سازشوں کا کھیل
- تحریر مختار چوہدری
- بدھ 14 / فروری / 2024
پاکستان میں سازشوں کا کھیل رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ بظاہر اتحادوں اور ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے مل کر چلنے کی باتیں کرنے والوں کے اندر کا بغض چہروں اور ان کے فیصلوں سے عیاں ہے۔
پچھلے چند روز میں مختلف جماعتوں کی طرف سے دکھائی جانے والی حجت کا بھرم چوہدری شجاعت کے ڈیرے پر پہنچ کر ختم ہوگیا۔ دو دن پہلے ن اور ق میں ہونے والی ملاقات کا اچانک منسوخ کیا جانا، پھر ایم کیو ایم کا لاہور میں بات مان کر کراچی پہنچ کر تردید کر دینا۔ اب پیپلزپارٹی کا چند چکر دینے کے بعد بلاول کی طرف سے واضح اعلان کہ ہم ن لیگ کے وزارت عظمی کے امیدوار کو ووٹ تو دیں گے کیونکہ پی ٹی آئی کی طرف سے ہمارے ساتھ بات نہ کرنے کے بعد ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ لیکن ہم وفاقی حکومت کا حصہ ہر گز نہیں بنیں گے۔
اس کے باوجود چوہدری شجاعت کے گھر سب کا ملنا اور فوری شیر و شکر ہونا ثابت کر رہا ہے کہ کوئی نیا حکم آیا ہے۔ دوسری طرف عمران خان صاحب کی طرف سے وزیر اعلی خیبر پختون خوا کے لیے مفرور علی امین گنڈا پور کو نامزد کرنا ثابت کرتا ہے کہ خان صاحب اپنے پرانے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔ مجھے ایک بات کا یقین ہے کہ ہماری مقتدرہ علی امین کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی لیکن پشاور ہائیکورٹ نے گنڈاپور کی 24 مقدمات میں ضمانت منظور کرتے ہوئے اشارہ دے دیا ہے کہ ملک کے حالات درست نہیں ہیں۔
اس سے پہلے پشاور ہائیکورٹ پی ٹی آئی کو بلے کا نشان دینے کا فیصلہ بھی دے چکی ہے، جسے سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا تھا۔ آج چوہدری شجاعت کے گھر میں ہونے والے اجلاس کے بعد سیاسی جماعتوں کی قیادت نے جو پریس کانفرنس کی اس میں شہباز شریف نے پنجاب کی وزارت اعلی کے طور پر مریم نواز کو نامزد کر دیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ مرکز میں حکومت کو شہباز شریف لیڈ کریں گے۔ مریم کے حوالے سے بھی طاقتور حلقوں میں کچھ تحفظات موجود ہیں۔ البتہ شہباز شریف کو پوری قبولیت ملے گی۔
مجھے اس ساری صورتحال میں پاکستان کے حالات کچھ اچھے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ زرداری صاحب نے وسیع مکالمے کی بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو بھی ساتھ ملانے کی بات تو کی ہے۔ تاہم انہوں نے اس کے طریقہ کار پر کوئی بات نہیں کی کہ پی ٹی آئی کی قیادت سے کس طرح بات کی جائے گی۔ میرے خیال میں ملک کی بہتری اس میں ہے کہ طاقتور حلقے اپنی ضد اور انا چھوڑ دیں اور عوامی فیصلے کو قبول کرتے ہوئے سیاسی قیادت کو آپس میں مل کر فیصلے کرنے دیں۔ پی ٹی آئی کو آن بورڈ لینے کے لیے سب سے پہلے تمام حلقوں کے درست نتائج سامنے لائے جائیں اور پریزائیڈنگ افسران کی طرف سے جاری کردہ فارم 45 کے مطابق درست نتائج کا اعلان کرکے پارٹی پوزیشن واضح کی جائے۔ اور پاکستان تحریک انصاف کو بطور جماعت قبول کیا جائے۔
اس کے بعد کوشش کی جائے کہ اکثریتی جماعت کی قیادت میں ایک قومی حکومت قائم کرکے ہنگامی بنیادوں پر پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کیا جائے اور اگلے 5 برس سول حکومت کو اپنی مرضی سے کام کرنے دیا جائے تاکہ وہ عوام کو ریلیف دے سکے۔ اگر اب زبردستی آزاد امیدواروں کو توڑنے کی کوشش کی گئی یا جس طرح یہ کہا جا رہا ہے کہ خیبر پختون خوا کے انتخابات کو منسوخ کیا جا سکتا ہے، ایسا کیا گیا تو یہ ملک کے لیے انتہائی خطرناک کھیل ہوگا۔ تصادم کی موجودہ صورت حال پاکستان میں شعلوں کی صورت اختیار کرچکی ہے، شعلوں کو بڑھایا گیا تو بہت کچھ جل سکتا ہے۔