بلاول میں تہذیب کی کمی کیوں ہے؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 15 / فروری / 2024
ہماری قومی سیاست پر چھائے شکوک و شبہات، الزامات اور بے یقینیوں کے تمام بادل چھٹ چکے۔ صاف شفاف انتخابی مطلع میں ہر چیز روزِ روشن کی طرح واضح ہوچکی۔ تمنائیں تو ہر انسان کی آئیڈیل ہوتی ہیں مگر لازم نہیں کہ ہر خواب ہو بہو شرمندۂ تعبیر ہوجائے۔
ان انتخابات سے پہلے پی ٹی آئی جس طرح ڈھیر ہوچکی تھی کون کہہ سکتا تھا کہ پختونوں کی وفا شعاری و دوستی کا جوش اس قدر ابھرے گا کہ علی امین گنڈاپور کے پی میں دودھ اور شہد کی نہریں بہادینے کے لیے ایستادہ ہوجائیں گے۔ لیکن ہمارے یہ بھائی اس سے بھی شاید بہت آگے کا سوچ رہے تھے، اسی لیے بیرسٹر گوہر خاں اس نوع کے اعلانات کرتے پائے گئے کہ ہم پنجاب اور وفاق میں بھی حکومت بنائیں گے حالانکہ اس کا کہیں سرے سے کوئی امکان نہ تھا۔ یہ بھی سب پر واضح ہوچکا تھا کہ وفاق میں تین بڑی پارٹیوں کو جو مینڈیٹ ملا تھا، وہ اس قدر سپلٹ تھا کہ کوئی بھی پارٹی تنہا حکومت سازی کی پوزیشن میں نہ تھی۔ کسے معلوم نہیں کہ سیاست میں لچک درکار ہوتی ہے ورنہ آپ کا اچھا خاصا مینڈیٹ بھی دھرے کا دھرا زیرو رہ جاتا ہے۔
2024کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے نوجوانوں نے جو محنت اور جانفشانی دکھائی ہے بلاشبہ وہ خراجِ تحسین کے قابل ہے۔ انہوں نے اپنی سچی لگن اور عزم سے فرہاد کی طرح تیشہ پکڑا اور پہاڑ کھود ڈالا۔ مگر افسوس ان نوجوانوں کے محبوب مگر نااہل لیڈر کی غیر سیاسی و گھمنڈی اپروچ کے کارن ساری کی ساری جدوجہد سیاسی ثمرات لانے کی بجائے، کے پی کے پہاڑوں میں تحلیل ہوکر رہ گئی۔ ایسے ہی جیسے کہا جاتا ہے کہ کھودا پہاڑ اور نکلا کچھ بھی نہیں، سوائے شہد والے گنڈاپور کے ان کا نیا اتحادی حق کا سراج جس طرح کہا کرتا تھا کہ کے پی میں دس سالہ حکمرانی کے باوجود یہاں پی ٹی آئی والوں نے کیا کرایا؟ کچھ بھی نہیں سوائے اربوں کھربوں کے قرضے چڑھانے کے۔ اب کے جو نئے سبز باغ دکھائے یا لگائے جائیں گے، زیادہ مدت نہیں گزرے گی جب ان پر تبصرے پہلے سے بھی کرارے ہوں گے۔
دھاندلی دھاندلی کے کھوکھلے الزامات کا حاصل حصول کچھ بھی نہیں ہوتا تاوقتیکہ انہیں عدالتوں میں ثابت نہ کیاجاسکے یا پھر 1977 کی طرح بھرپور عوامی احتجاجی تحریک کے ذریعے سب کچھ دریا برد نہ کروادیا جائے۔ ہمارے یہ دوست اپنا موازنہ جس طرح شیخ مجیب الرحمن سے کررہے ہیں، یہ درست نہیں ہے۔ شیخ صاحب نے تین سو کے ایوان میں کلیئرکٹ میجارٹی حاصل کرتے ہوئے ایک سو باسٹھ سیٹیں حاصل کی تھیں جبکہ ان کے بالمقابل بھٹو کی سیٹیں محض 81 تھیں۔ لیکن بھٹو کا اصرار تھا کہ وزیراعظم میں نے بننا ہے جو ملک تڑوائے بغیر ممکن نہ تھا۔ آج اگر ہمارا کھلاڑی یا اس کے ہمنوا اس نوع کا مطالبہ کررہے ہیں تو وہ خود ہی سوچیں کہ وہ کہاں کھڑے ہیں؟
موجودہ ایوان فی الحال یا اس وقت 266 سیٹوں پر مشتمل ہے حکومت بنانے کے لیے ایک سو چونتیس سیٹیں درکار ہیں آپ کے آزادوں کو 90کی بجائے 100 بھی مان لیا جائے بشمول ایم کیو ایم کسی” چور“ کے ساتھ اتحاد آپ نے نہیں کرنا تو حکومت آپ کی کیسے بن سکتی ہے؟ صدر کو چاہیے کہ حکومت سازی یا اکثریت ثابت کرنے کے لیے سب سے پہلے پی ٹی آئی کو دعوت دیں تاکہ کوئی مغالطہ نہ رہے کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوگئی ہے۔ ویسے بدلے حالات کے تناظر میں خود ن لیگ کے لیے زیادہ بہتر صورتحال یہ تھی کہ وہ بلاول بھٹو کو خوش کرتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کا عہدہ انہیں دینے پر راضی ہوجاتی۔ ایسی صورت میں شہبازشریف وزیردفاع بن کر طاقتوروں کے قریب رہ سکتے تھے جبکہ نوازشریف صدرِ مملکت کی ذمہ داری سنبھال سکتے تھے اور مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بن جاتیں۔ اتحادی حکومت کو کوئی فرق نہ پڑتا البتہ پی پی اور بلاول زیادہ خوش ہوجاتے۔
دوسری طرف وزارتِ عظمیٰ کے سنگھاسن پر فوری بیٹھنے کے لیے نواسے کی حسرتیں کسی طرح بھی اپنے نانا حضور سے کم نہیں ہیں۔ ان کی والدہ اپنی شہادت سے قبل جس شخصیت سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بات کرنا چاہتی تھیں، بلاول کو کچھ اسی مروت کی لاج رکھنی چاہیے تھی۔ اپنی انتخابی مہم میں لاہور کے حلقے میں کھڑے ہوکر اس نے مشرقی تہذیب و آداب کا جس طرح کچومر نکالا، ہارکے بعد اسے اس پر نادم ہوتے ہوئے معذرت کرنی چاہیے تھی۔ چلیں جو بھی ہوا اب کہا جا رہا ہے کہ ہم ن لیگ کے وزیراعظم کو سپورٹ ضرور کریں گے مگر حکومت میں نہیں بیٹھیں گے۔ زرداری صاحب کے بیٹے کی حیثیت سے ہی اب وہ اس پر قائم رہیں اور بچگانہ اپروچ میں بڑا پن شاید مشکل ہوتا ہے؟ نہیں تو کم از کم نئے سیٹ اپ میں وزارتِ خارجہ چھوڑ کوئی وزارت نہ لیں۔
لیکن افسوس آپ دونوں نے بڑا پن سیکھنا ہے تو اس شخص کی گریٹ نیس ملاحظہ کرلو، سوائے کھلاڑی کے ملک کی جیتی ہوئی ہر سیاسی پارٹی جسے وزیراعظم دیکھنا قبول کر رہی ہے، سب سے بڑھ کر بلاول اور ان کے والد مکرم ہیں کیا آج وہ یہ کہہ نہیں رہے ہیں کہ ن لیگ جسے بھی سامنے لائے گی ہم ن لیگ کے وزیراعظم کو سپورٹ کریں گے۔ ن لیگ کی قیادت میں ابھرنے والے اس جمہوری الائینس کے پاس اس وقت ٹو تھرڈ میجارٹی کے قریب سیاسی طاقت مجتمع ہوچکی ہے۔ کسی عدالت، کسی الیکشن کمیشن، کسی سپریم جوڈیشری، کسی طاقتور مقتدرہ کی طرف سے نوازشریف کے وزیراعظم بننے پر کوئی امر مانع نہ ہے۔ لیکن صرف یہ سوچتے ہوئے کہ میری پارٹی چونکہ تنہا حکومت سازی میں نہیں آئی ہے از خود خوش دلی سے پیچھے ہٹ گئے۔ کینے اور بغض کے مارے جو مرضی کہتے رہیں درویش اسے نوازشریف کا بڑا پن قرار دیتا ہے۔ اسے اس فیصلے پر اگرچہ افسوس ہوا ہے کیونکہ وہ نوازشریف کو چوتھی بار وزیراعظم دیکھنے کی تمنا اس لیے رکھتا تھا کہ وہ قومی تعمیر و ترقی کے ساتھ سویلین اتھارٹی منوانے بالخصوص پاک ہند دوستی استوار کرنے کی خاطر مضبوط اور ٹھوس اقدامات اٹھاتے۔
اب ان سے یہ امید ہے کہ وہ پیچھے بیٹھ کر پنجاب اور وفاق میں نئی قائم ہونے والی محترمہ مریم نواز حکومت اور شہباز شریف حکومت کی رہنمائی و رہبری کرتے رہیں گے۔ تاکہ مریم نواز حکومت جہاں پنجاب کے باسیوں کا معیارِ زندگی بلند تر کرے، وہیں ن لیگ کی نیک نامی و مقبولیت کو مزید بڑھاوا دے۔ وہ اپنے چھوٹے بھائی پر یہ امر واضح فرمادیں کہ سولہ ماہ کی حکمرانی میں آپ نے چاپلوسی کی جو حدود پار کی تھیں اور عوام پر جو مہنگائی بم پھوڑے تھے، ن لیگ نے اس کی قیمت سمپل میجارٹی حاصل نہ کرتے ہوئے چکائی ہے۔ اب یہ بے جا چاپلوسی نہیں چلنی چاہیے۔ آپ بشمول مقتدرہ اپنے تمام تر اتحادیوں کے ساتھ ضرور بناکررکھیں مگر عوامی زخموں پر نمک نہ چھڑکیں اور نہ ہی ہمسائیوں کے متعلق بالخصوص انڈیا کے خلاف چاپلوسی کے شوق میں منافرت پھیلائیں۔
یہی منافرت ہمارے ملک میں سویلین اتھارٹی، رواداری، ترقی خوشحالی اور روشن خیالی کے لیے زہر قاتل ہے۔ لیکن شہباز کے لیے شاید یہ امرت دھارا ہے، وہ طاقتوروں کی کھوکھلی خوشامد کے لیے موقع بے موقع اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص بھارت کے خلاف زہر اگلنے سے باز رہیں۔ وقت نے ثابت کردیا ہے کہ انڈیا دشمن پالیسی کا مطلب خود پاکستان کی بربادی اور عوامی ترقی و خوشحالی کی تباہی کے سوا کچھ نہیں ہے۔