25رکنی وفاقی کابینہ کا امکان، ایم کیو ایم کو 5 وزارتیں دینے پر غور
قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی تین پارٹیوں مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان میں حکومت سازی پر اتفاق رائے کے بعد وزارتوں کے سوال پر غور وخوض ہورہا ہے۔
عام انتخابات کے بعد ملک میں بننے والی نئی وفاقی کابینہ میں ایم کیو ایم کو 5 وزاتیں دیے جانے کا امکان ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اور شہباز شریف کی ملاقات ہوئی جس میں شہباز شریف نے مختلف اتحادیوں سے ہونے والی ملاقاتوں پر نواز شریف کو بریفنگ دی۔
ملاقات میں متوقع وفاقی کابینہ کے لیے اہم افراد کے نام زیر غور آئے ہیں۔ وفاق میں پہلے مرحلے میں 25 رکنی کابینہ بنائے جانے کا امکان ہے جس میں ایم کیو ایم کو 3 سے 5 وفاقی وزارتیں دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم کی جانب سے خالد مقبول صدیقی، فاروق ستار، سید مصطفی کمال، سید امین الحق اور خواجہ اظہار الحسن کے نام زیر غور ہیں۔
پارٹی ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کی جانب سے پارٹی کے 15 سینیئر رہنماؤں کے نام وفاقی وزیر کے لیے زیر غور آئے۔ اسحاق ڈار، سردار ایاز صادق، خواجہ آصف، احسن اقبال، مریم اورنگزیب، عطااللہ تارڑ، شزا خواجہ، ریاض الحق جج، بلال اظہر کیانی، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، راجہ قمر السلام اور رانا تنویر حسین کے نام وفاقی وزیر کے لیے زیر غور ہیں۔
استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری کو وزیراعظم کا معاون خصوصی بنائے جانے کا امکان ہے۔ واضح رہے پیپلز پارٹی نے اتحادی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا ہے لیکن بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پارٹی کابینہ میں شامل نہیں ہوگی۔ پیپلز پارٹی صدارت، صوبائی گورنروں اور اسمبلیوں میں کمیٹیوں کی قیادت پر اصرار کررہی ہے۔
پ