اقتدار کی بندر بانٹ اور قومی مفاد
- تحریر مختار چوہدری
- سوموار 12 / فروری / 2024
1970 کے متحدہ پاکستان میں منعقدہ عام انتخابات سے جمہوریت مخالف قوتوں نے ایسا سبق سیکھا کہ اس کے بعد کبھی شفاف اور منصفانہ انتخابات منعقد ہونے دیے، نہ کسی کو پلیٹ بھر کر بوٹیاں لینے دیں۔
مطلب کسی ایک جماعت یا لیڈر کو پورا مینڈیٹ نہیں ملنے دیا۔ صرف ایک بار 1997
میں پیپلزپارٹی کی مخالفت میں کچھ زیادہ ہی آگے چلے گئے اور میاں نواز شریف کو دو تہائی اکثریت دلوا دی لیکن جیسے ہی میاں صاحب نے خود کو امیرالمومنین سمجھنا شروع کیا اور آئین میں ترامیم کیں تو پھر ایوان صدر کو سازشوں کا گڑھ بنا دیا گیا۔ بیچ میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کو بھی میدان میں اتارا گیا۔ گو کہ اس چومکھی لڑائی میں میاں صاحب وقتی طور پر اس طرح سرخرو ہوئے کہ انہوں نے بھی سپریم کورٹ کے کچھ ججز کو اپنے اعتماد میں لیا (میاں نواز شریف کی کامیابیوں کا راز چمک میں ہے) اور آخری معرکہ سپریم کورٹ کی عمارت میں ہوا جہاں میاں صاحب کے حمایتیوں نے سپریم کورٹ پر دھاوا بول دیا۔ اور چیف جسٹس صاحب کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔
ممکن ہے کہ اصل طاقت کے مرکز میں بھی کچھ لوگ میاں صاحب کی حوصلہ افزائی کرنے والے تھے۔ سپریم کورٹ فتح کرنے کے بعد میاں صاحب کا حوصلہ کچھ مزید بڑھا۔ انہوں نے اس وقت کے سپہ سالار شیخ جہانگیر کرامت کو مستعفی ہونے پر مجبورکر دیا۔ شنید ہے کہ میاں صاحب کا یہ اقدام پاک فوج کے جرنیلوں کو سخت ناگوار گزرا اور انہوں نے فیصلہ یا تہیہ کر لیا کہ وزیراعظم کی یہ حرکت پہلی اور آخری ہوگی۔ آئندہ کسی بھی صورت یہ برداشت نہیں کیا جائے گا کہ کوئی سویلین وزیراعظم اس توہین آمیز طریقے سے کسی سپہ سالار کو گھر بھیجے۔
اس سے پہلے بھی دو سپہ سالاروں کے خلاف میاں صاحب کے کچھ اختلافات رہ چکے تھے۔ بہرحال طاقت پھر طاقت ہوتی ہے اور اپنا آپ ظاہر کرتی ہے۔ جب معرکہ کارگل کے بعد وزیراعظم نواز شریف اور اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے بیچ اختلافات پیدا ہوئے تو میاں صاحب نے اپنا اقتدار خطرے میں دیکھ کر بڑے میاں صاحب یعنی اپنے والد محترم میاں شریف صاحب کو بیچ میں ڈالا۔ جنہوں نے جنرل مشرف صاحب کو اپنے گھر مدعو کر کے یقین دلایا کہ آپ میرے ہی چوتھے بیٹے ہو لہذا اپنے بھائی کو معاف کر دو۔
پرویز مشرف صاحب نے اس بات پر یقین کر لیا اور مطمئن ہو کر چلے گئے۔ لیکن جیسے ہی میاں نواز شریف کو موقع ملا تو انہوں نے تگڑا وار کرنے کی کوشش کی۔ پرویز مشرف سرکاری دورے پر سری لنکا گئے تو پیچھے سے میاں صاحب نے اپنی بساط بچھائی اور اپنی مرضی کے سپہ سالار ضیا بٹ جن کو اپنے ساتھی جرنیلوں کی بھی حمایت حاصل نہ تھی، نامزد کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو معذول کر دیا۔ اس وقت جنرل پرویز مشرف سری لنکا سے واپسی کے سفر کرتے طیارے میں سوار تھے اور میاں صاحب نے ان کے طیارے کو بھی پاکستان کی حدود سے کہیں باہر بھجوانے کی کوشش کی۔
بظاہر تو وزیراعظم صاحب کا یہ آئینی اختیار تھا اور ہے کہ وہ سپہ سالار کی تقرری کر سکتے ہیں مگر ہمارے جرنیلوں نے اس کو اپنی توہین سمجھتے ہوئے میاں صاحب کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور حکومت پر قبضہ کر لیا۔ بعد میں سپریم کورٹ نے بھی اس اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے مشرف صاحب کو بطور چیف ایگزیکٹو پاکستان تسلیم کیا۔ بلکہ آئین کو روندنے کی اجازت بھی عنایت فرما دی۔ اس وقت سے اب تک ہمارے سیاستدانوں نے یہ قبول کر لیا کہ اگر ہم نے بوٹی کھانی ہے تو اپنی اپنی تھالی لے کر وہی جاتے ہیں، جن کے پاس دیگ ہوتی ہے۔ اور وہ اتنے سیانے ہو چکے ہیں کہ ان سیاستدانوں کو ان کی اوقات میں ہی رکھنا ہے اور بوٹیاں سب میں تقسیم کرنی ہیں۔
جنرل ضیا الحق اپنے دور میں ایک اور چالاکی کر گئے تھے کہ پاکستان کے ایوان بالا کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا کہ ایک ہی وقت میں اگر کوئی سیاسی جماعت بھاری اکثریت میں آ بھی جائے تو کم از کم ایوان بالا میں بھاری اکثریت حاصل نہ کر پائے۔ اب دیگ پر بیٹھے سیانے دیکھتے ہیں کہ کس سیاستدان کو کتنی بوٹیاں دینی ہیں اور کس کو دیگ کے قریب بھی نہیں آنے دینا۔ اور سیاستدان جب کبھی آپس میں کھسر پھسر کرتے ہیں کہ ہمیں مل کر دیگ پر خود بیٹھنا چاہیے تو پھر دیگ پر بیٹھے انہی سیاستدانوں میں سے کسی ایک کو اشارہ کر دیتے ہیں کہ آئندہ تیری تھالی میں بوٹیاں زیادہ ڈالی جائیں گی مگر شرط یہ ہے کہ تم دوسروں سے کھسر پھسر سے باز رہو گے۔ یہ اشارہ ملتے ہی سیاستدان کے منہ میں پانی بھر آتا ہے۔
اس بار پاکستان کے سب سے تجربہ کار اور کہنہ مشق سیاستدان میاں نواز شریف کے ساتھ بڑا ہاتھ ہو گیا ہے۔ ان کو بلاوا ملا کہ اب کی بار نہ صرف آپ کی تھالی بھر دی جائے گی بلکہ آپ کی پلیٹ پر جھپکنے والے کو پابند سلاسل رکھا جائے گا اور دیگ آپ کے سامنے رکھ دی جائے گی۔ میاں صاحب خوشی خوشی لندن سے وطن پہنچے اور تمام گلیاں سجیاں دیکھ کر وقت سے پہلے ہی اپنی بادشاہی کا اعلان کرنے لگے۔ لیکن اس بار بوٹیاں خود ہی اچھلنے کے لیے بیتاب تھیں۔ اور دیگ والے بھی دیکھتے رہ گئے کہ بوٹیاں چھلانگیں لگاتیں، غلط تھالی میں گرنے لگیں۔ خیر طاقت کے سامنے بے جان بوٹیوں کی اتنی بھی حثیت نہیں ہے کہ وہ جس تھالی میں جائیں اسی میں رہ سکیں۔ لہذا طاقت نے اپنا جادو چلایا اور راتوں رات بوٹیوں کی تقسیم میں کچھ توازن پیدا کر دیا اور اب سب سیاستدانوں کو دوڑ لگوا دی ہے کہ جو جتنی تھالیوں کو اکٹھی کر سکتا ہے، وہی وزیراعظم ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ یہ سیاستدان کب سیانے ہوں گے اور اپنی دیگ کی نگرانی اپنے ہاتھ لیں گے؟ یہ بہترین موقع ہے کہ سیاستدان اپنی اپنی بوٹیاں ایک ہی تھالی میں ڈال کر مل بیٹھیں اور آپس میں اتفاق پیدا کر لیں کہ ہم ان بوٹیوں کو کھانے کی بجائے انہیں عزت دیں گے۔ اس دیگ کو کبھی خالی نہیں ہونے دیں گے، اس میں سے جس کو جتنی ضرورت یا جس کا جتنا حق ہوگا، اسے اتنا ملے گا اور ہم مزید محنت کر کے دیگ کو ہمیشہ بھری رکھیں گے۔