فوج اپنا کام کرے، کاروبار نہ کرے: چیف جسٹس

  • بدھ 14 / فروری / 2024

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے ہیں کہ فوج نے دی گئی زمین پر شادی ہالز اور دیگر کاروبار شروع کر رکھے ہیں۔ سپریم کورٹ نے دفاعی زمینوں پر کمرشل سرگرمیوں کے خلاف کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ یقین دہانی کرائیں کہ کاروبار نہیں کریں گے تو ٹھیک ہے، سب کو اپنے مینڈیٹ میں رہنا چاہیے۔ یقین دہانی کرائیں فوج صرف دفاع کا کام کرے کاروبار نہیں۔ فوج اپنا کام کرے، عدالتیں اپنا کام کریں۔ جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اصول تو یہی ہے کہ سب اپنا اپنا کام کریں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ اگر آپ کو ایسی ہدایات ہیں تو عدالت کو یقین دہانی کرا دیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پانچ منزلہ بلڈنگ بنتی رہی تب متروکہ املاک بورڈ تماشائی بنا رہا؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ملی بھگت کے علاوہ غیر قانونی تعمیرات ممکن نہیں۔ ایس سی بی اے کے انسپکٹرز اور اوپر کے افسران کے اثاثے چیک کرانے چاہئیں۔

چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ کراچی کے سب رجسٹرارز کے اثاثوں کا آڈٹ بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے کرانا چاہیے۔ آمدن سے زائد تمام اثاثوں سے رقم مسمار کی گئی عمارتوں کے رہائشیوں کو ملنی چاہیے۔

بعد ازاں، سماعت میں وقفہ کیا گیا۔ دوبارہ سماعت شروع ہونے کے بعد سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کراچی میں غیرقانونی تعمیرات اور رہائشی عمارتوں کو کمرشل کیا جا رہا ہے۔ بلڈرز منافع لے کر نکل جاتے ہیں۔ سندھ بلدنگ کنٹرول اتھارٹی نظریں چرا لیتی ہے، بلڈنگ مکمل ہونے کے بعد ایس بی سی اے مسمار کرنے پہنچ جاتا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ عمارت مکمل ہونے کے بعد مسمار کرنے سے رہائشیوں کے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ تعمیر کے دوران بورڈ آویزاں کرکے بلڈنگ کی منظوری کی تفصیلات درج کی جائیں۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی حالات کو اپنے فائدے کے لیے استعمال نہیں کر سکتی۔ عمارت تعمیر ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں ایس بی سی اے تاخیر نہ کرے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے مقدمہ کی مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔