انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ میں مدرسہ گرائے جانے پر ہنگامے، پانچ ہلاک

  • ہفتہ 10 / فروری / 2024

انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے شہر ہلدوانی میں جمعرات کی شام مبینہ طور سے غیر قانونی مسجد اور مدرسے کو منہدم کیے جانے کے خلاف ہونے والے مظاہروں اور تشدد کے واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

ہلدوانی کے علاقے بنبھول پورہ میں ہنگامہ آرائی کے ایک دن بعد جمعہ کو علاقہ سرکاری اہلکاروں کا مرکز بنا رہا اور وزیر اعلیٰ، انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران ہلدوانی پہنچے اور حالات کا جائزہ لیا۔ ہلدوانی میں جمعرات کی رات سے کرفیو نافذ تھا جس میں سنیچر کی صبح نرمی کر دی گئی اور اب کرفیو بنبھول پورہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں تک محدود ہو گیا ہے۔

ضلعی پولیس کا کہنا ہے کہ ہلدوانی تھانہ کے علاقے میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کے دوران پتھراؤ شروع ہو گیا تھا۔ یاد رہے کہ ہلدوانی کے علاقے بنبھول پورہ میں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر بنائے گئے مدرسہ کو منہدم کرنے کے دوران مقامی لوگوں نے پتھراؤ شروع کر دیا تھا جس کے بعد آگ بھی لگائی گئی۔ میونسپل ملازمین اور پولیس اہلکار مدرسہ کو ہٹانے کے کام میں مصروف تھے۔

کچھ صحافی جو اس واقعہ کی کوریج کرنے گئے تھے وہ بھی زخمی ہوئے۔ ایسے ہی ایک صحافی نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا تھا کہ جمعرات کو کسی طرح ان کی جان بچ گئی۔ نینیتال ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ وندنا سنگھ نے کہا کہ ’ہجوم نے کئی گاڑیوں کو جلا دیا، زیادہ تر موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کیا گیا تاہم ان کی صحیح تعداد ابھی واضح نہیں ہے۔‘

پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک مخصوص طبقے کی طرف سے پتھراؤ اور آتش زنی کی گئی جس کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال بگڑ گئی اور عام لوگوں کے ساتھ ساتھ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچا۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے فسادیوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا تھا۔

نینی تال ضلعے کی ڈی ایم وندنا سنگھ نے کہا کہ ہلدوانی میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے جو اگلے احکامات تک جاری رہے گا۔ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مرکزی سیکورٹی فورسز کی چار بٹالین کے ساتھ ساتھ قریبی اضلاع سے پولیس فورس کو جمعرات کی شام کو ہلدوانی بلایا گیا۔

جس علاقے میں یہ کارروائی جاری تھی وہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے اور وہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے۔

لوگوں نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ جمعرات کی شام جیسے ہی مدرسہ کو گرانے کا کام شروع ہوا اسی وقت بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر آگئے اور ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ اس کے بعد پتھراؤ شروع ہوا جس کے جواب میں پولیس نے اپنی کارروائی کی۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مشتعل ہجوم نے مقامی تھانے پر حملہ کیا اور پولیس کی کئی گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ہے۔