملاحظہ کریں تو سوائے کھنڈرات کے کچھ دکھائی نہیں دے گا۔ درویش پوری دیانتداری سے یہ سچائی بیان کیے دے رہا ہے کہ نوازشریف اس ملک بدنصیب کی اس وقت واحد امید ہیں، اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ نواز شریف ایک اناڑی کی طرح محض عہدے یا انا کیلیے اس ذمہ داری پر فائز ہو رہا ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔
آج 8 فروری کے روز یہ درویش پوری ذمہ داری سے یہاں یہ تحریر کیے دے رہا ہے کہ اس کی نگاہیں نوازشریف کو چوتھی بار وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے دیکھ رہی ہیں۔ ن لیگ مجموعی طور پرسوا سو سے زائد سیٹیں جیت جائے گی۔ جبکہ مولانا فضل الر حمن، ایم کیو ایم، ق لیگ اور جہانگیر ترین نوازشریف کے اتحادی ہوں گے۔ پی ٹی آئی کے کئی آزاد بھی یہ چاہیں گے کہ وہ کیسے بہتی گنگا سے ہاتھ دھولیں۔ بقیتہ السیف کا مقابلہ قائد حزب اختلاف کیلیے بلاول سے ہوگا، اگرچہ بلاول اس میں جیت جائے گا۔ لیکن بلاول ناکارہ اپوزیشن لیڈر ثابت ہو گا۔ جو تجزیہ جو سوچ رہے ہیں کہ بلاول اسٹیبلشمنٹ کے لیے زیادہ قابل قبول ہوسکتا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ پی پی کے کھیسے میں پاکستان کھپے ڈال دیا جائے۔ ان کا تجزیہ درست نہیں ہے ہنوز دلی دوراست ۔ اس مرتبہ ایم کیو ایم کی پوزیشن نسبتاً بہتر رہے گی اور وہ حسبِ روایت اقتدار کا حصہ بنیں گے۔ پی پی والے پی ٹی آئی کے زوال سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔ پنجاب کو فتح کرنے کا خواب جیسے چکنا چور پہلے تھا، ایسے ہی 8 فروری کو بھی رہے گا۔
ن لیگ کی بدقسمتی ہے کہ اس نے اپنی سولہ ماہ کی حماقتوں سے اپنا اتنا نقصان کیا ہے کہ آج اس کی قیادت میدان خالی ہونے کے باوجود ٹوتھرڈ میجارٹی کا خواب نہیں دیکھ پارہی۔ یہ تو وہ نوازشریف کے نام کو دعا دیں جو اتنی تباہ کاریوں کے باوجود بک رہا ہے اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آرہے ہیں۔ ن لیگ نہ صرف وفاق میں بغیر پی پی کی بیساکھی کے حکومت بنائے گی بلکہ پنجاب اور بلوچستان میں بھی ن لیگ کی حکومتیں بنیں گی۔ سندھ فی الحال پی پی کے پاس رہے گا لیکن کے پی میں دلچسپ کھچڑی پکے گی۔ اس کا جوڑ توڑ خبروں کی زینت بنا رہے گا۔ ہماری دینی سیاست کا حال ان دنوں خاصا بے حال ہے۔ مولانا فضل کی جو پکی سیٹیں ہیں، وہ تو انہیں ضرور مل ہی جائیں گی لیکن ان کا ن لیگ سے سیٹ ایڈجسمنٹ میں محدود رہنا مولانا کے لیے نیک شگون ثابت نہیں ہوگا۔ لبیک والوں کی تمنائیں حسرتیں بن کر ہی رہ جائیں گی۔ جبکہ جماعت اسلامی کی اندرونی صفوں میں یہ سوال ابھرے گا کہ وہ تنہا پرواز سے جوکمائی کرتے ہیں اس سے کہیں بہتر ثمرات وہ اتحادی سیاست سے حاصل کرسکتے ہیں۔ جیسے کہ پہلے کرتے رہے ہیں۔
آج درویش کی نیک تمنائیں بالخصوص احسن اقبال، رانا تنویر حسین، سردار صاحب، شیخ صاحب، خواجہ صاحب اور اپنے چودھری صاحب کیلیے ہیں۔ اس عوامی سلوگن کے ساتھ کہ اس ملک کو بچا لو نواز شریف۔