الیکشن 2024: ناتواں جمہوریت کے مفاسد؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 09 / فروری / 2024
الیکشن 2024 کے پرامن اور منصفانہ انعقاد پر پاکستان الیکشن کمیشن اور ملک کے جمہوریت نواز تمام طبقات کو مبارک ہو ۔ بلاشبہ ان انتخابات میں خلاف توقع کسی ایک پارٹی کو سمپل میجارٹی حاصل نہیں ہوسکی۔ تینوں صوبوں میں تینوں قیادتوں کو حصہ بقدر جثہ مل گیا ہے۔
جس طرح سندھ میں پی پی کی حکومت بنے گی اسی طرح پنجاب میں ن لیگ کی اور کے پی میں بیرسٹر گوہر خاں کی نگرانی میں پی ٹی آئی کے آزادوں کی حکومت تشکیل پائے گی۔ جبکہ بلوچستان میں وفاق کی طرح مخلوط حکومت بنے گی۔ یہ امر بھی واضح رہے کہ ن لیگ اگرچہ توقعات کے برعکس سمپل میجارٹی حاصل نہیں کرسکی لیکن نئی پارلیمنٹ میں وہ پاکستان کی سب سے بڑی پاپولر پارٹی کی حیثیت سے ضرور ابھری ہے۔
ایسے میں جہاں یہ امکان موجود ہے کہ ن لیگ پی پی کو ساتھ ملا کر مخلوط حکومت بنائے وہیں یہ گنجائش بھی نکالی جاسکتی ہے کہ پی پی، پی ٹی آئی کے ساتھ ایکا کرلے۔ لیکن اس کا امکان کمتر ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ ن لیگ زیادہ سے زیادہ آزاد لوگوں کو ساتھ ملا کر وفاق میں حکومت بنالے۔ اگر پی پی کے ساتھ مل کر حکومت بنائی تو ظاہر ہے اس میں اگر نوازشریف وزیراعظم بنتے ہیں تو صدر، آصف زرداری کو بنانا ہوگا۔ اغلب امکان یہی ہے کہ نواز شریف اپنے روایتی اتحادیوں اور آزادوں کو ساتھ ملا کر وفاق اور پنجاب میں حکومتیں بنائیں گے۔
درویش ان انتخابی نتائج کا ایک مثبت اور ایک منفی پہلو واضح کرنا چاہتا ہے۔ مثبت پہلو یہ ہے کہ ان انتخابی نتائج کے بعد کسی بھی پارٹی کے پاس یہ گنجائش نہیں رہی ہے کہ وہ انتخابات کی شفافیت پر معترض ہوتے ہوئے دھاندلی کے روایتی الزامات عائد کرے۔ اور انہیں سبوتاژ کرنے کے لیے کسی احتجاجی تحریک کا ڈول ڈال سکے۔ اگرچہ عبوری سیٹ اپ یا الیکشن کمیشن پر اس نوع کے اعتراضات کیے جاسکتے ہیں کہ انہوں نے دن بھر غیر ضروری طور پر کیوں موبائل فونز اور انٹرنیٹ سروسز بند کیے رکھیں جس سے نہ صرف سیاسی لوگوں کو بلکہ عام ووٹروں کو بھی سخت مشکلات پیش آئیں۔ اور ووٹوں کو دور دراز پھینکا گیا۔ انتخابی عملے کی مشکلات بھی واضح ہیں۔ یوں انتخابی نتائج بروقت پہنچانے میں الجھنیں درپیش رہیں۔ ان کی وجہ سے شرارتی اذہان صحافیوں نے انتخابی شفافیت پر بڑی بڑی انگلیاں اٹھانا شروع کردیں۔ انہیں ذرا ادراک نہیں اس کے کیا مفاسد و نقصانات ہوسکتے ہیں۔
اگر نوازشریف کی جیت کا اعلان تاخیر سے ہوا ہے تو اس کی چبھن ہے لیکن اگر یہی تاخیر بلاول یا کسی ن مخالف کی جیت میں ہوئی تو درست۔ یہی لوگ دن رات آسمان سر پر اٹھائے ہوئے تھے کہ یہ الیکشن نہیں ہے سلیکشن ہونے جا رہی ہے۔ جبکہ شفافیت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اتنے آزاد جیت گئے ہیں۔ ن لیگ کے گڑھ لاہور میں نہ صرف مخالف امیدواران کو اچھے خاصے ووٹ ملے بلکہ حافظ نعمان کے بالمقابل میاں اظہر اور سعد رفیق کے بالمقابل لطیف کھوسہ جیت گئے۔ یہ بھی واضح رہے کہ جیتنے والے تمام آزاد، پی ٹی آئی والے نہیں ہیں۔ بہت سے دیگر بھی ہیں نیز مخصوص آزادوں پر بھی قانونی بندشیں تو نہیں ہیں، وہ نو تشکیل پاتی حکومت کا حصہ کیوں نہیں بن سکتے ہیں۔
نوازشریف کو کہا تھا کہ اپنے بھائی، سمدھی اور داماد سے فاصلہ رکھیں مگر انہوں نے احتیاط نہیں برتی بلکہ کھلاڑی کا جو گند انہوں نے اٹھایا تھا۔ میاں صاحب نے اسے اون کرلیا۔ اور عوامی رابطہ مہم میں بھی کمی رہی، پہلے والے بیانیے پر سیاہی پھیری اور متبادل کوئی جاندار بیانیہ دینے سے بھی قاصر رہے۔ گراس روٹ لیول پر اپنے حمائیتیوں کو قریب لانے اور ساتھ جوڑنے کیلیے بھی کوئی امنگ نہ تھی۔ 2024کے انتخابی نتائج کا منفی پہلو یہ ہے کہ کسی بھی پارٹی کو سمپل میجارٹی نہ ملنے سے یہاں ایک مضبوط و توانا جمہوری حکومت تشکیل نہیں پاسکے گی۔ جوکہ اس وقت سیاسی عدم استحکام اور زبوں حال و بدحال ڈوبتی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے ضروری تھی۔ ابھی عبوری سیٹ اپ سے پہلے سولہ ماہ جس ناتواں مخلوط حکومت کا تجربہ کیا گیا ہے۔ اس کی قیمت نہ صرف ن لیگ کو بلکہ خود اس ملک بدنصیب اور اس کی تباہ حال معیشت کو اٹھانی پڑی ہے۔ جب مضبوط و مستحکم سیاسی و جمہوری حکومت نہیں بنتی تو طاقت کا توازن غیر منتخب طاقتور قوتوں کے پاس چلا جاتاہے۔ نتیجتاً قومی پالیسی سازی عوامی امنگوں کی بجائے طاقتوروں کی مرضی سے طے پاتی ہے۔ خالص عوامی مفاد میں بڑے بڑے اقدامات دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ سیدھے لفظوں میں ہائبرڈ سسٹم کے تحت وزیراعظم سے بڑھ کر حافظ صاحب تگڑے ہوں گے لیکن اگر یہ سب لوگ مل بیٹھ کر یہ فیصلہ کرلیں کہ ہم لوگوں نے قومی و عوامی مفاد کو ہرچیز پر فائق رکھنا ہے اور ایک دوسرے کو اعتماد میں لے کر اس طرح آگے بڑھنا ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر حرف نہ اٹھے تو ایک نوع کے چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ جمہوریت کی گاڑی آگے بڑھ سکتی ہے۔
آخر ویسٹ میں بھی تو ایسی مثالیں موجود ہیں کہ صرف ایک سیٹ کی میجارٹی کے ساتھ جمہوریتیں اپنا عرصہ خوش اسلوبی سے پورا کرلیتی ہیں۔ اصل چیز جس کی یہاں ضرورت ہے، وہ آئین کی مطابقت میں نہ صرف شخصی بلکہ ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹ کا احترام ، رواداری و برداشت کا جذبہ۔ ان انتخابی نتائج نے یہ بھی سمجھایا ہے کہ اگر آپ سچی لگن سے کھڑے ہوں تو مقتدرہ بھی آپ کو آؤٹ نہیں کرسکتی نہ ہی اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھاسکتی ہے۔ عوامی طاقت کے سامنے کسی کی اتھارٹی نہیں۔ کے پی میں پختون بھائیوں نے یہ جتلادیا ہے کہ دوستی اور وفا نبھانا کسے کہتے ہیں۔ ولی خاں صاحب کیا خوب کہا کرتے تھے کہ دوستی میں پختون کا ہاتھ کٹ سکتا ہے چھوٹ نہیں سکتا۔ البتہ سنٹرل پشاور سے نورعالم صاحب کی جیت پر سب سے زیادہ خوشی ہوئی ہے۔ یہی وہ شخصیت ہے جس کی حق گوئی و بے باکی سے یہ سارا ہنگامہ اٹھ کھڑے ہوا تھا۔ دوسری بڑی خوشی راجہ سلمان کے بالمقبل عون چوہدری کی جیت پر ہے۔
درویش کے لیے خوش کن امر یہ بھی ہے کہ اس کے تقریباً تمام دوست اور مہربان ان انتخابات میں کامیابی سے سرخرو ہوئے ہیں۔ احسن اقبال، رانا تنویر حسین، رانا احمد عتیق، سردار ایاز صادق، ملک برادران، خواجہ عمران نذیر، خواجہ سلمان رفیق، پیراشرف رسول، چوہدری حسان ریاض جیسے پیارے دوستوں کو مبارک ہو۔ ن لیگ والے پریشان نہ ہوں، کے پی میں جو صورتحال تھی وہ پہلے ہی کھچڑی کی طرح ان کے سامنے تھی۔ البتہ پنجاب اور وفاق میں حکومت انہی کی بننے جارہی ہے۔
تمام سیاسی جماعتوں اور قیادتوں کو لازم ہے کہ جمہوریت کے بدیہی تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے دل بڑا کریں، حوصلہ رکھیں ایک دوسرے کی جیت پر مبارکباد دیں۔ بالخصو ص ہارنے والے جیتنے والوں کو اور عہد کریں کہ ہم نے بڑی بڑی چھوڑنے کی بجائے محنت لگن اور خدمت سے عوام کا دل جیتنا ہے۔