الیکشن 2024ہو چکے: اللہ خیر کرے

الیکشن 2024 کا اختتام ہو چکا۔ الیکشن ہونے کے بارے میں بہت زیادہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہی ہیں نااُمیدی و خوف کے سائے فگن رہے بڑے منظم طریقے سے انتخابات کے ہونے یا نہ ہونے کو موضوع بحث بنا کر منفی تاثرگہرا کرنے کی مذموم کاوشیں کی جاتی رہیں۔

پاکستان میں دہشت گردی تو پہلے سے ہی ہو رہی ہے۔ کہا گیا کہ حالات ایسے نہیں ہیں کہ انتخابات کا انعقاد طے کردہ تاریخ پر ہو سکے۔ ہمارے پیارے مولانا بھی ایسا ہی کہتے پائے گئے۔ الیکشن، الیکشن کی دھوم دھام میں بہت سے اہم موضوعات کہیں گم ہو گئے۔ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا معاملہ ہمارے ہاں عمومی خبروں کی طرح لیا جاتا رہا۔

پی ٹی آئی 9مئی کا خمیازہ بھگت رہی۔  پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی نے جی بھر کر مہم چلائی جماعت اسلامی نے تو ماحول کچھ اس طرح گرمایا کہ جیسے قوم جغادری سیاستدانوں سے نا امید ہوکر اب جماعت اسلامی کو منتخب کرنے جا رہی ہے۔ استحکام پاکستان پارٹی نے بھی ماحول کو گرمایا۔ ن لیگ میدان عمل میں دیر سے آئی۔ ان کے بارے میں یہ تاثر پختہ ہوتا رہا کہ اب ن لیگی حکومت بننے جا رہی ہے نوازشریف چوتھی بار وزیراعظم بننے کے لئے ہی لندن سے وطن واپس آئے ہیں۔ تمام معاملات طے ہو چکے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

 پھر جس طرح عدالتوں سے نوازشریف کو ریلیف ملتا گیا اور ان کی راہ کی تمام رکاوٹیں دور ہوتی گئیں اور وہ وزارتِ عظمیٰ کے لئے تیار کھڑے نظر آنے لگے۔ حد یہ ہے کہ ہمارے تجزیہ نگار اور اینکر بھی یہی کہنے لگے کہ بس 2024 میں ن لیگی حکومت بن کر رہے گی۔ پھر ن لیگی قیادت کے انتخابی مہم کے حوالے سے رویوں نے بھی اسی تاثر کی تائید کی کہ الیکشن تو بس ایک کارروائی ہوگی معاملات پہلے سے ہی طے ہیں۔ ن لیگ نے منشور کی تیاری میں بھی تساہل کا مظاہرہ کیا اور جو منشور سامنے آیا وہ عمومی نوعیت کا تھا ۔اس میں نئے ووٹرز تو کیا پرانے ووٹرز کے لئے بھی بہت زیادہ کشش نہیں تھی۔ وعدے وعیدم خوبصورت فقرے،سہانے خواب اور یہ جا وہ جا۔ کسی سیاسی جماعت نے پرکشش بیانیہ عوام کے سامنے نہیں رکھا۔ عمران خان کا نفرت انگیز بیانیہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود رہا، کسی نے اس کا توڑ کرنے اور اس کے مقابل طاقتور مثبت بیانیہ تشکیل دینے کی زحمت گوارہ ہی نہیں کی۔ 

تحریک انصاف کا ووٹر ایک جذبے کے ساتھ، بیلٹ بکس تک پہنچا۔ اس نے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار کو ڈھونڈا اور اس کے نشان پر مہر لگائی۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے پی ٹی آئی بغیر انتخابی نشان  اور ریاستی جبر کے باوجود، قیادت کی عدم موجودگی میں بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری ہے۔ روایتی سیاسی جماعتوں اور لیڈروں کی موجودگی میں، اس نے ثابت کر دیا ہے کہ پرانی اور روایتی سیاست کا دور بیتنے کو ہے نیا دور آتا ہے یا نہیں، امید و مثبت سوچ کا سورج طلوع ہوتا ہے یا نہیں لیکن روایتی سیاست اور جاری نظام کا دھڑن تختہ ہونے جا رہا ہے جو کچھ اب تک ہوتا رہا ہے۔ ماضی میں مقتدر قوتیں جو کچھ کرتی رہی ہیں اب ایسا کچھ کرنے کی مہلت ختم ہونے جا رہی ہے، خاندانی اور روایتی سیاست اس ملک کے عوام کے مسائل حل کرنے میں قطعاً ناکام ہو چکی ہے۔

الیکشن 2024کے ساتھ جو امیدیں وابستہ تھیں۔ وہ پوری ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ پی ٹی آئی کو دیوار سے لگانے کی کاوشیں کامیاب نہیں ہوئی ہیں۔ گروپ کے طور پر آزاد امیدوار جو کہ پی ٹی آئی کے ہیں، اول پوزیشن حاصل کر چکے ہیں کسی جماعت میں شامل  ہو کر یا خود ہی پارلیمانی گروپ بنا کر مخصوص نشستیں لے کر وہ سادہ اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں۔ مرکز اور کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہو گئی تو پھر منظر نامہ کیا ہوگا۔ پیپلزپارٹی، ن لیگ، ایم کیو ایم اور مولانا فضل الرحمن کہاں جائیں گے۔ پنجاب میں ن لیگ اور سندھ میں پیپلزپارٹی، کیا نظارہ ہوگا۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے عمران خان اتنا خطرناک ہے کہ اس نے مقتدرہ کا طے شدہ پلان غتربود کر دیا ہے۔ اسمبلیوں میں بیٹھی ہوئی پی ٹی آئی کیا کرے گی؟

دوسری طرف ن لیگ اور پیپلزپارٹی ابھی تک کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچ پائیں ایک دوسرے کے ساتھ منافقانہ اور عیارانہ ملاقاتیں جاری ہیں۔ ایک دوسرے کو غچہ دینے کی کاوشیں جاری ہیں۔ وزارت عظمیٰ کا فیصلہ نہیں ہو رہا، ایک دفعہ پھر ڈیفالٹ کی باتیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ انفرادی معیشت کب کی اللہ حافظ ہو چکی ہے۔ عام شہری مکمل طور پر پس چکا ہے اور اسے مزید دبانے اور پیسنے کا عمل بھی جاری ہے۔ بجلی و گیس کی قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں۔ پٹرول کی قیمتیں پہلے ہی زیادہ ہیں۔ معاشی عدم استحکام اپنے زور و شور سے جاری ہے۔ انتخابی عمل کے نتائج نے بے اطمینانی کی فضا میں اضافہ کیا ہے جیتنے والے بھی مظاہرے کر رہے ہیں عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں اور ہارنے والے بھی عدالتوں میں جا رہے ہیں۔

 ابھی نتائج مکمل نہیں ہوئے ہیں کہ شور و غوغا شروع ہو گیا ہے۔ عالمی اداروں کی طرف سے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ امریکہ یورپی یونین اور دیگر اداروں نے نتائج کے متعلق شکایات کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ہارنے والوں نے شور و غوغا شروع کر دیا ہے ۔ایک اچھی بات یہ ہے کہ کئی پارٹی سربراہان نے شکست تسلیم کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفے دے دیئے ہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، استحکام پاکستان پارٹی کے جہانگیر ترین، اے این پی کے امیر حیدر ہوتی مستعفی ہو گئے ہیں۔ یہ ایک اچھی روایت ہے خواجہ سعد رفیق نے اپنی ہار تسلیم کرتے ہوئے اپنے مد مقابل پی ٹی آئی کے لطیف کھوسہ کو مبارکباد دی ہے۔

کراچی میں جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمن نے اپنی جیتی ہوئی سیٹ یہ کہہ کر پی ٹی آئی کے حوالے کر دی ہے کہ فارم 45 کے مطابق وہ جیتے ہوئے نہیں ہیں۔ گویا بہتری کے آثار بھی دیکھنے میں آئے ہیں لیکن ایک بات واضع ہو گئی ہے کہ ہماری مقتدرہ کی معاملات پر گرفت کمزور ہو چکی ہے ان کی خانہ ساز منصوبہ سازیاں نہ تو پہلے کبھی بار آور ہوئی تھیں اور اب بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ہمارا ملک، ہماری ریاست، ہماری معیشت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ آبادی بڑھتی چلی جا رہی ہے آبادی میں نوجوانوں کی تعداد ریکارڈ حد تک جا پہنچی ہے لیکن ملک کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ معیشت کمزور ترین ہو گئی ہے۔

 بہتری کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں الیکشن 2024 سے کچھ اُمیدیں وابستہ کی گئی تھیں وہ بھی نقش بر آب ثابت ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اللہ خیر کرے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)