انتخابات کے بعد آگے بڑھیں

آٹھ فروری کو ہونے والے پاکستان کے بارہویں عام انتخابات کے غیر متوقع نتائج نے جہاں ملک کیلئے ایک خطرہ پیدا کردیا، وہیں اس کے سامنے امکانات کی ایک کھڑکی بھی کھول دی۔

 سیاسی جمود اور محاذآرائی کا خطرہ ہے تو دوسری طرف پاکستان کے ہنگامہ خیز ماضی کے برعکس سیاسی راستہ اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھنے کا امکان بھی موجود ہے ۔ زیادہ تر مبصرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ رائے دہندگان نے تحریک انصاف سے وابستہ آزاد امیدواروں کو ووٹ دیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت ، جبر اور من مانی کی پالیسیوں کو مسترد کردیا ہے ۔ تحریک انصاف کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے تمام تر پابندیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے نوجوانوں کو متحرک رکھا۔

عمران خان، جو کبھی اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر تھے، کو تین عشروں پر محیط اس بیانیے کا بے پناہ فائدہ ہوا، جس کے مطابق روایتی سیاست دان (اور وہ بھی جو اسٹیبلشمنٹ کی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہیں) چور اور غدار ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کو شاید 2022 میں احساس ہو گیا ہو کہ قوم میں قطبی تقسیم پیدا کرنا کامیابی کا نسخہ نہیں، لیکن اس کے روایتی حلقے اس احساس سے عاری ہیں۔ قوم میں قطبی تقسیم کی حمایت ختم کرنے کے اسٹیبلشمنٹ کے فیصلے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عمران نے اسٹیبلشمنٹ کے حامی رائے دہندگان کو ہی اس کے خلاف کر دیا۔ اب عمران خان نہ صرف سویلین ’چوروں اور غداروں‘ پر گرج برس رہے ہیں بلکہ پاکستان کے اہم ادارے کو ’بیرونی طاقتوں کا مہرہ‘ قرار دے کر کڑی تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

قید کی سزا اُن کا موقف تبدیل نہیں کر سکی بلکہ اس سے اُن کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔ موجودہ واقعات اور مستقبل کی عظمت کے وعدوں کی چکا چوند عوام کی نظروں سے ماضی کو بہت سرعت سے اوجھل کر دیتی ہے۔ دنیا بھر میں مقبول عام لیڈروں کی کامیابی کی اکثر یہی وجہ ہوتی ہے۔ سابق کرکٹ ہیرو اب اسٹیبلشمنٹ مخالف سرکردہ لیڈر ہے، حالانکہ وہ اور اُن کے بہت سے حامی جنرل مشرف کے اُس وقت کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کی تائید اور فوج کے جمہوری وزرائے اعظم کو گھر بھیجنے کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ بہت فخر سے دعوی کرتے تھے کہ وہ اور اسٹیبلشمنٹ ’ایک صفحے‘ پر تھے۔

انتخابات کا مقصد محض غصیلے جذبات کا اظہار نہیں، حکومت کا چناؤ ہوتا ہے۔ اگر کوئی جماعت الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کرلے تو بھی اسے اُن رائے دہندگان کا خیال رکھنا پڑتا ہے جنہوں نے اس کی حمایت نہیں کی تھی۔  اُن آئینی اور قانونی روایات کا خیال رکھنا ہوتا ہے جو پارلیمانی جمہوریت کو دیگر سیاسی نظاموں سے ممتاز کرتی ہیں ۔ یہ نظام ایک ہمہ گیر فعال حکومت سازی کا تقاضا کرتا ہے جس کے قیام میں عام طور پر مقبول عام لیڈر ناکام رہتے ہیں ۔ آٹھ فروری کومتاثر کن کامیابی حاصل کرنے کے باوجود تحریک انصاف بھی اسی صورت حال کا شکار دکھائی دیتی ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کو انتخابات میں لیول پلینگ فیلڈ سے محروم رکھا گیا، جیسا کہ ماضی کے انتخابات میں اسٹیبلشمنٹ کی ناپسندیدہ کسی بھی جماعت کے ساتھ ہوتا رہا ۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ کے ماضی کے متاثرین نے دوسری سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے، اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی کی اور آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کیا۔ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سے یہ حقیقت تبدیل ہونے کا امکان نہیں کہ تحریک انصاف نہ تو مرکز میں حکومت بنا سکے گی اور نہ ہی پنجاب میں۔ تحریک انصاف نے دوسری بڑی جماعتوں سے بات کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ اس کی اپنی نشستوں کی تعداد پارلیمانی اکثریت کیلئے ناکافی ہے۔ انتخابات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوں تو سب سے بڑے گروپ کے علاوہ دیگر جماعتوں کی طرف سے حکومت کی تشکیل بھی پارلیمانی جمہوریتوں میں کوئی اجنبی تصور نہیں۔ پاکستان کو ایک نئے اقتصادی بیل آؤٹ کیلئے آئی ایم ایف اور دیگر قرض دہندگان کے ساتھ مذاکرات جیسے اہم مسائل سے نمٹنے کیلئے حکومت کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ اور پی پی پی دونوں کو احساس ہے کہ اس وقت پاکستان کی قیادت سنبھالنا کانٹوں کا تاج پہننے کے مترادف ہے۔ مسلم لیگ ایسا کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے جبکہ دوسروں کی نظر اگلے الیکشن پر ہے۔ ایک فعال حکومت کا نہ ہونا کمزور حکومت ہونے سے بھی بدتر ہوگا۔

غیر یقینی پن اور عدم استحکام کے تسلسل کی بجائے پاکستان کے سیاست دان ایسا راستہ اختیار کر سکتے ہیں جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں اختیار کیا۔ وہ قومی اتحاد کی حکومت بنانے کیلئے ذاتی تنازعات پس پشت ڈال سکتے ہیں۔ تاہم تحریک انصاف کی سمت عمران نے طے کررکھی ہے اور وہ کوئی سمجھوتہ کرنے کے روادار نہیں۔ ان کے سیاسی کیرئیر پرنظرڈالیں تو دوموضوعات سامنے آتے ہیں۔ ایک دائیں بازو کے اسلام پسند نظریے کی تعریف اور دوسرا اپنے علاوہ تمام پاکستانی سیاست دانوں سے نفرت۔ حالیہ انتخابات کے بعد ان کے فیصلے ان مستقل معروضات کی تصدیق کرتے ہیں۔ عمران نے مرکزی دھارے کی دو بڑی جماعتوں سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا  اور مذہبی جماعتوں، جماعت اسلامی اور مجلس وحدت المسلمین کے ساتھ اتحاد کا راستہ چنا۔ اگر تحریک انصاف اب یا مستقبل میں کبھی حکومت سازی کرتی ہے تویہ فیصلے اس کو حکمران جماعت کے طور پر اور بھی غیر موثر کر سکتے ہیں ۔

عمران خان نے امریکہ میں پاکستانی سفیر کی ایک امریکی سفارت کار کے ساتھ بے تکلف گفتگو کواستعمال کرتے ہوئے حکومت کی تبدیلی کے بارے میں ایک سازشی تھیوری تیار کی۔ اور مقامی طور پر اس پر بیانیہ بنانے میں بہت کامیاب رہے۔ لیکن اس نے زیادہ تر بین الاقوامی رابطہ کاروں کو عمران خان کے پاپولزم اور سازشی نظریات سے ہوشیار کر دیا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہ بیان بازی جو عمران کو اندرون ملک مقبول بناتی ہے، پاکستان کیلئے بیرون ملک ایسے تعلقات استوار کرنا مشکل بنا دیتی ہے جو پاکستان کو اپنے معاشی بحرانوں سے نمٹنے میں مدد دے سکیں۔

(بشکریہ:روزنامہ جنگ)