کیا پاکستان میں جمہوریت ناکام ہو رہی ہے؟
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 10 / فروری / 2024
پاکستان میں انتخابات کے بعد سماجی اور سیاسی سطح پر الزامات اور افواہ سازی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد ملک کی راہ متعین کرنے اور حکومت سازی کے بعد معاشی بحالی، سیاسی استحکام اور عوامی مسائل حل کرنے کی منصوبہ بندی کی بجائے ، اس بات پر توجہ مرکوز ہے کہ کس پارٹی کو ہرا دیا گیا اور کسے جان بوجھ کر جتوایا گیا ہے۔ جمہوریت میں ووٹ کے ذریعے اپنے نمائیندے منتخب کرکے حکومت قائم کرنا بنیادی حق کی حیثیت رکھتا ہے لیکن یہ ’حق‘ اسی وقت مؤثر اور فعال ہوسکتا ہے جب ہر کسی کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔
انتخابات میں سب سے زیادہ سیٹیں لینا ہی بہت بڑا معرکہ نہیں ہوتا بلکہ اس اکثریت کی بنیاد پر ذمہ داری کا مظاہرہ اور سیاسی استحکام و پر امن انتقال اقتدار میں کردار ادا کرنا بھی اہمیت رکھتا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں انتخابات کے بعد سے بزعم خویش سب سے زیادہ سیٹیں جیتنے والی تحریک انصاف ، اس پر مطمئن نہیں ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود لوگوں نے بڑی تعداد میں اسے ووٹ دیے ہیں اور حکومت سازی نہیں تو پارلیمانی نظام میں اسے مؤثر طریقے سے کردار ادا کرنے کا ایک بار پھر موقع دیا ہے۔ بلکہ وہ اس پر شکوہ کناں ہے کہ دوسری پارٹیاں کیسے کامیاب ہوگئیں۔
پارٹی لیڈروں کا اصرار ہے کہ انہیں تو ڈیڑھ سو سے پونے دوسو سیٹیں ملی ہیں۔ وہ اس سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ گویا تحریک انصاف کے لیڈر صرف اس وقت خوش و مطمئن ہوسکتے ہیں جب باقی پارٹیوں کی جیتی ہوئی نشستیں انہیں دلوادی جائیں۔ اور پورا نظام یہ کہتے ہوئے گردن جھکا دے کہ چونکہ آپ کے پاس سوشل میڈیا پر جھوٹ پھیلانے کی بہت زیادہ صلاحیت ہے اور آ پ کا لیڈر اشتعال انگیزی کا نئے سے نیا ہتھکنڈا اختیار کرنے کے طریقے جانتا ہے ، اس لیے باقی سب سیاست دان اور اسٹبلشمنٹ ، دست بستہ عمران خان کا ’حق حکمرانی‘ قبول کرلیں ۔ اس کے بعد عمران خان جس کے ساتھ جو سلوک روا رکھنا چاہیں، ’مدینہ ریاست‘ کے نام پر اسے جائز اور منصفانہ سمجھا جائے۔ اس سیاسی رویہ کے ساتھ کوئی جمہوریت کام نہیں کرتی۔ جس جمہوری نظام میں ایک دوسرے کو قبول کرنے اور مل جل کر کام کرنے کی صلاحیت مفقود ہو، اسے جمہوری کہنا بجائے خود جمہوریت کی توہین ہے۔
8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخابات کے بارے میں بے شمار اعتراضات کیے جاسکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی نااہلی اور انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر سے بدگمانیوں میں اضافہ ہؤا ہے لیکن سیاسی لیڈروں کا کام ان بدگمانیوں کو ختم کرکے قوم کی قیادت کرنا ہونا چاہئے۔ انہیں اپنے مختصر المدت سیاسی مفاد کے لیے پہلے سے پریشان کن صورت حال کو خراب کرنے کی بجائے ، اس میں سے اصلاح کا پہلو نکالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ملکی تاریخ میں اسٹبلشمنٹ حکومت سازی کے عمل میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر رہی ہے۔ سیاسی پارٹیاں باری باری عسکری قیادت کا دست و بازو بن کر اس طریقہ کو مستحکم کرتی رہی ہیں۔ اب یہ دعویٰ یا توقع کرنا کہ ایک ہی انتخاب میں اور ایک ہی جست میں 70 سال پر پھیلی ہوئی خرابیاں ٹھیک ہوجائیں گی ، دیوانے کے خواب جیسا ہوگا۔ نام نہاد ’حقیقی آزادی‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے اگر لوگوں کو آپس میں لڑانے کی ایک نئی مہم شروع کی جائے گی اور سیاسی فساد میں اضافہ ہوگا تو جان لینا چاہئے کہ اس سے اسٹبلشمنٹ کمزور ہونے کی بجائے مزید توانا ہوگی۔ اور قوم نے 8 فروری کوجمہوری عمل میں جو ایک قدم آگے بڑھایا ہے، اسے ناکارہ کیا جائے گا جس کے بعد ملکی نظام کو واپس جمہوریت کی طرف لانے میں طویل مدت درکار ہوگی۔
انتخابی نتائج میں تینوں بڑی پارٹیوں کو مناسب حصہ ملا ہے۔ انتخابات سے پہلے تحریک انصاف کے خلاف روا رکھے گئے غیر منصفانہ طریقوں سے انکار ممکن نہیں ہے۔ نہ ہی اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کے لئے سیاسی راستہ دشوار بنانے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ان حالات میں قومی اسمبلی میں 90 سے100 کے درمیان نشستیں جیت کر تحریک انصاف نے ایک اہم سیاسی سنگ میل عبور کیا ہے۔ اسے عمران خان یا تحریک انصاف کی کامیابی کی بجائے عوامی شعور کی کامیابی کہنا چاہئے جنہوں نے سوچ سمجھ کر ووٹ ڈالے اور ایسے لوگوں کو منتخب کرایا جو بظاہر اسٹبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔ ملک کا ووٹر اس سے زیادہ کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا۔ ملک کا آئین اور جمہوری طریقہ انتخاب اسے صرف یہی موقع دیتا ہے۔ پاکستانی عوام نے اسے بھرپور طریقے سے استعمال کرکے کسی حد تک اپنی سیاسی بلوغت کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن اگر ایک یا زیادہ سیاسی گروہ ان نتائج کی بنیاد پر مفاہمت کا راستہ ہموار کرنے کی بجائے ، تصادم کا ایک نیا باب کھولنا چاہیں گے تو یہ طریقہ عوامی حکمرانی کی بجائے، انتخابی طریقہ کار کو ناکارہ بنانے اور غیر منتخب عناصر کو مضبوط کرنے کا راستہ ہموار کرے گا۔ یعنی عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے جن طاقتوں کو کمزور کیا ہے، ان کے منتخب کیے ہوئے لیڈر اپنی انا و گھمنڈ میں انہی قوتوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنیں گے۔
یہ کہنا مقصود نہیں ہے کہ 8 فروری کو ہونے والے انتخابات سو فیصد شفاف اور منصفانہ تھے اور اس دوران میں کسی قسم کی کوئی بے قاعدگی دیکھنے میں نہیں آئی۔ پاکستان میں کبھی بھی کوئی انتخاب مکمل طور سے شفاف نہیں ہوئے۔ پاکستان جیسا سماجی نظام اور تعلیمی استعداد رکھنے والے کسی بھی ملک میں انتخابات کی شفافیت سو فیصد نہیں ہوسکتی۔ حتی کہ ہمارا ہمسایہ ملک بھارت جسے دنیا بھر میں سب سے بڑی جمہوریت مانا اور لکھا جاتا ہے، وہاں منعقد ہونے والے انتخابات میں بھی نعرے، زور ذبردستی، دھاندلی اور سرکاری اثر و رسوخ کے کئی ہتھکنڈے بروئے کار ہوتے ہیں لیکن سیاسی لیڈر جمہوری نظام چلانے اوروقت کے ساتھ بہتری لانے کی امید پر نظام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ جمہوری عمل کو جاری رکھنے کے لیے ایک دوسرے سے تعاون پر آمادہ ہوتے ہیں تاکہ غیر جمہوری طاقتوں کو مداخلت کرنے اور سیاسی معاملات میں اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع نہ ملے۔ پاکستان میں اس کے برعکس انتخاب جیتنے کے بعد سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے اور اسٹبلشمنٹ کی ’ثالثی‘ پر اتفاق کرنے پر راضی ہوجاتی ہیں۔ اس طریقہ سے کیسے جمہوریت مستحکم ہوسکے گی؟
انتخابی نظام کے معمول کے نقائص سے قطع نظر، ذمہ داری سے کہا جاسکتا ہے کہ 8 فروری کے دن منعقد ہونے والے انتخابات موجودہ ملکی حالات میں ’شفاف ‘ ہی تھے اور انہیں ملک میں جمہوریت کو فعال بنانے کے لئے قبول کرکے آگے بڑھنا چاہئے۔ ان انتخابات میں تینوں بڑی پارٹیوں کو مناسب تعداد میں نمائیندگی ملی ہے۔ تحریک انصاف خیبر پختون خوا، مسلم لیگ (ن) پنجاب اور پیپلز پارٹی سندھ میں حکومت سازی کے قابل ہوئی ہیں۔ مرکز میں ان میں سے کوئی بھی دو جماعتیں مل کر ایک مضبوط حکومت قائم کرسکتی ہیں۔ ایسی کسی بھی صورت میں چھوٹے گروہ سیاسی بندربانٹ کامطالبہ کرتے ہوئے حکومت کو دباؤ میں نہیں لاسکیں گے۔ جمعرات کو ہونے والے انتخاب کا سب سے اہم پہلو یہ حقیقت ہے کہ کسی مذہبی گروہ کو قابل ذکر نمائیندگی نہیں مل سکی۔ جماعت اسلامی اور تحریک لبیک پاکستان کوئی نشست بھی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں حالانکہ انتخابات سے پہلے ان دونوں پارٹیوں نے کامیابی کا ڈھول پیٹا تھا۔ ان انتہا پسند مذہبی گروہوں کی ناکامی بھی عوامی شعور کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے۔ حتی کہ مولانا فضل الرحمان کے نام سے منسوب جمیعت علمائے اسلام کی سیاسی قوت بھی کمزور ہوئی ہے اور ان کی پارٹی کو اب تک قومی اسمبلی کی محض تین سیٹیں ہی مل سکی ہیں۔
انتخابات کے نتیجہ میں تین بڑی پارٹیوں کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ ملک میں جمہوری انتخابی نظام کی کامیابی کے لیے یہ ایک خوش آئیند پیش رفت ہے۔ کسی پارلیمانی جمہوری نظام میں اگر تین سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے کے ہم پلہ ہوں تو وہ چیک اینڈ بیلنس کابہتر طریقہ استوار کرسکتی ہیں اور ملک میں ایک بہتر اور ذمہ دار حکومت کے قیام میں معاون ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر تحریک انصاف پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت قائم کرلے تو وہ مضبوط حکومت ہوگی لیکن ستر پچھتر سیٹوں کے ساتھ مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں رہتے ہوئے اس مضبوط حکومت کے غلط فیصلوں کی نشاندہی کرنے اور حکومت کو مناسب اور عوام دوست پالیسی بنانے پر مجبور کرسکتی ہے۔ اسی طرح اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت بناتی ہیں تو تحریک انصاف مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرسکتی ہے۔ البتہ یہ اسی وقت ممکن ہوسکتا ہے اگر تینوں پارٹیاں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کو قبول کریں اور صرف ا نہیں ووٹوں کو جائز نہ سمجھیں جو کسی ایک پارٹی کے حق میں استعمال ہوئے تھے۔ انتخاب میں ہر ووٹ قیمتی ہوتا ہے اور ہر منتخب ہونے والا رکن اسمبلی قابل احترام ہونا چاہئے۔ البتہ یہ بنیاد اسی وقت فراہم ہوسکتی ہے ، اگر ان تینوں پارٹیوں کی قیادت ہوشمندی سے کام لے اور جمہوری عمل کو مستحکم کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے۔ تاہم اگر ایک دوسرے کو چور کہنے کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے نتیجے میں جمہوریت کمزور اور اسٹبلشمنٹ مضبوط ہوگی۔
8 فروری کے انتخابات میں تین سیاسی پارٹیوں کو کامیابی حاصل ہوئی ہے اور بظاہر انتخابات سے خاص نتائج حاصل کرنے کے لیے اسٹبلشمنٹ کی حکمت عملی ناکام ہوئی ہے۔ اسٹبلشمنٹ جہانگیر ترین کی استحکام پاکستان پارٹی اور پرویز خٹک کی تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز کے ذریعے سیاسی دباؤ کے گروہ مستحکم کرنا چاہتی تھی۔ اس حکمت عملی کے باوجود جہانگیر ترین اور پرویز خٹک اپنی نشستیں جیت نہیں سکے۔ پرویز خٹک کی پارٹی کو تو قومی اسمبلی میں ایک سیٹ بھی نہیں ملی اور استحکام پارٹی کو صرف دو سیٹیں مل سکیں۔ گویا حکومت بنانے والی پارٹیوں پر دباؤ برقرار رکھنے کا جو ’منصوبہ ‘ بنایا گیا تھا، وہ ناکام ہوگیا۔ اب فوجی قیادت پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ اس نے انتخابی نتائج تبدیل کروائے اور مسلم لیگ (ن) کو مضبوط کیا۔ اگر اسٹبلشمنٹ پولنگ کے بعد کامیاب امیدواروں کا فیصلہ کرنے پر قدرت رکھتی یا اس کی ضرورت محسوس کرتی تو جہانگیر ترین اور پرویز خٹک سب سے پہلے کامیاب ہوتے۔
پاکستان کے انتخابی نتائج قابل قبول ہونے چاہئیں۔ یہ مانا جاسکتا ہے کہ اگر تحریک انصاف کے پاس اپنا انتخابی نشان ہوتا یا عمران خان آزاد ہوتے تو شاید اسے دس بیس سیٹیں زیادہ مل جاتیں۔ لیکن یہ باور کرلینا پاکستان کی سیاسی حرکیات سے مکمل ناشناسائی ہوگی کہ ’شفاف انتخاب ‘ میں مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی دو چار سیٹوں سے زیادہ پر کامیاب نہیں ہوسکتی تھیں۔ یہ دونوں پارٹیاں طویل عرصہ سے ملکی سیاست کا حصہ ہیں اور دونوں کو معقول تعداد میں ووٹروں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔
بہتر ہوگا کہ تینوں بڑی پارٹیاں ایک دوسرے کے جمہوری حق نمائیندگی کو کھلے دل سے قبول کریں اور ووٹروں کی طرف سے سیاسی قوتوں کو دی گئی طاقت کو ضائع کرنے کی بجائے ، باہمی اشتراک سے اسٹبلشمنٹ کی قوت فیصلہ سازی کو محدود کریں ۔ بصورت دیگر یہ قیاس کیا جائے گا کہ پاکستان میں جمہوریت ناکام ہورہی ہے۔ اور اس کی ذمہ داری عوام پر نہیں بلکہ سیاسی لیڈروں پر عائد ہوگی۔