آزاد ارکان اکثریت ثابت کردیں ، ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے: شہباز شریف

  • منگل 13 / فروری / 2024

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ آزاد ارکان اکثریت ثابت کردیں اور حکومت بنالیں۔ ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کا مرحلہ طے ہوچکا ہے۔ عام انتخابات سے پہلے مختلف خدشات پائے جارہے تھے۔ الیکشن کمیشن پردھاندلی سمیت طرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ دھاندلی کے الزامات کی حقیقت جاننے کا کیا پیمانہ ہوگا؟

شہباز شریف نے کہا ہے کہ اگر دھاندلی ہوئی ہے تو (ن) لیگ کے بڑے رہنما کیسے ہار گئے؟ دھاندلی کاالزام لگایا جارہا ہے اگر ایسی بات ہوتی تو سعدرفیق نہ ہارتے، خواجہ سعدرفیق نے کھلے دل سے اپنی شکست کو تسلیم کیا ہے۔ رانا ثنا اللہ ہمارے سینئر ساتھی ہیں وہ بھی ہار گئے ہیں۔ ہمارے امیدوار ہارے ہیں، اس کے باوجود دھاندلی ہوئی۔ ہمارے امیدوار بھی عدالتوں میں گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں آزاد امیدوار جیتے ہیں تو اس کا کیا مطلب ہے وہاں بھی دھاندلی ہوئی ہے؟ یہ لوگ سندھ اور بلوچستان میں کیوں نہ جیت سکے؟ ایک طرف دھاندلی کا شور ہے تو دوسری طرف آزاد امیدوار بڑی تعداد میں جیت رہے ہیں۔  لیول پلیئنگ فیلڈ، دھاندلی سمیت طرح طرح کے الزامات لگائے گئے، کون سا ایسا الیکشن ہے جس میں دھاندلی کے الزامات نہیں لگے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ الیکشن والے دن ہمارے اداروں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ انتخابات میں (ن) لیگ سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے، قومی اسمبلی میں ہماری 80 نشستیں ہوگئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2013 کے انتخابات کے بعد لانگ مارچ ہوئے، پارلیمان پر حملے کی کوشش کی گئی 2018 میں رات کو آر ٹی ایس بٹھا دیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد امیدوار بڑی تعداد میں جیتے یہ حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے۔ آزاد ارکان اکثریت ثابت کردیں ، ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے۔ آئین کا تقاضا ہے جس کی تعداد زیادہ ہے وہ حکومت بنائے۔ اگر آزاد امیدوار حکومت بنا سکتے ہیں تو شوق سے بنائیں۔ آزاد امیدوار حکومت نہیں بناسکتے تو ہاؤس میں دیگر جماعتیں مشاورت سے فیصلہ کریں گی۔ آزاد امیدواروں کو ساتھ ملانا سب کا حق ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب قوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کا وقت ہے۔ ہمیں رنجشوں کو محبتوں میں بدلنا ہے۔ مجھے صرف ملک کی خوشحالی درکار ہے، وسیع تر قومی مفاد میں سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر جماعتوں سے رابطے ہور ہے ہیں۔ ہمیں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جانا پڑے گا۔ آئین کے تحت الیکشن کے 21 ویں دن قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا۔