انتخابی حقائق کی روشنی میں پختون سیاست کا نیا رخ
- تحریر شازار جیلانی
- سوموار 12 / فروری / 2024
اس وقت مولوی اور پاکستان کی پوزیشن ایک جیسی ہے۔ دونوں کو کہیں نہ کہیں اپنی افادیت ثابت کرنے کے بعد کہیں جاکر اہمیت ملتی ہے۔ پاکستان کو یہ افادیت بین الاقوامی میدان میں ثابت کرنی پڑتی ہے، اور مولوی کو پاکستان کے پالیسی سازوں کے سامنے۔
جب تک پاکستان کے اردگرد کوئی بین الاقوامی مسئلہ درپیش نہ ہو، تب تک پاکستان نہ صرف یہ کہ بڑی طاقتوں کی پابندیوں کے گرفت میں ہوتا ہے، بلکہ اس دوران اس سے باقاعدہ مخاصمانہ رویہ رکھا جاتا ہے۔ ایوب خان کے چلے جانے، اور بڈھ بیر سپائی اڈے کی بندش کے بعد سے بنگلہ دیش کے ظہور تک، امریکہ پاکستان کو نہ صرف بحری بیڑے کی آمد کی جھوٹی تسلیاں دیتا رہا، بلکہ صدر کارٹر کے دور میں تو پاکستان پر حملہ کرنے کی باقاعدہ دھمکیاں تک ملتی رہیں۔ جبکہ بھٹو کی حکومت گرانے سے لے کر، روس کے افغانستان سے نکلنے تک، پاکستان، پھر سب سے زیادہ امداد مالی امداد اور بین الاقوامی فورمز پر اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ ی
ہی حالت پھر طالبان کے ظہور اور نائن الیون کے بعد بھی رہی جو دوحا معاہدہ کے بعد خلیج فارس میں کہیں ڈوب گئی۔ دوسری طرف جماعت اسلامی اور جے یو آئی ف کی بھی یہی حالت رہی جو مذہبی لبادہ اوڑھ کر مفادات کی سیاست کرتی رہیں۔ جماعت اسلامی کی اہمیت سوویت یونین کی شکست بعد ختم ہو گئی ہے، تو جے یو آئی ف کا خاتمہ، طالبان کی دوبارہ افغانستان آمد، افغان قوم پرستی کی طرف طالبان کی واضح جھکاؤ، پاکستان کے اثر سے آزادی، اور پختونخوا میں اے این پی کے خاتمے کے بعد ہو چکا ہے۔ مذہب نما سیاست کی جان، پختون قوم پرستی کے طوطے میں بند تھی۔ مذہبی سیاست پہلے پاکستان میں پیدا کی گئی، اور پھر افغانستان برآمد کی گئی۔
پختون ولی میں مذہب یا مذہبیت کا کوئی سرسری سا ذکر تک نہیں ہے۔ چار عشرے پہلے پختون مذہبی شدت پسند تھے نہ مولوی ان کا سیاسی نمائندہ تھا۔ مذہبی سیاست کی یہ عفریت، پختون قوم پرستی کو بیچ و بن سے اکھاڑنے، پختونوں کو دنیا بیزار بنانے اور ان کو سیاسی طور پر کنفیوز کرنے کی خاطر، سوشل سائنسز کے کسی اعلیٰ لیبارٹری میں تیار کی گئی تھی۔ بلوچستان میں چونکہ قوم پرستی کی نئی لہر ابھرنے لگی ہے، اس لیے اب اس کا رخ بلوچستان کی طرف کردیا گیا ہے، جہاں سے اس نے ایک دو سیٹیں اپنے محسن کے ساتھ وشواس گھات کرکے حاصل کیں، اور باقی غیبی مدد کے ذریعے مل گئیں۔
جس طرح اے این پی کی مزاحمت پر مبنی سیاست کا خاتمہ ہوا تو مولوی کی سیاست کی جان نکل گئی، اسی طرح، اے این پی نے، اپنا تاریخی کردار چھوڑ کر جز وقتی مفادات، غلط ترجیحات، مبنی بر سمجھوتا بیانیے، حقائق سے جان بوجھ کر آنکھیں چرانے، اور ”بری امام“ کی خوشنودی کی حصول کے برکات کی وجہ سے، جو آخری جمع پونجی داؤ پر لگائی، وہ لیڈرشپ کی قلیل عمری اور عقل کل ہونے کے زعم کی وجہ سے ہار گئی ہے۔ اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ اپنی غلطیوں اور کمزوریوں کی ذمہ داری قبول کی جاتی، اور نئی لیڈرشپ کے لئے جگہ خالی کی جاتی، اور اقرار کیا جاتا، کہ ہماری ترجیحات مبنی بر حقیقت ہونے کی بجائے مبنی بر خوشنودی تھیں، وہ ووٹ نہ ملنے کا بوجھ، پختونوں پر ڈال کر ان کو شرمندہ کر رہے ہیں۔
لیڈر عوام کا اور ڈاکٹر مریض کا نبض شناس ہوتا ہے۔ میں نے پہلے بھی ایک کالم میں انتباہ کیا تھا کہ ادارے کا اثاثہ، تاریخ پر مبنی اس کی یاداشت ہوتی ہیں۔ جہاں پر ایک دفعہ کسی کا دادا یا پر دادا گرے کیٹگری میں ڈالا گیا، تو پھر اس کا بیٹا، پوتا، اور پڑ پوتا کبھی وائٹ کیٹگری میں نہیں آ سکتا۔
2013 کی الیکشن کی کامیابی، اے این پی کو پختونوں کے لئے کسی خاص کارنامہ کی وجہ سے نہیں ملی تھی بلکہ اس نے ترقیاتی کام اس حکومت کے دوران کیے تھے۔ اس وقت پاکستان کو امریکی دباؤ کے تحت، طالبان کے خلاف ہونے والے آپریشن کے لئے، پختونخوا میں قربانی کے ایک بکرے کی ضرورت تھی۔ کوئی اور پارٹی ہوتی، یا اے این پی سیاسی دانش کے قلاش پن کا شکار نہ ہوتی، تو اس حالت میں حکومت کبھی نہ لیتی۔ جہاں ایک طرف نہتے سیاسی کارکن اور دوسری طرف بارود کے جیکٹ پہننے والے، زندگی سے بے زار، جنت کے متلاشی ہوں۔ اس وقت کی بہترین سیاسی حکمت عملی یہ ہونی چاہیے تھی، کہ اے این پی اپنی پارٹی اور کارکنان بچا کر ایک طرف ہوجاتی اور حملہ آوروں کے ساتھ اسی طرح صلح کرتی، جس طرح شہباز شریف نے کر لی تھی۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ اس وقت جب کبھی کوئی بھولا بسرا حملہ آور پنجاب کی طرف نکل جاتا، تو اپنی صلح کی یاد دہانی کراتے ہوئے، شہباز شریف نے کبھی وقت ضائع نہیں کیا۔ جبکہ دوسری طرف عدم تشدد کی پیروکاروں کا بیانیہ یہ تھا، کہ آپ کی جیکٹیں ختم ہو جائیں گی لیکن ہمارے سینے کم نہیں پڑیں گے۔
حیرانی تو مجھے یہ ہوتی ہے، کہ کیا کبھی کسی میٹنگ میں، کسی نے بھی اس بیانیے کے خالق سے یہ نہیں پوچھا کہ ہماری یہ جنگ کس مقصد کے لئے اور کیوں ہے؟ کیا ہم امریکی ہیں، جو طالبان کو مارنے آئے ہیں؟ کیا آرمی چیف پرویز مشرف کا تعلق اے این پی سے ہے؟ کیا اے این پی کے حکم پر پاکستان آرمی حملے کرتی اور روکتی ہے؟ کیا الیون کور کا کور کمانڈر اے این پی کا کارکن ہے؟ اے این پی تو نہتے کارکنان پر مبنی، تشدد گریز سیاسی پارٹی ہے۔ ہم کیوں اور کیسے بندوقوں سے مسلح اور بارود سے بھرے ہوئے طالبان سے مقابلہ کر سکتے ہیں؟ ہم کون سا راستہ اختیار کرکے اس لاحاصل جنگ سے نکل سکتے ہیں، جس کو باچا خان اور ولی خان نے دو سپر طاقتوں کی جنگ کہہ کر الگ ہونے کی بات کی تھی؟
نیز یہ کہ اے این پی تو ”افغان جہاد“ کے دور میں بھی ”مجاہدین“ کی مخالف تھی تو پھر اس وقت ان پر مجاہدین حملے کیوں نہیں کرتے تھے؟ اے این پی آج تک اسی طرح سینہ تانے اور صلح نہ کرنے کے بیانیہ پر قائم ہے، اور ساتھ پختونوں کو اپنے گیارہ سو کارکنوں اور لیڈرشپ کی قربانیوں کی یاد دہانی بھی کراتی رہتی ہے۔ جبکہ وہ یہ بھول جاتی ہے کہ اس کے گیارہ سو کارکن بھی پختون تھے اور اس کے دور حکومت میں مرنے والے اسی ہزار دوسرے مرنے والے بھی پختون تھے۔ جن کو ان کی حکومت میں بچانا ان کی ذمہ داری تھی۔
اے این پی جس قدر مفاہمت میں جھک سکتی تھی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اس سے کہیں زیادہ مزاحمت میں جتی ہوئی ہے۔ اپنے والد کے انتقال کے پچاس سالہ یادگاری جلسے میں، محمود خان اچکزئی نے، جمہوری پاکستان زندہ باد، اور سیاست میں ملوث جنرل کرنل مردہ باد کے نعرے لگا کر عدم مفاہمت پر کھڑے اپنے روایتی بیانیے سے سر مو انحراف نہ کرتے ہوئے، انتخابات میں اترا، اور کئی سیٹیں جیتنے کے باوجود، پارلیمنٹ میں پختونوں کی نمائندگی سے محروم کر دیا گیا۔ آئین اور جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہونے کی سزا کے طور پر 2018 میں، پارلیمنٹ میں جانے سے محروم رکھا گیا۔ تو پی ڈی ایم کا ساتھ دینے کے علاوہ، محمود خان اچکزئی نے حملہ آور اور زخمی، دونوں پختونوں کے درمیان غلط فہمیاں ختم کرنے، مفاہمت بنانے، اور پختون خطے میں دیرپا امن کی قیام کے لئے، خود کو وقف کر دیا۔ جس کے ثبوت، افغانستان کی پختون حکومت کے ساتھ ان کے روابط کی بحالی، افغان ایمبیسی اسلام آباد میں ان کی آمد و رفت، وہاں پر ایمل ولی خان اور دوسرے پختون لیڈروں کو لے جانا اور پھر اس کے بدلے میں، اس کی پارٹی کے اندر توڑ پھوڑ کی شکل میں نظر آتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ایمل ولی خان کی مفاہمت اور محمود خان کی مزاحمت، دونوں مل کر بھی پارلیمانی سیاست میں پختونوں کو ان کا جائز حصہ نہیں دلا سکتی۔ تو پھر تیسرا راستہ جو بچتا ہے، وہ منظور پشتون کا ہے۔ جن کو آئین، قانون اور انسانی حقوق کی پامالی کی وجہ سے، پارلیمانی سیاست پر کوئی اعتماد باقی نہیں رہا۔ میں محمود خان اچکزئی یا ایمل ولی خان کو پہل کرنے کے لئے نہیں کہتا بلکہ منظور پشتون کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایک بار پھر پہل کرکے ایک ایک مشر کے پاس چلے جائیں اور وقت کی نزاکت کے خاطر ایک دفعہ پھر ان کے ساتھ بیٹھ کر مشترکات پر مبنی کوئی متفقہ لائحہ عمل اختیار کرے۔
دوسری جانب سیاسی طور پر مایوس اے این پی کے کارکنان سے ایک دفعہ پھر اپیل کر کے ان کو مزاحمتی سیاست کی طرف متوجہ کریں۔ تاکہ وقت پڑنے پر وہ اپنی لیڈرشپ کو متبادل بیانیے پر قائل کرنے کی کوشش کریں۔ اسی طرح ماہرنگ بلوچ کی حمایت کر کے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے مفادات کے بارے میں جو غلط فہمی پیدا ہوئی ہیں، اس کی وضاحت کرتے ہوئے، جنوبی پختونخوا کے پختونوں سے اپنے روابط مضبوط کر دیں۔ منظور پشتون سے بہتر کون جانتا ہے کہ اس کے بیانیے کے سب سے زیادہ حامی، جنوبی پختونخوا کے پختون اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے کارکنان ہیں۔
محسن داوڑ پر جان لیوا حملہ اور پارلیمنٹ سے اسے باہر رکھنے کی سرکاری کوشش، اور علی وزیر اور عالم زیب محسود کی ناکامی نے، پی ٹی ایم کے لئے بہت سے در اور دل کھول کر، وسیع سپیس تخلیق کر دیا ہے۔ قبائلی اضلاع کے باشندوں بلکہ پورے پختون خطے کے پاس اب منظور پشتین کی مزاحمتی سیاست کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا۔ علی وزیر، عالم زیب محسود اور محسن داوڑ کی ”ناکامیاں“ بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ پی ٹی ایم سے کسی وجہ سے نکلنے والے، ایک حد تک اکاموڈیٹ کیے جاتے ہیں، نیز اس سے تنظیم کو اندرونی طاقت ملی ہے۔
سرکاری پروپیگنڈے کا شکار ہو کر، اپنے مشن سے خلوص کے اظہار کی خاطر، خواہ مخواہ جیل کی صعوبتیں جھیلنا اور عوام سے دور رہنا، مبنی بر دانش حکمت عملی نہیں ہے۔ حکمت اور دانش یہ ہے کہ جو سیاسی سپیس پیدا کی گئی ہے، اس کو استعمال کرتے ہوئے، ٹھنڈے دماغ سے، گلی گلی، شہر شہر، قریہ قریہ جاکر، عوام میں آئین اور قانون کی بالادستی کی خاطر، سیاسی بیداری، عصری شعور، حقوق کی اہمیت، متبادل بیانیہ اور دوسرے مظلوموں کے ساتھ رابطے کی اہمیت پر کام کریں۔ دروازے چرچرائے، تو ضروری نہیں کہ وہ بند ہو رہے ہیں۔ پرانے دروازے کھلتے ہیں، تو تب بھی چرچراہٹ کی آواز آتی ہے۔
(بشکریہ: ہم سب لاہور)