کثیر الجماعتی حکومت کے طریقہ کارکی ترویج
- تحریر اطہر مسعود وانی
- بدھ 07 / فروری / 2024
یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اب پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کی حکومت کے طریقہ کار کو ختم کردیا گیا ہے۔ مختلف اقدامات سے یہ یقینی بنا دیا گیا ہے کہ کسی ایک سیاسی جماعت کی حکومت قائم نہ ہو سکے۔
بلکہ زیادہ اسمبلی نشستیں لینے والی جماعت حکومت بنانے کے لئے دیگر جماعتوں سے اتحاد قائم کرنے پہ مجبور ہو۔ یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس کا مقصد کیا ہے اور ایسا کرتے ہوئے سیاسی حکومت کو مجبور اور محدود رکھتے ہوئے کس کی حاکمیت اعلی کو برقرار اور مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ کثیر الجماعتی حکومت کا طریقہ کار صرف قومی اسمبلی ہی نہیں بلکہ صوبائی اسمبلیوں کے علاوہ آزاد کشمیر میں بھی اسی طریقہ کار کی ترویج کی جا رہی ہے۔
پاکستا ن میں جنرل ضیا الحق کا مارشل لا لگنے کے بعد آزاد کشمیر میں کئی سال کے تعطل کے بعد 1985 میں الیکشن ہوئے جس میں مسلم کانفرنس کی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعد بھی آزاد کشمیر میں مسلم کانفرنس اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں بنتی رہیں۔ 2010 میں آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کا قیام عمل میں آیا اور اس کے بعد پہلے پیپلز پارٹی اور پھر مسلم لیگ ن کی حکومت بنی۔ پاکستان میں عمران خان کی تحریک انصاف کی حکومت بنوائی گئی اور آزاد کشمیر میں بھی تحریک انصاف قائم کرکے الیکشن میں تحریک انصاف کی حکومت بنا دی گئی۔ عمران خان نے پہلے قیوم نیازی اور پھر ان کی جگہ تنویر الیاس کو وزیر اعظم بنوا دیا۔ تنویر الیاس کی عدلیہ سے نااہلی کے بعد اس وقت کے سپیکر چودھری انوار الحق کو وزیر اعظم بنا دیے گئے اور آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کو چھوڑ کر نئی حکومت میں شامل ہونے والے گروپ، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت قائم کر دی گئی۔
پاکستان کی طرح آزادکشمیر میں ایک سیاسی جماعت کی حکومت ماضی کاقصہ بن چکی ہے۔ آزاد کشمیر میں پہلی بار دو سیاسی جماعتوں اور ایک بڑے پارلیمانی گروپ کے اتحاد کی حکومت قائم کی گئی ہے اور آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال سے اس بات کے گہرے امکانات موجود ہیں کہ آئندہ الیکشن کے بعد بھی آزاد کشمیر میں مخلوط/اتحادی حکومت ہی بنے گا۔ کسی ایک سیاسی جماعت کے لئے اپنی بل بوتے حکومت قائم کرنا تقریباً ناممکن نظر آ رہا ہے۔
پاکستان میں8 فروری کے الیکشن اور الیکشن کے بعد نئی حکومت کے قیام کی صورتحال میں آزاد کشمیر میں وزیر اعظم چودھری انوار الحق کی سربراہی میں قائم پارلیمانی گروپ پر مشتمل نئی سیاسی جماعت کے قیام کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اور اسلام آباد میں وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق کی سربراہی میں ان کے پارلیمانی گروپ کے ارکان اسمبلی کے اجلاس کی اطلاعات ہیں۔ اس گروپ کو 23 ارکان اسمبلی کی حمایت کا دعوی کیا جا رہا ہے۔ غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود چودھری بھی اس نئی سیاسی جماعت میں شامل ہوں گے۔ آزاد کشمیر کی اس نئی سیاسی جماعت کے لئے دو نام زیر غور ہیں جن میں ایک نام تحریک انصاف اور دوسرا نام تحریک انصاف پارلیمنٹیرین ہے۔ اطلاعات کے مطابق آزاد کشمیر کی اس نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان 12 فروری کو کیا جائے گا۔
آزاد کشمیر میں تحریک انصاف کے نام سے ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام سے یہ عندیہ بھی ملتا ہے کہ پاکستان میں استحکام پارٹی کی طرح آزاد کشمیر میں بھی اسٹیبلشمنٹ کی ایک سیاسی جماعت کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ باوجودیکہ آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی جماعتیں اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری کرتی آ رہی ہیں۔ تحریک انصاف کے نام سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ پاکستان میں عمران خان کو منفی کرتے ہوئے تحریک انصاف کی ترویج کی جار ہی ہے تاکہ استحکام پاکستان کی طرح مصنوعی سیاسی جماعتوں کے ذریعے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کو محدود اور مجبور رکھے جانے کو یقینی بنایا جا سکے۔
اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مصنوعی سیاسی جماعتوں کے قیام سے ملک میں سیاسی استحکام لایا جا سکتا ہے تو ایسا خود فریبی اور پاکستان کے لئے ناقابل تلافی نقصانات کی علامت ہے۔ ارباب اختیار کو اس بات کا بھی احساس و ادراک ہونا چاہئے کہ آزاد کشمیر میں مصنوعی سیاسی ماحول کی تشکیل سے حقیقی طور پر ہندوستانی خطرات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔