عجب الیکشن کی ’غصب‘ کہانی
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 10 / فروری / 2024
جو جیتا وہی سکندر۔ محاورے کی حد تو یہی پڑھا اور سنا لیکن عملاً بہت کچھ اس کے برعکس دیکھا۔ میر تقی میر کے بقول شکست و فتح تو نصیب کی بات ہے لیکن اصل نکتہ یہی ہے دل ناتواں نے مقابلہ خوب کیا یا نہیں ۔ کچھ مہم جو اس فارمولے پر عمل پیرا دیکھے کہ جو بڑھ کر اٹھا لے مینا اسی کا ہے۔
جیت کی سکندری اپنی جگہ لیکن اگر جیت کا دامن اپنی دریدگی کا خود اعلان ہو تو ایسی جیت گلے کا ہار بھی بنتے دیکھی۔ البتہ سیاست کو اس سے مستثنیٰ پایا۔ جس الیکشن کا انتظار تھا بالاخر اٹھ فروری کو وہ الیکشن منعقد ہو گیا۔ اس الیکشن سے پہلے کیا کچھ ہوا۔ کیا کیا سیاسی داؤ پیج نہ ازمائے گئے اور کیا کیا محیر العقول قانونی کتر بیونت نہ ہوئی۔ تاہم جیسا تیسا بھی تھا، آٹھ فروری کو الیکشن منعقد ہو گیا۔
عین انتخاب کے دن حسب توقع انٹرنیٹ کی رسائی میں رخنہ اندازی ہوئی، لوگوں کو اپنے پولنگ اسٹیشن ڈھونڈنے، پولنگ اسٹیشن کا راستہ ڈھونڈنے اور احباب سے رابطہ رکھنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاج ہوا تو لگا بندھا جواب تھا کہ سیکیورٹی کا معاملہ ہے، کیا کہہ سکتے ہیں! ایک گیت کی حد تک تو سنا تھا کہ
دل کا معاملہ ہے
لیکن ہماری سیکیورٹی کا معاملہ بھی دل کا سا ہے معلوم نہ تھا۔ ہم ایسے سادہ لوح دل کو کچھ کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی سیکیورٹی پر کوئی حرف آنے پر تیار ہیں۔ تاہم عین ایسے مواقع پر انٹرنیٹ کی بندش اس امر کا واضح اشارہ دیتی ہے کہ یہ بندش بے سبب نہ تھی۔ اب اتفاق ایسا ہے کہ عوام اور ووٹرز آنکھیں رکھتے ہیں، کان رکھتے ہیں ،جانتے بوجھتے ہیں، کچھ تھوڑا بہت دنیا سے بھی رابطہ رکھتے ہیں۔ لہذا اس طرح کا کمزور جواز اب کسی کے دل پہ اعتماد بن کر نہیں اترتا بلکہ شکوک کی ایک نئی لکیر چھوڑنے کا باعث بنتا ہے۔
انسان اپنے تجربات سے سیکھتا ہے ۔ جب فیصلہ ساز اپنی مجبوریوں اور ضرورتوں کی عینک سے منظر کو دیکھتے ہیں تو انہیں شاید یہی ایک آسان حل نظر آتا ہے کہ انٹرنیٹ بند کر دیا جائے۔ انٹرنیٹ رابطے کی ایک ضرورت تو ہے ہی لیکن اس کے علاوہ ملکی معیشت کے بہت سے سیکٹرز کے روزمرہ امور اور بیرونی دنیا کے ساتھ معاملات انٹرنیٹ کی موجودگی میں طے پاتے ہیں۔ جن بزرجمہروں نے یہ یک طرفہ فیصلہ کیا کہ انٹرنیٹ بند کر دیا جائے، انہیں ایک لمحے کے لیے بھی یہ احساس نہ ہوا کہ آن لائن ٹیکسیوں، ان لائن فوڈ بزنس، آن لائن ای کامرس اور ائی ٹی کے میدان میں ہمہ وقت گلوبل مارکیٹ سے تعلق اور سروس پر مامور کمپنیز پر زبردستی بلیک اؤٹ ٹھونس کر ان کے کاروبار اور کاروباری اعتماد کو کس قدر نقصان پہنچتا ہے!
چند روز قبل ایک آن لائن سیاسی جلسے کے موقع پر انٹرنیٹ بند کیا گیا۔ شنید ہے کہ آسٹریلیا کی ایک بہت بڑی کمپنی کے لیے پاکستانی کی ایک کال سینٹر کمپنی کو کانٹریکٹ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ کیونکہ آسٹریلین کمپنی کو اس اچانک رخنہ اندازی سے کاروباری نقصان ہوا۔ مزید نقصان برداشت کرنے کی بجائے آسٹریلین کمپنی نے یہ بزنس کسی اور ملک میں شفٹ کرنے کا نوٹس دے دیا۔ سیکیورٹی کی اصلی یا مصنوعی مجبوریاں اپنی جگہ لیکن انٹرنیٹ صرف سیکیورٹی کا پائے تسمہ نہیں، بلکہ ملکی معیشت اور بیرون ملک ای کامرس کے رابطے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انٹرنیٹ کی بندش سے بیرونی دنیا کو ملک کے انفراسٹرکچر پر بے اعتمادی کا پیغام جاتا ہے ۔ اندرون ملک ہزاروں لاکھوں لوگ جو ہر آن لائن رابطوں کی وجہ سے اپنے کام کاج نمٹاتے ہیں ان پر بھی یہ اچانک افتاد انہیں بدمزہ اور بددل کرتی ہے جو یقینا ریاست کے لیے اچھا شگون نہیں۔
ان انتخابات میں نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد پہلی بار ووٹ ڈالنے کی اہل ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ گزشتہ چند سالوں میں سوشل میڈیا کی لامحدود رسائی اور استعمال نے سیاسی جماعتوں اور ووٹرز کے درمیان ایک نئی طرح کا ابلاغی تعلق پیدا کیا ۔ بہت سے ماہرین اس طرف اشارہ کر رہے تھے کہ اس بار انتخابات میں اگر نوجوانوں کی اکثریت ووٹنگ کے لیے باہر نکلی تو بہت سے نتائج حیران کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ عین الیکشن کے دن نوجوان ووٹرز کی بڑی تعداد نکلی اور اس کا حیران کن اثر انتخابی نتائج پر سب نے دیکھا۔
یوں تو وطن عزیز میں سب ادارے بالعموم انحطاط پذیر ہیں۔ مرکزی، صوبائی یا مقامی سطح پر وقت کے ساتھ ساتھ بالعموم انحطاط اور زوال سائے کی طرح ساتھ ساتھ ہے ۔ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرنا اور انتظامات الیکشن کمیشن کے ذمے ہے۔ الیکشن کمیشن الیکشن کی تاریخ کے اعلان کی صورت میں گو مگو کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے دانستہ گونگے بہرے کا کرادر ادا کیا، اس سے عوام کا الیکشن کمیشن کے ادارے پر رہا سہا اعتماد مزید کمزور ہوا۔ باقی کسر انتخابات کے نتائج ترتیب دینے کے ’شاہکار‘ نے پوری کردی۔
انتخابات فیصلہ کن معرکہ ہونے کے ناطے عوام کی دلچسپی لازم ہے ۔ مین سٹریم اور سوشل میڈیا کے لیے الیکشن ایک بہترین کاروباری موقع ہوتے ہیں۔ الیکشن سے کئی روز قبل تمام بڑے نیوز چینلز کے ہاں رنگین اور شاندار الیکشن ہیڈ کوارٹر یا الیکشن سیل بنا دیے گئے۔ آٹھ فروری سے دو دن قبل ہی 24 گھنٹے نشریات میں تجزیہ کار اپنے اپنے تبصروں کی گوہر افشانیاں کرنے لگے ۔ ایسے ایسے تجزیے اور اندازے سننے کو ملے کہ خدا کی پناہ! خواہش خبر تھی اور خیال تجزیہ۔ عوام شام ڈھلے ہی نتائج کے لیے ٹی وی سکرینوں کے سامنے بیٹھ گئی تاہم گھنٹوں انتظار کے بعد محسوس ہوا کہ نتائج کہیں اٹک گئے ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کے اپنے وعدے کے باوجود شام ڈھلے نتائج ترتیب دینے اور اعلان کرنے میں تیزی آنے کی بجائے پراسرار سستی غالب آنا شروع ہو گئی۔
انٹرنیٹ کی بندش کا معاملہ شکوک کی دھند کو مزید گہرا کر گیا لیکن الیکشن کمیشن نے کامل بے نیازی اور بہرے پن کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ پاکستان کی آبادی کا بیشتر حصہ بڑے شہروں اور قصبات پر مشتمل ہے، انٹرنیٹ کا راںطہ ہمہ وقت ایک ایک پل کی خبر رکھتا اور دیتا ہے۔ ایسے میں کون مانے گا کہ ان شہروں اور قصبات سے الیکشن کمیشن کے اپنے وعدے کے مطابق رات دو بجے تک نتائج حاصل نہ ہوسکے۔ یوں اعلان کرنے کی یہ ڈیڈ لائن پراسرار سستی اور سکتے کی نذر ہو گئی۔ جمعہ کا دن طلوع ہوا تو کیفیت یہ تھی کہ درجن بھر قومی اسمبلی کی نشستوں کے نتائج کا ہی باضابطہ اعلان ہو سکا۔ بقیہ نشستوں کے نتائج بعد میں دھیرے دھیرے سامنے لائے گئے لیکن اس دوران بد اعتمادی بہت گہری ہو چکی تھی۔
سوشل میڈیا پر انٹ شنٹ خبروں، دعووں اور سازشی تھیوریوں نے وہ طوفان مچایا کہ سجھائی نہیں پڑتا تھا کون سچ کہہ رہا ہے، کون چھوٹ کہہ رہا ہے ؟ کون سا الزام سچائی پر مبنی ہے اور کون سا الزام پروپیگنڈا ؟
الیکشن کمیشن کے اس طرز عمل نے اپنے ادارے کی رہی سہی ساکھ کو خاک میں ملا کے رکھ دیا۔ الیکشن کے روز بہت حد تک شفاف اور پرسکون ووٹنگ کے باوجود نتائج کی ورکنگ میں تاخیر اور عدم شفافیت نے الیکشن کے تمام عمل پر اعتماد کو خود ہی روند کر رکھ دیا۔۔ رہا آئیندہ کا منظر نامہ، ایسے بے اعتمادے الیکشن کی کھوکھ سے استحکام کی توقع کیا رکھنی۔
نئی حکومت کی پرواز ناہموار رہنے کا اندیشہ ہے۔ احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ پرواز کے آغاز پر بقول ائیر لائنز کی ہدایات، سیٹ بیلٹ باندھ لیجئے، پرواز اچانک ناہموار ہو سکتی ہے۔۔۔ ایک اور سفر پر خوش آمدید۔