پھر وہی لپھڑا !

پاکستان میں عام انتخابات کے دامن سے کبھی خیر برآمد نہیں ہوا مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عوام کو ریاستی امور سے ہی بے دخل کر دیا جائے۔ ہماری دانست میں ساری گڑ بڑ ہی عوامی دانش پر عدم اعتماد کرنے سے شروع ہوئی تھی جب 1970 کے انتخابی نتائج تسلیم نہیں کئے گئے۔

اور اس وقت کے آمر نے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے اقتدار اکثریتی جماعت کو منتقل کرنے کی بجائے اپنے عہدۂ صدارت کے لئے وردی کے بل بوتے پر بلیک میلنگ شروع کردی اور پھر جو المیہ گزرا وہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔ کیونکہ یہ عسکری تاریخ کا سیاہ باب ہے اس لئے جس طرح کینٹ کے علاقے میں سے گزرنے کے لئے جگہ جگہ ناکوں سے عام پاکستانی تلاشی کے بغیر نہیں گزر سکتا اسی طرح عسکری تاریخ کے بابِ سیاہ کو بھی بلیک ہول ہی تصور کرنا پڑتا ہے، جہاں تک کسی اعلیٰ دماغ سائنس دان کا طائرِ خیال بھی رسائی پانے سے قاصر ہے ۔

ان بالادست لوگوں کے مردِ اول نے جس طرح از خود اپنے آپ کو فیلڈ مارشل کے اعزاز سے نوازا تھا، اسی طرح یہ بھی طے کر لیا گیا تھا کہ امور مملکت میں عامیوں کی گنجائش نہیں ہے اس لئے ان کے لئے شاہراہِ اقتدار کے داخلی راستوں پر ناکہ بندی کر دی جائے۔ اور صرف اسے ہی اذنِ سفر دیا جائے جس کے پاس بالا دست طبقے کی جانب سے جاری کردہ خصوصی اجازت نامہ ہوگا.  دس سالہ جشن اقتدار کی رنگ رلیاں مناتے ہوئے جس طرح آمریت کے قصیدے پڑھے گئے ان سے کچھ عقل کے اندھوں کو بھی اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی اور انہوں نے بھی نعرۂ مستانہ لگا دیا کہ بس بھئی بس زیادہ بات نہیں چیف صاحب......

مگر یہ فرزانگی بغیر تیاری کے عجلت میں لیا گیا جذباتی فیصلہ تھا جس کی شوریدہ سری عام انتخابات منعقد کروانے میں تو کامیاب رہی مگر جمہوریت کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی کہ رُبع صدی تک اقتدار پہ قابض گروہ سے یہ سنگھاسن وا گزار کرانا کارِ آسان نہیں تھا۔ سو وہی ہوا جو اناڑی پن میں ہوتا ہے. کنٹرولڈ ڈیمو کریسی کے ماہرین نے دو لخت ملک کے صدماتی عرصے میں غم سے نڈھال لوگوں کو نام نہاد جمہوریت کی دھندلی سی جھلک دکھا کر باور کرایا کہ یہ شبیہہ اگر واضح ہو کر سامنے آ گئی تو تمہاری بصارت بری طرح متاثر ہو جائے گی۔ اور یہ دھمکی کارگر ثابت کرنے کے لئے اس وقت کے سیاسی منظر نامے پر متحرک سب سے بڑے اور اہم کردار کو تختۂ دار پر کھینچ دیا گیا.

مگر راولپنڈی جیل کی پھانسی گھاٹ سے سندھ کے دور افتادہ گاؤں دادو کے قبرستان کی مٹی میں اترنے والا نصف صدی سے کچھ اوپر کے عرصے سے وقت کی سولی پر لٹکا پنڈولم کی طرح جھولتا جمہوریت کا گھنٹہ بجا بجا کر عامۃ الناس کو باور کراتا رہتا ہے کہ ہر گزرتا لمحہ تمہاری بے بضاعتی کے خاتمے کی نوید سنا رہا ہے۔ اسے سننے کے لیے تمہیں اپنے کانوں سے میل کچیل صاف کرانا ہو گی جو تمہیں مست کرتی دھنوں کے سوا کچھ سننے نہیں دیتی۔  آنکھوں سے وہ موتیا بند ختم کرنا ہوگا جو تمہیں سامنے کا منظر نامہ بھی غبارِ شام کے دھندلکے سا پیش کرکے ڈراتا ہے کہ شب کی تاریکی  تمہاری قسمت کی سیاہی کی طرح چاروں اور پھیلی تیرگی اور بڑھاتی ہی چلی جاتی ہے۔ سو اپنے مقدر کی دیوی کی طرح ردائے نوم میں لپٹے چپ سادھ کے لیٹے رہو مگر اب کی بار فریب کاری کا طلسم ٹوٹ چکا ہے۔

مزے کی بات یہ طلسم توڑنے والا انہی ہاتھوں کا پروردہ فریب خوردہ ہے جسے علی بابا نے بے خیالی میں کھل جا سم سم کا کلیدی کلمہ بتادیا تھا۔ دیکھنا ہوگا کہ جذبات کی رو میں بہ جانے والا منتر کے الفاظ بھول تو نہیں گیا!

ایک نظم نظر نواز کر لیجئے:

گوشوارہ!

میں صبح سے شام تک بیٹھا

بہی کھاتے بناتا ہوں

پرانے کاغذوں پر

 آج کی تاریخ لکھتا ہوں

کروڑوں کے ڈپازٹ پر

منافع کی شرح لاکھوں میں ہوتی ہے

جسے کھاتے چڑھا کر دیکھتا ہوں تو

خسارا ہو نہیں سکتا

طبیعت خوش تو ہوتی ہے

مگر یکسر اداسی گھیر لیتی ہے

ابھی اک کام باقی ہے

خسارے کا بہی کھاتہ

 ابھی تک نامکمل ہے

ابھی اس آج کے دن کو

حسابِ زندگی میں سے مجھے تفریق کرنا ہے

جمع کچھ بھی نہیں ہونا

کہ سانسوں،بیتے لمحوں پر

منافع تو نہیں ہوتا

یہ وہ دھن ہے

کبھی جس میں

اضافہ ہو نہیں سکتا

کسے معلوم ہے کہ اب

دنوں،برسوں،مہینوں کی 

لمٹ (limit) باقی بھی ہے کوئی

یا پھر کھاتہ 

کلوزنگ کے لئے تیار رکھا ہے؟