چھ سیاسی جماعتوں کا وفاق میں حکومت بنانے کا اعلان
لاہور میں پاکستان مُسلم لیگ ق کے رہنما چوہدی سجاعت حسین کی رہائش گاہ پر مُلک کی چھ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک پریس کانفرنس میں مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کے چئیرمیں بلاول بھٹو زرداری کا کہنبا ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت میں شامل نہیں ہوگی لیکن شہباز شریف کواعتماد کا ووٹ دے گی۔
پریس کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزیر اعظم اور پاکستان مُسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف، پاکستان مُسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین، ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی، استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما علیم خان، بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما صادق سنجرانی شامل تھے۔
پریس کانفرنس کے آغاز پر سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ ’ہم سب مل کر مُلک کو مُشکلات سے نکالیں گے، ہم نے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑا ہے اب مُلک کے وسیع تر مفاد میں معاشی ایجنڈے پر سب کو ایک ہونا ہوگا۔ الیکشن میں مخالفتیں ہوتی ہیں لیکن مل کر آگے چلنا ہوگا، آج ہم نے طے کیا ہے کہ مل بیٹھ کر حکومت بنائیں گے۔
ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ’پاکستان جس قسم کے بحران سے گزر رہا ہے، ایسے میں اختلاف ہو سکتا ہے مگر پاکستان سے بڑھ کر کُچھ نہیں۔‘ ہم سب مل کر اپنے مفاد ایک جانب رکھ کر اس مُلک کی خدمت کریں گے۔
چئیرمین سینٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما صادق سنجرانی نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم سب مل کر اس مُلک کو درپیش چیلنجز سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ استحکامِ پاکستان پارٹی کے رہنما علیم خان کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ’میں آنے والی حکومت اور اتحاد کے لیے دُعا گو ہوں، ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ سب ملک کر معاشی مسائل کے حل کی لیے کوشش کریں اور ہم نے اس اتحاد کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا ہے اور ہر قدم پر ہماری معاونت اس اتحاد کے ساتھ شاملِ حال رہے گی۔‘
سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات میں ہم نے ایک دوسرے کے خلاف بات تو کی مگر اب وہ مرحلہ ختم ہو چُکا ہے اور اب ہم اس مُلک کو درپیش چیلنجز خاص طور پر معاشی بحران سے نکالنے کے لیے ہم سب مل کر اس مُلک کے لیے کام کرنا ہے۔ اور اس مُلک کو آگے لے کر جانا ہے۔ پاکستان پر جو قرضے ہیں اُنہیں کیسے کم کرنا ہے، مہنگائی کو کیسے کم کرنا ہے اور دیگر تمام مسائل پر کیسے قابو پانا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کام کریں۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ مُلک کے وزیر اعظم نواز شریف ہوں اور ہماری جانب سے مریم نواز وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے ہماری اُمیدوار ہوں گی۔
تاہم پاکستان مسلم لیگ ن کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایکس پر ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان مُسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے مُلک کے آئندہ وزیرِ اعظم کے لیے اپنے چھوٹے بھائی اور پاکستان مُسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کو نامزد کر دیا ہے۔ ایکس پر مریم اورنگزیب کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مسلم لینگ ن کے قائد نواز شریف نے صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے پارٹی کی جانب سے اپنی صاحبزادی مریم نواز کو نامزد کیا ہے۔‘
’نواز شریف نے پاکستان کے عوام اور سیاسی تعادون فراہم کرنے والی تمام سیاسی جماعتوں اور اُن کے قائدین کا شُکریہ ادا کرتے ہوئے اس پختہ یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان فیصلوں کے نتیجے میں پاکستان معاشی خطرات اور عوام مہنگائی سے نجات پائیں گے۔‘
دوسری طرف چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت وفاقی حکومت کا حصہ نہیں بنے گی۔ وزارت عظمیٰ کیلئے ن لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا دو روزہ اجلاس آج ختم ہوا ہے۔ ہمارا اصولی فیصلہ ہے کہ ملک کو بحران سے نکالنا ہے اور اسے مستحکم بنانا ہے۔
پیپلز پارٹی کے پاس مرکز میں حکومت بنانے کےلیے مطلوبہ مینڈیٹ نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کو مینڈیٹ نہیں ملا لہٰذا میں وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نہیں ہوں۔ مسلم لیگ (ن) نے ہمیں حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ پی ٹی آئی کہہ چکی کہ وہ پیپلز پارٹی سے کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔
ہم مرکز میں خود حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، پیپلز پارٹی ملک میں سیاسی افرا تفری، بحران نہیں چاہتی۔ خود کو وزیراعظم کی دوڑ میں شامل نہیں کرتا۔ ہمیں ملک میں سیاسی عدم استحکام بھی نظر آرہا ہے، ملک میں سیاسی عدم استحکام ختم کرنا چاہتے ہیں۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا اصولی فیصلہ ہے کہ ملک کو بحران سے نکالنا ہے۔ عوام نے الیکشن میں حصہ لیا، عوام اب مزید سیاسی عدم استحکام نہیں چاہتے۔