کون بنے گا وزیر اعظم!

انتخابات کے انعقاد سے ایک دن بعد اپنی فتح کا اعلان کرتے ہوئے  مسلم لیگ (ن) کے رہبر اعلیٰ نواز شریف نے اعتراف کیا تھا کہ سب سے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود ان کی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں مل سکی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہر مینڈیٹ کا ا حترام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے  کہاتھا کہ سب کو مل کر بحران میں گھری قوم کو مسائل سے نکالنا چاہئے اور غریب  عوام کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔

جس نے بھی یہ تقریر یہاں تک پڑھی یا سنی تو اسے یہی احساس ہؤا ہوگا کہ  میاں صاحب   دیگر سیاسی لیڈروں کے ساتھ تمام رنجشیں بھلا کر  وسیع تر قومی اشتراک و  تعاون کی اپیل کررہے ہیں۔ نواز شریف اگر یہاں تقریر ختم کردیتے تو شاید سیاسی لیڈر کے طور پر وہ  اپنے باقی پاکستانی ہمعصروں  میں قد آور کہلاتے جو  ماضی کی ساری مشکلیں اور اختلافات بھلا کر  قومی اسمبلی میں سامنے آنے والے مینڈیٹ اور ملکی معاشی صورت حال کو ملاکر دیکھنے کے بعد،  سب سیاسی گروہوں کو  کم از کم معاشی بحالی کے مقصد سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں تینوں بڑی پارٹیوں تحریک انصاف کے حمایت یافتہ آزاد  امیدواروں  ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو  جنرل سیٹوں پر230 کے لگ بھگ نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ باقی  34 سیٹیں دوسری پارٹیوں کو ملی ہیں۔ اس طرح کوئی بھی ایک پارٹی  قومی اسمبلی میں  حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ حکومت سازی کے لیے تین میں سے دو بڑی پارٹیوں کو  مخلوط حکومت بنانا ہوگی۔

ایسے میں اگر تینوں بڑی پارٹیاں ایک دوسرے  سے ماضی قریب  کے اختلافات بھلا کر صرف اس ایک نکتہ پر توجہ مبذول کرسکیں کہ اس وقت ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے،  قومی  مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے عالمی اداروں اور دوست ممالک سے امداد حاصل کرنا ناگزیر ہے اور مہنگائی  و   اقتصادی پریشان حالی کا شکار عوام کو  کسی نہ کسی صورت کچھ ریلیف کی ضرورت ہے۔  یہ مقصد  کوئی ایسی مخلوط حکومت پورا نہیں کرسکتی جس میں ایک بڑی پارٹی کو اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے۔ نہ ہی کسی ایک پارٹی کی اقلیتی حکومت  مؤثر طریقے سے امور مملکت چلانے کی پوزیشن میں ہوگی ۔

 ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں تو یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی بھی پارٹی کو اکثریت نہ ملے اور دو یا زیادہ پارٹیوں میں اکثریتی اتحاد بنانے کے لیے  سیاسی اتفاق رائے موجود نہ ہو تو  کسی ایک بڑی پارٹی کی حکومت پر اتفاق کرلیا جاتا ہے۔ یعنی دوسری ہم خیال پارٹیاں اس پارٹی کی اکثریت  نہ ہونےکے باوجود حکومت سازی میں اسے پارلیمانی حمایت فراہم کردیتی ہیں۔ البتہ سیاسی  و مالی معاملات پر پارلیمنٹ میں     ایک ایک موضوع کے حوالے سے   تعاون حاصل کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں  ایسا ماڈل بوجوہ  کام نہیں کرسکتا۔  دریں حالات اگر قومی اسمبلی میں کامیابی حاصل کرنے والی  تینوں بڑی پارٹیاں صرف ایک مدت کے لیے تلخیاں بھلا کر حکومت سازی میں تعاون کرلیں   توقومی حکومت  کے  سیاسی پلیٹ فارم پر باقی چھوٹی پارٹیوں کو بھی شریک ہونے کی دعوت دی  جاسکتی   ہے۔ اس صورت میں کوئی بھی چھوٹی پارٹی سیاسی سہولتوں کے لیے  ’متفقہ‘ وزیر اعظم کو دباؤ میں لانے کی پوزیشن میں  نہیں ہوگی۔   اور  ایسی حکومت معاشی   و  آئینی اصلاحات کے ایک مختصر ایجنڈے پر  کام  کا آغاز کرسکتی ہے۔ حکومت اس ایجنڈے سے باہر جانے کی کوشش نہ کرے اور سب پارٹیاں وزیر اعظم کو کمزور کرنے کے لیے سیاسی ہتھکنڈے استعمال نہ کریں۔  تاہم ایسی آئیڈیل صورت حال کا نقشہ میاں نواز شریف نے  ’سب کا  مینڈیٹ قبول‘ کرنے کا اعلان کرنے کے بعد خود ہی بگاڑ دیا اور شہباز شریف اور اسحاق ڈار کو پیپلز پارٹی  اور ایم کیو ایم پاکستان سے رابطہ کرکے اتحادی حکومت بنانے کا مشن سونپ دیا۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کی سیاسی مشکلات  میں اضافہ ہونا شروع ہؤا اور پاکستان کا مستقبل بدستور تاریک دکھائی دینے لگا۔

اب وسیع تر تعاون کے خواب کو  تحریک انصاف کے بانی چئیرمین عمران خان نے مزید  تار تار کردیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی پارٹی  خیبر پختون خوا کے علاوہ مرکز اور پنجاب میں حکومت بنائے گی لیکن مسلم لیگ (ن) ،  پیپلز پارٹی یا ایم کیو ایم  کے ساتھ  اتحاد نہیں  ہوسکتا۔ البتہ ان کے نائبین  ان  پارٹیوں کے علاوہ باقی پارٹیوں و گروہوں کے تعاون سے حکومت بنائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ  انتخابی نتائج  کا  جو نقشہ سامنے آیا ہے، اس میں تحریک انصاف کے ایک  سو ارکان  منتخب ہوئے ہیں  تو مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ملا کر146  اراکین قومی اسمبلی  میں ہوں  گے۔  یہ صورت حال جنرل سیٹوں پر منتخب ہونے والے ارکان کے حوالے سے ہے۔  70 کے لگ بھگ مخصوص  نشستوں پر انتخابات کے بعد یہ اعداد و شمار تبدیل ہوجائیں گے۔  کسی بھی پارٹی کو وزیر اعظم منتخب کروانے کے لیے 169 ارکان کی حمایت ظاہر کرنا ہوگی۔ ظاہر ہے کہ  تین دوسری پارٹیوں کو نظر انداز کرکے تحریک انصاف کے آزاد ارکان یہ تعداد کسی صورت حاصل نہیں کرسکتے۔ خاص بطور سے انتخابات  سے پہلے انتخابی نشان سے محروم ہونے کی وجہ سے اسے مخصوص نشستوں میں حصہ ملنے کا امکان بھی نہیں ہے۔  باالفرض تحریک انصاف اپنے ’آزاد‘ ارکان کو کسی دوسری پارٹی میں شامل ہونے کے لیے کہہ دیتی ہےتو ایک تو یہ یقینی نہیں ہے کہ سب ارکان یہ ’حکم‘ مان لیں گے۔ دوسرے  کسی دوسری چھوٹی پارٹی میں شامل ہونے والے ارکان پر اس نئی پارٹی کی قیادت کے فیصلے نافذ ہوں گے۔ یہ قیاس کرنا ممکن نہیں ہے کہ عمران خان اپنے ہی ارکان اسمبلی کے حوالے سے اتنا بے بس ہونا پسند کریں گے۔

آج میڈیا میں عمران خان کی صحافیوں سے گفتگو اور شہباز شریف کی پریس کانفرنس رپورٹ ہوئی ہے۔  عمران خان کا  طرز عمل غیر مفاہمانہ اور اس بات کا اظہار تھا کہ  وہ  زمینی حقائق سے  پوری طرح نابلد ہیں۔  انہوں نے کسی بھی سیاسی جماعت سے اتحاد کو مسترد کیا ہے اور یہ تاثر دیا ہے کہ جیسے ان کے امیدواروں کو قومی اسمبلی میں دو سو کے قریب نشستیں ملی ہوں اور اب پارٹی ’عوامی حمایت‘ کے بل بوتے پر یہ ’غصب کیا گیا حق‘  واپس لے لے گی۔ حالانکہ عمران خان کو اندازہ ہونا چاہئے کہ اب حالات 2014 سے مختلف ہیں اور انہیں ذاتی طور پر متعدد قانونی مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ  عدالتیں انتخابی بے قاعدگیوں کی وجہ  سے دو چار نشستوں کا فیصلہ تو تبدیل کرسکتی ہیں لیکن کوئی ایسا حکم آنے کا امکان نہیں ہے کہ انتخابات کے نتائج مکمل طور سے تبدیل ہوجائیں۔

بدقسمتی سے عمران خان ابھی تک یہ باور نہیں کرسکے کہ دھاندلی کا شور مچاکر  بے یقینی تو پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اس  طریقہ سے نہ کسی پارٹی کے سیاسی مسائل حل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ملک کو اس کا کوئی فائدہ ہوتا ہے۔ عمران خان نے 2013 کے انتخابات کے بعد بھی دھاندلی   کے خلاف بھرپور دھرنا دیا اور احتجاج کیا لیکن   نواز شریف کی حکومت اس احتجاج کے نتیجہ میں کمزور نہیں ہوئی تھی بلکہ اسے اسٹبلشمنٹ اور عدلیہ کی ملی بھگت سے ختم کیا گیا تھا۔ اب عمران خان کو  ان دونوں اداروں سے ویسا ہی تعاون حاصل نہیں ہوسکتا۔  اس کے بعد پی ڈی ایم کے  پلیٹ فارم سے 2018 کے انتخابات کے بعد  بھی دھاندلی کے نام پر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا لیکن یہ بھی اس وقت تک بے  نتیجہ رہا تھا جب تک اسٹبلشمنٹ خود  تحریک انصاف کی حکومت  سے عاجز آکر اس سے جان چھڑانے پر راضی نہیں ہوگئی۔ عمران خان کو جاننا چاہئے کہ  ان کے خلاف  قومی اسمبلی میں عدم اعتماد پر ووٹنگ کروانے کا حکم بھی  اسی چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے دیا تھا جنہوں نے  9 مئی کی گرفتاری کے بعد  ’گڈ ٹو سی یو‘ کہہ کر ان کا استقبال کیا تھا ۔ اب سپریم کورٹ میں  عمران خان سے ذاتی  ہمدردی رکھنے والے چیف جسٹس اورججوں کا ٹولہ موجود نہیں ہے جو  تحریک انصاف کو بہر صورت ریلیف دینے پر آمادہ رہتا تھا۔

 اس کے علاوہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی  کے رہنما یہ سمجھنے سے بھی قاصر دکھائی دیتے ہیں کہ عوام میں اشتعال پیدا کرکے اور ملک  میں تناؤ و تصادم کی صورت حال  سے  ملکی مسائل میں کمی نہیں ہوگی بلکہ اس کے معاشی و سماجی مشکلوں میں  اضافہ ہوگا۔  عمران خان سمیت ہر قومی لیڈر کو اس وقت پاکستان کو درپیش بیرونی قرض اور اس کی ادائیگی کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے۔ یا پھر یہ سوچنا چاہئے کہ   ملک میں انتشار و بے چینی کے ایک طویل دورانیے کے بعد  عوام کو اسی صورت میں کوئی سہولت فراہم ہوسکتی ہے،  اگر کوئی مضبوط حکومت قائم ہو اور مسلسل اس کی ٹانگ کھینچنے سے گریز کیا جائے۔ کسی کے لیے بھی یہ کہنا مشکل ہے کہ اگر تینوں بڑی پارٹیاں  آپس میں سینگ پھنسائے رہیں  گی تو موجود ہ قومی اسمبلی کس حد تک   اپناپارلیمانی کردار ادا کرسکے گی یا کوئی حکومت کس حد تک فعال  و مؤثر ہوسکے گی۔  

عمران خان  کو   ایک بار پھر’میرا  مینڈیٹ چوری ہوگیا‘ کا راگ الاپنے کی بجائے انتخابی  نتائج کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں حکمت عملی بنانی چاہئے اور  سیاسی بصیرت کا  مظاہرہ کرنا چاہئے۔ غریب پاکستانی قوم کا پیٹ محض ’حقیقی آزادی‘ کے نعروں سے نہیں  بھرا جاسکتا۔   آج پریس کانفرنس میں  شہباز شریف  کی یہ بات ہوشمندانہ ہے کہ اگر تحریک انصاف کے آزاد ارکان اکثریت ثابت کرتے ہیں تو وہ حکومت بنالیں، ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں گے۔  البتہ   یہ بیان محض سیاسی فقرے بازی تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔ سیاسی پارٹی کے طور پر مسلم لیگ  (ن) کو  حکومت سازی کے  لیے بھاگ  دوڑ کرنے کی بجائے ،  یہ اعلان کرنا چاہئے کہ تحریک انصاف  قومی اسمبلی کی سب سے بڑی پارٹی ہے، اسے حکومت سازی کا موقع ملنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی وہ یہ مطالبہ بھی کرے کہ تحریک انصاف کو مخصوص نشستوں میں سے اس کا جائز حصہ دیا جائے۔  اسی سیاسی رویہ سے مسلم لیگ (ن)  اس  تاثر کو زائل کرسکتی ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر  اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہے۔

سب سیاسی  لیڈروں کو جان لینا چاہئے کہ  اس وقت   وزیر اعظم  کا عہدہ  پھولوں کی سیج نہیں ہے بلکہ چیونٹیوں بھرا کباب  ہے ۔  یہ  ذمہ داری  قبول کرنے والے کو وسیع القلبی اور فہم و فراست کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ بہتر ہوگا کہ سب پارٹیاں مل کر  نئی حکومت کے ہاتھ مضبوط کریں اور   اہم معاملات میں خلوص دل سے اس کی رہنمائی کریں۔ اس سے فرق نہیں پڑنا چاہئے کہ کس پارٹی کا کون شخص  وزیر اعظم بنتا ہے۔  حالیہ انتخاب نے ملکی سیاست دانوں پر بھاری ذمہ داری عائد کی ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوتے تو سب ہی قوم کے  مجرم ہوں گے۔