عوام آئینی حکومت کے لیے ووٹ دیں

قیاسات، اندازوں، شبہات اور  مشکلات کے  بعد پاکستان میں جمعرات 8 فروری کو پولنگ ہورہی ہے۔ بلوچستان میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 28 افراد جاں بحق ہو گئے لیکن ارباب اختیار  انتخابات منعقد کروانے کا تہیہ  کیے ہوئے ہیں۔  الیکشن کمیشن نے  پشین اور قلعہ سیف اللہ میں حملوں کے بعد ملک بھر میں سکیورٹی مستحکم کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا کہ سکیورٹی فورسز ووٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مستعد رہیں۔

انتخابات سے پہلے دہشت  گردی  کی وجہ سے پولنگ والے دن   تشددکے بارے میں تفکرات ضرور موجود ہیں لیکن ان پریشانیوں کے باوجود انتخابات کا انعقاد ملک کے مستقبل کے لیے بے حد ضروری ہے۔  عوام کے علاوہ  طاقت ور حلقوں کو بھی اندازہ ہوچکا ہے  کہ پاکستان کو  آگے بڑھنے کے لیے انتخابات کے ذریعے ایسی حکومت کو اقتدار سونپنا ضروری ہے  جسے عوام کی تائید و حمایت حاصل ہو۔ موجودہ نگران حکومت  کا انتظام  شدید معاشی دباؤ کا شکار ملک کو  سہولت فراہم  نہیں کرسکتا۔ پاکستان   میں معاشی احیا کے لیے عالمی مالیاتی اداروں کے علاوہ دوست ممالک سے مالی امداد اور سرمایہ  کاری کی شدید ضرورت ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ  واضح ہؤا ہے کہ اسلام آباد میں  منتخب اور مستحکم حکومت کے بغیر کہیں سے بھی  مالی تعاون حاصل کرنا دشوار ہوگا۔

اس میں شبہ نہیں ہے کہ پاکستان میں انتخابات  ٹالنے کی بہت سی کوششیں ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب  و خیبر پختون اسمبلیاں اگرچہ گزشتہ  سال جنوری کے دوران میں  ہی توڑ دی گئی تھیں  اور آئینی طور سے ان دونوں صوبوں میں  90 دن کے اندر انتخابات منعقد ہونے چاہئیں تھے۔ یعنی اگر سپریم کورٹ کے حکم اور آئینی طریقہ پر عمل کیا جاتا تو قومی اسمبلی خواہ کام کرتی رہتی لیکن ان دونوں صوبوں میں   انتخابات کے بعد اپریل 2023 کے دوران میں نئی  منتخب حکومتیں کام کرنا شروع کرسکتی تھیں۔  البتہ ملک میں سیاسی  کھینچا تانی کے ماحول میں یہ ممکن نہیں ہؤا اور دونوں صوبوں میں ایک سال سے  زائد مدت سے  ایسی نگران حکومتیں کام کررہی ہیں  جنہیں عوام کی تائید حاصل نہیں ہے اور  نہ ہی  آئین سے ان کا جواز تلاش کیا جاسکتا ہے۔

اسی طرح وزیر اعظم کی حیثیت سے  شہباز شریف نے 9 اگست 2023 کو قومی اسمبلی توڑنے کی ایڈوائس بھیجی تھی جس پر صدر عارف علوی نے اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کردیے تھے۔ آئین کے مطابق   نومبر کے شروع میں انتخابات منعقد ہونے چاہئیں تھے لیکن الیکشن کمیشن کی سستی اور مختلف حیلے بہانوں سے اس مدت میں انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہؤا۔ بالآخر سپریم کورٹ کی مداخلت اور ہدایت پر الیکشن کمیشن اور صدر مملکت نے باہمی مشاورت سے 8 فروری کو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ اس کے باوجود   چند روز پہلے تک انتخابات کے التوا کا امکان ظاہر کیا جاتا رہا تھا اور  بعض سیاسی پارٹیاں بھی  سکیورٹی کی وجہ سے انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کرتی رہی تھیں۔ حتیٰ کہ سینیٹ سے  انتخابات ملتوی کروانے کی قرار داد بھی منظور کروا لی گئی۔ البتہ سپریم کورٹ کے اصرار کی وجہ سے اس تاریخ میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ہوئی۔ اور اب جمعرات کو پاکستانی عوام چاروں صوبوں میں  قومی و صوبائی اسمبلیوں کے  لیے اپنے نمائیندے منتخب کریں گے۔

9  مئی 2023 کو  القادر ریفرنس میں نیب نے تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان کو گرفتار کیا جس کے ردعمل  میں پارٹی نے پر تشدد مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں سے  تحریک انصاف اور ریاستی اداروں میں  تصادم  کی صورت حال میں تحریک انصاف میں توڑ  پھوڑ شروع ہوگئی۔ متعدد لیڈر ازخود پارٹی چھوڑ گئے جبکہ بیشتر نے انتظامیہ کے دباؤ اور گرفتاری کے خوف سے پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کی سربراہی میں قائم ہونے والی پارٹیوں نے تحریک انصاف کے’ بھگوڑوں ‘ کو پناہ دی  جبکہ بہت سے دیگر  لیڈروں نے  بعض دوسری پارٹیوں میں شمولیت اختیار  کرلی۔ اس دوران میں تحریک انصاف کی قیادت سانحہ 9 مئی  کی ذمہ داری قبول کرنے اور اسے سیاسی غلطی ماننے پر آمادہ نہیں ہوئی بلکہ عمران خان نے اسے مسلسل ’جعلی فلیگ آپریشن‘  کا نام  دیا۔ اسی لیے نہ تحریک انصاف پر دباؤ میں کمی دیکھی گئی اور نہ ہی  عمران خان کو کوئی سہولت حاصل ہوسکی۔ گزشتہ  ہفتے کے دوران میں ہی انہیں تین مختلف مقدموں میں تیس سال سے زائد سزائیں اور کروڑوں روپے جرمانہ کیا گیا ہے۔ انہیں انتخابات سے نااہل قرار دینے کا اعلان اس سے پہلے ہی  ہوچکا تھا۔

تحریک انصاف نے  اقتدار سے محروم ہونے کے بعد  گزشتہ ڈیڑھ پونے دو سال کے دوران میں متعدد سیاسی غلطیاں کیں اور  مفاہمانہ سیاسی طرز عمل اختیار نہیں کیا۔ لیکن دوسری طرف ریاستی اداروں نے بھی  پارٹی کی کمر توڑنے اور اس کی سیاسی قوت محدود کرنے کے لیے ریاستی ہتھکنڈے استعمال کرنے میں کوئی کسر اٹھا  نہیں رکھی۔  تاہم  تحریک انصاف کو سب سے بڑا نقصان  انتخابی نشان سے محروم ہونے کی وجہ سے  ہؤا۔  سپریم کورٹ نے  الیکشن کمیشن کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے پارٹی  کو ’بلے‘ کا انتخابی نشان نہ دینے کے فیصلے کی توثیق کردی۔    پارٹی کو عوامی اجتماعات منعقد کرنے، عوامی رابطہ مہم چلانے حتیٰ کہ ورچوئیل اجلاس منعقد کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ اب  تحریک انصاف نے  اگرچہ پاکستان کے تقریباً سب حلقوں سے امیدوار کھڑے  کیے ہیں لیکن    پارٹی کے امیدواروں کو مختلف انتخابی نشان کے ساتھ میدان میں اترنا پڑا  ہے ۔ اس کے علاوہ اس کے امیدوار آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے پر مجبور ہیں۔   اگر تحریک انصاف کی حمایت سے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑنے والے ارکان بہت بڑی اکثریت میں کامیاب نہیں ہوتے اور انتخابات کے فوری بعد  پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان نہیں کرتے تو تحریک انصاف کو خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص  نشستوں میں سے حصہ نہیں مل سکے گا اور بعد میں وہ سینیٹ کے انتخاب میں بھی مشکلات کا سامنا کرے گی۔

یہ اندیشہ بھی موجود ہے کہ اگر تحریک انصاف کے امیدوار بھاری بھر کم تعداد میں کامیاب نہ ہوئے تو آزاد حیثیت میں منتخب ہونے والے بیشتر ارکان  حکومت بنانے والی پارٹی میں شامل ہونے کو ترجیح دیں گے اور تحریک انصاف کی قیادت   قانونی طور سے انہیں پارٹی میں واپس لانے پر مجبور بھی نہیں کرسکے گی۔ایسی صورت میں عمران خان کے نام پر ووٹ لینے والے لوگوں کی وجہ سے ہی تحریک انصاف اور عمران خان کی سیاست کو شدید خسارے کا سامنا ہوگا۔

عام طور سے سمجھا جارہا ہے کہ  مسلم لیگ (ن) کو اسٹبلشمنٹ کی حمایت حاصل ہے کیوں کہ  قیاس ہے کہ یہی پارٹی ملکی معیشت اور سفارتی تعلقات میں استحکام پیدا کرنے کی بہترین صلاحیت رکھتی ہے۔  انتخابی مہم کے دوران میں  مسلم لیگ (ن) کو فراہم کی گئی آسانیوں سے بھی  اس پارٹی کے لیے ریاست کے نرم گوشے کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے۔  عوام میں  یہ تاثر عام ہے کہ  مخالف پارٹی کو  راستے سے  ہٹا کر اور اس کے لیڈروں کو جیلوں میں بند کرکے نواز شریف کو کھلا میدان دیا گیا ہے۔ تاہم  پولنگ والے دن  مسلم لیگ (ن) یاکسی بھی دیگر پارٹی کو اپنے بل بوتے پر  ہی عوام سے ووٹ لینے پڑیں گے۔  اس معاملے میں اسٹبلشمنٹ اس کی کوئی  مدد نہیں کرسکے گی۔ گو کہ سوشل میڈیا  پروپیگنڈے کی حد تک یہ بات ضرور پھیلائی جارہی ہے  کہ اسٹبلشمنٹ کسی بھی قیمت پر تحریک انصاف کوکامیاب نہیں ہونے دے  گی اوراس کے امیدواروں کو  ناجائز طریقوں سے  ہرانے کی کوشش کی جائے گی۔

اسی تاثر کی وجہ سے  تحریک انصاف کے ووٹروں میں مایوسی و پریشانی بھی  دیکھنے میں آئی ہے۔ انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے بھی  عام ووٹر کے لیے یہ طے کرنا مشکل ہوگا کہ کون سا آزاد امیدوار واقعی عمران خان کا حمایت یافتہ ہے اور کون محض ان کے نام کو  کامیابی کے لیے استعمال کررہا ہے۔  لیکن دوسری طرف تحریک انصاف کا سوشل میڈیا نیٹ ورک بدستور بہت مضبوط ہے اور وہ اپنے حامیوں تک امیدواروں ، ان کے انتخابی نشانات اور حلقوں کے بارے میں معلومات پہنچانے کا اہتمام بھی کررہا ہے۔  اس کے باوجود یہ یقینی نہیں ہے کہ تحریک انصاف کا حامی ووٹر اتنی ہی بڑی تعداد میں باہر نکل کر ووٹ دے گا جس کی امید پارٹی قیادت کررہی ہے۔ پاکستانی ووٹر عام طور سے پولنگ والے دن امیدواروں کی طرف  سے سہولتوں کا عادی ہے۔ امیدوار ووٹروں کو گھروں سے لانے  کے علاوہ انہیں پولنگ اسٹیشنوں پر بھی سہولتیں فراہم کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کے متعدد امیدوار بدستور حراست  میں ہیں، اس لیے ان کے لیے ووٹروں کو روائیتی سہولتیں فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف کا ووٹر ملکی انتخابی تاریخ میں نئی روایت قائم کرسکتا ہے اور صرف سیاسی اصول کی سربلندی کے لیے باہر نکل کر تحریک انصاف کے نامزد امیدواروں کو کامیاب کروانے میں کردار ادا کرے گا۔

دنیا  کےمتعدد  مسلمہ جمہوری ممالک میں ووٹ دینے والوں کی شرح  80 فیصد یا اس سے زیادہ ہوتی ہے لیکن پاکستان میں عام طور سے یہ شرح 50 فیصد کے لگ بھگ رہی ہے۔  ملک  کے  12 کروڑ 80 لاکھ ووٹروں میں سے  چوالیس فیصد کی عمر 35 سال سے کم ہے جس کی وجہ سے حالیہ انتخاب میں  نوجوان ووٹر  اہم کردار ادا کریں گے۔ دو کروڑ سے زائد نوجوان پہلی بار ووٹ ڈالیں گے۔  اسی گروہ میں عمران خان کی مقبولیت  سب  سے  زیادہ  بتائی جاتی ہے۔ اگر نوجوان ووٹر بڑی تعداد میں باہر نکلا تو  انتخابات کا نتیجہ اندازوں سے برعکس ہوسکتا ہے۔ تاہم اس سے قطع نظر کہ  کون سی پارٹی انتخاب جیتے گی، کوئی بھی جمہوری نظام ووٹروں کی شرکت سے ہی کامیاب ہوتا ہے۔  جمہوری ملکوں میں اسی لیے ووٹ ڈالنے کو قومی فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ یعنی اگر شہری ملک میں  عوام کی منتخب حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں تو وہ اس نظام کی کامیابی میں ووٹ ڈال کر حصہ دار بھی بنتے ہیں۔

پاکستانی ووٹروں کو بھی یہی پیش نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی کہ  انہیں جمہوریت کے استحکام اور ملک میں آئینی حکومت کے قیام میں اپنا کردار قومی فرض سمجھ کر ادا کرنا چاہئے۔۔ ان اندیشوں کو  خاطر میں لانا درست نہیں کہ ایک ووٹ سے کیا فرق پڑے گا یا یہ کہ ہوگا تو وہی جو درپردہ قوتوں کی خواہش ہوگی۔ غیر جمہوری طاقتیں اسی وقت سیاسی معاملات پر اثراانداز ہوسکتی ہیں  جب عوام اسے فعال بنانے میں کردار ادا کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔  جمعرات کو انتخابی نتائج کا فیصلہ اس  حقیقت سے نہیں ہوگا کہ اسٹبلشمنٹ  کس جماعت کی حمایت کررہی ہے بلکہ   یہ فیصلہ اس بات سے ہوگا کہ  ملک کے ووٹر کتنی بڑی تعداد میں  ووٹ ڈالنے کے لیے  باہر نکلتے ہیں۔

  یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر  اس بار2018  کے  52 فیصد کے مقابلے میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح   ساٹھ ستر فیصد  تک پہنچ گئی تو ملک کے بیشتر حلقوں کے نتائج  قبل از وقت قائم کیے گئے اندازوں سے مختلف ہوں گے۔  جدید دور میں اسی طریقے سے انقلاب برپا کیا  جاسکتا ہے اور تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔