ٹیٹوز کا رجحان

لندن سمیت پورے یورپ میں موسم گرما کے آغاز سے ہی خواتین اور خاص طور پر لڑکیوں کا لباس مختصر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ مگر اب اس معاملے میں لڑکے بھی پیچھے نہیں ہیں جس کا ایک بڑا سبب یہ بھی ہے کہ جن لوگوں نے اپنے جسم کے مختلف حصوں پر ٹیٹوز (نقش و نگار)  بنوائے ہوتے ہیں وہ انہیں نمایاں کرنے اور دوسرے لوگوں کو دکھانے کے لیے بنیان اور کچھے پہنے گھومتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران اس رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ فٹبال کے نامور کھلاڑیوں، باڈی بلڈرز اور مشہور گلوکاروں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہوں نے اپنے جسم پر ٹیٹوز بنوا رکھے ہیں تو ان کے مداح بھی اس کام میں ان کی پیروی کر کے خوش ہوتے ہیں۔ بہت سے جذباتی لوگ اپنے محبوب کے نام اور تصاویر کے ٹیٹوز اپنے جسم پر بنواتے ہیں۔ کئی لوگوں نے اپنے ماں باپ اور بچوں کے نام اپنے جسم پر محفوظ کروا رکھے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے اپنے پالتو جانوروں کی تصاویر یا سکیچ سے اپنے جسم کو مزین کر رکھا ہوتا ہے۔ جب تک انسان جوان رہتا ہے اور اس کے جسم کی جلد تنی اور کسی ہوئی رہتی ہے تو یہ ٹیٹوز بھی جاذب نظر لگتے ہیں لیکن جیسے جیسے عمر ڈھلتی ہے جسم کی جلد ڈھیلی پڑنے لگتی ہے اور انسان کی جذباتی کیفیت ماند ہو جاتی ہے تو یہ ٹیٹوز بھی اپنی کشش کھونے لگتے ہیں اور جلد کی جھریاں ان پر غالب آ جاتی ہیں۔

انسانی  جسم پر نقش و نگار بنوانے کی تاریخ کئی ہزار برس قدیم ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں آباد آج بھی بہت سے قبائل ایسے ہیں جو اپنے چہرے پر مخصوص قسم کے نقش و نگار بنواتے اور اسے اپنی سینکڑوں برس پرانی قبائلی روایت اور ثقافت کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔ جیولری اور زیورات کی تخلیق سے پہلے جسم پر نقش و نگار (ٹیٹوز) اور تیز دھار آلے سے تراش کے نشانات کو فیشن کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ برطانیہ میں جسم پر ٹیٹوز بنوانے کی کم سے کم عمر 18 برس ہے اور اس قانون کی خلاف ورزی پر ایک ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ ٹیٹوز بنانے والے فرد یا کاروباری ادارے کے لیے حکومت کی طرف سے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہے اور یہ لائسنس صرف ایسے تربیت یافتہ افراد اور اداروں کو دیا جاتا ہے جو اس کام کی بنیادی شرائط پر پورا اترتے ہوں۔

برطانیہ میں کاروباری اور سرکاری اداروں کی اکثریت ایسی ہے جو ایسے لوگوں کو ملازمت دینے سے معذرت کر لیتی ہے جن کے جسم پر کسی بھی قسم کے نقش و نگار یعنی ٹیٹوز بنے ہوئے ہوں یا انہوں نے جسم کے مختلف حصوں کو چھدوا کر ان میں کسی قسم کا چھلا یا کوئی چھوٹی سی بالی ڈال رکھی ہو۔ یونائیٹڈ کنگڈم میں ہر 9 میں سے ایک بالغ فرد ایسا ہے جس نے اپنے جسم پر کسی نہ کسی طرح کا ٹیٹو بنوا رکھا ہے۔ برطانوی فوج میں سپاہیوں کی بڑی تعداد نے اپنے جسم پر مخصوص ٹیٹوز بنوا رکھے ہیں جسے وہ اپنے لیے ملٹری پرائڈ کی علامت سمجھتے ہیں۔ جنگ کے دوران مارے جانے والے فوجیوں کی شناخت بعض اوقات صرف ان کے جسم پر بنے ہوئے ٹیٹوز کی وجہ سے ممکن ہوتی ہے۔ یو کے میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں جسم پر ٹیٹوز بنوانے کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے۔

امریکہ میں ٹیٹوز انڈسٹری تیزی سے فروغ پانے والا چھٹا بڑا کاروبار ہے جس کا سالانہ تجارتی تخمینہ تقریباً 1.6 بلین ڈالرز ہے۔ یونائیٹڈ سٹیٹس آف امریکہ میں 21 ہزار سے زیادہ ٹیٹوز پارلر ہیں اور آئے روز ان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کاروبار سے لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ اس لیے گاہے بگاہے نت نئی تحقیقات بھی منظر عام پر آتی رہتی ہیں کہ جسم پر ٹیٹوز بنوانے سے ڈپریشن اور ذہنی دباؤ میں کمی ہوتی ہے۔ اپنی پسند کے نقش و نگار جسم پر گدوانے سے ایک خوشگوار سا احساس طبیعت پر اچھا اثر ڈالتا ہے۔

بہت سے لوگ اپنے جسم پر کسی قسم کے نشان یا داغ کو چھپانے کے لیے اس پر ٹیٹو بنوا لیتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت اپنے بازوؤں، پنڈلیوں اور گردن پر ٹیٹوز بنواتی ہے جبکہ بہت سے لوگ اپنی کمر اور کندھوں کے علاوہ بہت سے پوشیدہ حصوں پر بھی نقش و نگار بنوانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے لوگ جن کے بال جھڑ چکے ہوں وہ اپنے سر پر بھی ٹیٹوز بنوا لیتے ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں سب سے زیادہ ٹیٹوز بنوانے والے لوگوں میں پہلا نمبر اٹلی کا ہے جہاں 48  فیصد بالغ لوگوں کے جسم پر ایک یا ایک سے زیادہ ٹیٹوز ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر سویڈن (47 فیصد) اور امریکہ (46 فیصد) تیسرے نمبر پر ہیں۔ ڈنمارک سمیت دنیا کے بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں انسانی جسم پر کسی بھی قسم کے نقش و نگار یا ٹیٹوز بنوانے کی ممانعت ہے۔

مسلمانوں اور یہودیوں میں جسم پر ٹیٹوز بنوانے کو مستحسن نہیں سمجھا جاتا۔ انگلینڈ کے شہر بلیک پول کو برطانیہ کا ٹیٹو کیپٹل کہا جاتا ہے جبکہ لندن کے ٹیٹوز آرٹسٹ پوری دنیا میں بہترین سمجھے جاتے ہیں۔ ہر سال ہزاروں غیر ملکی ٹیٹوز بنوانے کے لیے خاص طور پر لندن آتے ہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جسم پر ایک سے زیادہ ٹیٹوز بہادری اور جنسی کشش کی علامت ہوتے ہیں۔ ایک ہی طرح کا نظریہ اور طرز فکر رکھنے والے بہت سے لوگ یکجہتی کے لیے اپنے جسم پر ایک جیسے ٹیٹوز بنواتے ہیں۔ تمام تر طبی احتیاطوں کے باوجود ٹیٹوز کی وجہ سے جلد اور خون کی بیماری کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ اسی لیے بہت سے ممالک میں ایسے افراد سے خون کے عطیات نہیں لیے جاتے جن کے جسم پر ٹیٹوز موجود ہوں۔

ٹیٹوز بنوانے کے شوقین افراد میں 24 فیصد ایسے لوگ ہوتے ہیں جو جذباتی ہو کر اپنی جلد پر نقش و نگار بنوا لیتے ہیں اور پھر جلد ہی اپنے اس فیصلے پر پچھتاتے ہیں۔ ٹیٹوز بنوانے سے جسم جاذب نظر یا خوبصورت ہو جاتا ہے یا نہیں لیکن یہ بات اپنی جگہ پر بڑی حقیقت ہے کہ ٹیٹوز کا فیشن اور بزنس برطانیہ سمیت پورے یورپ میں تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔گزشتہ کئی برس سے لندن اور برطانیہ کے مختلف شہروں میں سالانہ ٹیٹو شو منعقد ہوتے ہیں۔ لندن میں اس سال سب سے بڑا ٹیٹو شو ستمبر کے دوسرے ہفتے میں ایکس ایل سینٹر میں منعقد ہوگا جس میں دنیا بھر سے ساڑھے چار سو ٹیٹوز آرٹسٹ شریک ہوں گے۔ اس شو میں ایسے ہزاروں لوگ بھی شرکت کریں گے جنہوں نے اپنے پورے جسم پر طرح طرح کے نقش و نگار اور ٹیٹوز بنوا رکھے ہوں گے۔

گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق اپنے جسم پر سب سے زیادہ ٹیٹوز بنوانے کا ریکارڈ برطانوی شہری گریگری پول میکلیرن (لکی ڈائمنڈ رچ) کے پاس ہے۔ یہ شخص آج کل نیوزی لینڈ میں رہائش پذیر ہے۔ اسی طرح فلوریڈا میں مقیم 51 سالہ شارلٹ گٹن برگ ایک ایسی خاتون ہے جس نے اپنے جسم کے 98 فیصد سے زیادہ حصے پر ٹیٹوز بنوا رکھے ہیں۔ پورے برطانیہ میں 4 ہزار سے زیادہ ٹیٹوز پارلرز اور سٹوڈیوز ہیں اور ان ٹیٹوز شاپس کی سب سے زیادہ تعداد لندن میں ہے۔