علی امین گنڈاپور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے عہدے کیلئے نامزد
پاکستان تحریک انصاف نے سابق وفاقی وزیر علی امین کو خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا ہے۔
بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے آج پارٹی رہنما بیرسٹر گوہر خان سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔ البتہ انہوں نے پارٹی قیادت کو دیگر سیاسی گروہوں و جماعتوں سے رابطہ کرکے اکثریت کے لیے راہ ہموار کرنے کی ہدایت کی۔
ذرائع کے مطابق سابق وزیر اعظم نے کہا کہ وفاق اور پنجاب میں مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ اتحاد کیا جائے گا۔ عمران خان نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کے لیے نام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہماری پارٹی کے سینئر رہنما، سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔
اڈیالہ جیل میں مقدمہ کی سماعت کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئےعمران خان نے کہا کہ جیل میں کسی بھی اعلی سرکاری عہدے دار سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ انتخابات میں دھاندلی سے ملک میں عدم استحکام بڑھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دھاندلی زدہ انتخابات کا معیشت پر برا اثر پڑے گا۔ کہتا رہا کہ آزاد اور شفاف انتخابات واحد حل ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ دھاندلی کے خلاف آواز اٹھانے والی تمام جماعتوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ منی لانڈرنگ سنڈیکیٹ کو لانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ شریف خاندان ملک کا سب سے بڑا منی لانڈرر ہے۔ ملک کاسب سے بڑا مسئلہ ڈالرز ہیں اور یہ ڈالر بیرون ملک بھیجتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم سے اتحاد نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے ان خبروں کی تردید کی وہ بنی گالہ شفٹ ہورہے ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ ایسی دھاندلی ملکی تاریخ میں کبھی نہیں ہوئی۔ نواز شریف کے پریس کانفرنس ملتوی کرنے پر ہم جان گئے تھے کہ الیکشن جیت گئے ہیں۔ نواز شریف اور مریم نواز دونوں الیکشن ہارے ہیں۔ جب رزلٹ رکنا شروع ہوئے تو یقین ہو گیا کہ پی ٹی آئی جیت گئی ہے۔
عمران خان نے کہا کہ ہم سب سے پہلے انتخابی نتائج کو چیلنج کر رہے ہیں۔ ہم سپریم کورٹ بھی جائیں گے۔ اب پتا چل گیا کہ ہم آر اوز کے الیکشن کے خلاف کیوں تھے۔ وزیراعظم کے لیے ابھی کسی نام پر اتفاق نہیں ہوا اس پر غور کروں گا۔