مولانا فضل الرحمان کی پریشانی کا کوئی حل نہیں!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعرات 15 / فروری / 2024
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شدید جلال میں ہیں اور ایک بار پھر ’تخت یا تختہ‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے اعلان کررہے ہیں کہ اب فیصلے ’میدان‘ میں ہوں گے۔ مولانا کے اس بیان سے اگر ان کی پھنکار اور بدحواسی کو الگ کردیا جائے تو جانا جاسکتا ہے کہ اس ملک کا کوئی بھی مذہبی رہنما جمہوریت پر یقین نہیں رکھتا بلکہ اپنے نام نہاد ’تقدس‘ کی بنا پر حکمرانی پر اپنا حق فائق سمجھتا ہے۔ جمہوری عمل میں مذہبی لیڈروں کی مسلسل ناکامی ان کی بدحواسی اور مایوسی میں اضافہ کررہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے تازہ بیانات اور ’انکشافات‘ کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یادش بخیر وہ جس ’میدان‘ میں سیاسی فیصلے کرنے کا اعلان کررہے ہیں، یہ میدان انہوں نے اکتوبر /نومبر 2019 میں بھی سجایا تھا ۔ اور آج وہ جس پارٹی کے رہنماؤں کے ساتھ بغلگیر ہوکر انتخابی دھاندلی کے خلاف جد و جہد کرنے کا اعلان کررہے ہیں، گزشتہ کل میں وہ اسی پارٹی کے بانی چئیرمین عمران خان کو ’یہودیوں و قادیانیوں‘ کا حمایت یافتہ قرار دے کر ، اس کے خلاف ’آزادی مارچ‘ نکال رہے تھے ۔ دیگر سب سیاسی پارٹیوں نے اس وقت انہیں اس احتجاج سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا اور مولانا کے اصرار کے باوجود مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی اس میں شریک نہیں ہوئی تھیں ۔ حالانکہ یہ دونوں پارٹیاں بھی 2018 کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتی تھیں اور عمران خان کو ’نامزد‘ وزیر اعظم پکارا جاتا تھا۔ اس کے باوجود مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ کے نام پر 18 دن تک اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا۔
اب مولانا کو یک بیک یاد آیا ہے کہ اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کہنے پر لائی گئی تھی۔ یہ سچ تو پاکستانی عوام کو اسی وقت سے معلوم ہے جب یہ رونما ہورہا تھا اور مولانا سچ بولنے کی بجائے شہباز شریف کی حکومت میں اپنی پارلیمانی حیثیت سے زیادہ حصہ لینے کی تگ و دو کررہے تھے۔ البتہ یہ سچ ابھی تک منظر عام پر نہیں آیا کہ مولانا نے اکتوبر 2019 میں کس کے کہنے پر آزادی مارچ کا ارادہ کیا تھا؟ اور پھر کوئی مقصد حاصل کیے بغیر ، اپنے کارکنوں اور مدرسوں کے بے بس طالب علموں کو اسلام آباد کی سردی میں دو ہفتے سے زائد مدت تک خوار کرنے کے بعد اسے ختم کرنے کا اعلان بھی کردیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کو اگر سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کا خیال آہی گیا ہے تو وہ یہ بھی بتادیں کہ آزادی مارچ کا ڈھونگ کیوں رچایا گیا تھا اور انہیں ملک کی ایک منتخب حکومت کو کمزور و پریشان کرنے کا مشن کس نے کن شرائط پر سونپا تھا۔
کیا مولانا فضل الرحمان کی بدحواسی اور پریشانی کا سبب یہ تو نہیں ہے کہ وہ ’تابعدار و مفید‘ سہولت کار کے طور پر اسٹبلشمنٹ کے خدمت گزار رہے ہیں لیکن 8 فروری کے انتخابات میں انہیں اپنی دیرینہ خدمات کا پورا ’معاوضہ‘ نہیں مل سکا۔ وہ اس ماہ ہونے والے انتخابات میں بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں حکومت بنانے کی حیثیت حاصل کرنے کے خواہش مند تھے ۔ اس کے علاوہ وہ قومی اسمبلی میں اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتے تھے تاکہ ہر پارٹی حکومت سازی میں ان کی بات سننے اورشرائط ماننے پر مجبور ہو۔ انتخابی نتائج نے البتہ پاکستان کے ہر شہری کو حیران کیا ہے اور تحریک انصاف کے صفحہ ہستی سے مٹ جانے کی پیش گوئیوں کرنے والے تجزیہ نگار کو شرمسار ہیں۔ لیکن مولانا فضل الرحمان کو لگنے والا جھٹکا شاید ان دونوں کیفیات سے بڑھ کر ہے۔ وہ صدمے اور بدحواسی کی ملی جلی کیفیت کی وجہ سے شدید ہیجان میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ پہلے چند روز تو وہ اسی ذہنی صدمے سے نکلنے کی کوشش کرتے رہے پھر گزشتہ روز پریس کانفرنس میں انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے فیصلے ’ایوان کی بجائے میدان‘ میں کرنے کا اعلان کیا۔ اور آج وہ اسی حریف سے راز و نیاز میں مصروف ہیں جسے کل تک وہ اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والا رہزن کہتے تھے۔
نوٹ کرنا چاہئے کہ مولانا فضل الرحمان کے غم و غصہ کا اظہار چوہدری شجاعت حسین کے گھر پر منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کے بعد سامنے آیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں میاں شہباز شریف اور آصف علی زرداری نے متعدد دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنانے اور ملک کو موجودہ معاشی بحران سے نکالنے کا عزم کیا تھا۔ آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے وسیع البنیاد اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور وہ اس سلسلہ میں تحریک انصاف کے ساتھ بھی سلسلہ جنبانی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر قومی اسمبلی میں دو سیٹیں لینے والی پاکستان استحکام پارٹی کا نمائیندہ تو موجود تھا لیکن مبلغ 4 نشستیں حاصل کرنے والی جمیعت علمائے اسلام (ن) کو صریحاً نظر انداز کردیا گیا۔ یا تو مولانا کی پارٹی کو شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی یا وہ اپنے چاروں منتخب ارکان کے لیے وزارتیں اور بلوچستان کی حکومت مانگ رہے ہوں گے۔ اس وقت یہ مطالبے پورے کرنا شاید اتحاد میں شامل دونوں بڑی پارٹیوں کے لیے ممکن نہ ہو اور مولانا کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا ہو۔
اب ٹی وی پروگراموں اور پریس کانفرنسوں میں ان کے بہتے ’آنسو‘ محرومی کی داستان سنا رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان نے طویل سیاسی زندگی میں مواصلت و مصالحت سے کام لینے اور زیرک سیاست دان ہونے کی شہرت کمائی تھی۔ گزشتہ دو روز کے دوران میں جذباتی، بے بنیاد اور کسی حد تک اشتعال انگیز بیانات سے وہ اسے خود اپنے ہی ہاتھوں برباد کرنے پر آمادہ ہیں۔ مولانا کا یہ کہنا کہ اب فیصلے میدان میں ہوں گے ، درحقیقت پاکستانی عوام کی اجتماعی دانش کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔ یہ مؤقف اس ملک کے آئین سے انحراف اور عدالتی نظام پر مکمل بداعتمادی کا اظہار ہے۔ پاکستان کا آئین انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی اسمبلیوں میں فیصلے کرنے کا حکم صادر کرتا ہے۔ مولانا فضل الرحمان البتہ اب اسمبلیوں کی بجائے میدان میں پنجہ آزمائی کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس معرکہ آرائی کے لیے سب سے پہلے تعاون کا ہاتھ بڑھانے والوں میں تحریک انصاف کے عمران خان ہیں جن کی براہ راست ہدایت پر بیرسٹر گوہر علی خان اور اسد قیصر نے مولانا سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد بیرسٹر گوہر علی نے اعلان کیا کہ دونوں پارٹیاں مل کر انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کریں گی۔ تحریک انصاف اس سے پہلے ہفتہ کے روز پرامن احتجاج کا اعلان کرچکی تھی۔ البتہ مولانا کی مدد سے شاید وہ اس پرامن احتجاج کو ہنگامہ پرور بنانے کی خواہاں ہو۔
تحریک انصاف سانحہ 9 مئی کے بعد اپنی اسٹریٹ پاور کا کوئی قابل ذکر مظاہرہ نہیں کرسکی۔ حتی کہ اس کے بانی چئیرمین کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا اور سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے باوجود رہا نہیں کیا گیا۔ انتخابات سے چند دن پہلے نہ صرف عمران خان بلکہ ان کی پردہ نشین اہلیہ کو بھی دو مقدموں میں طویل المدت سزائیں دی گئیں لیکن تحریک انصاف کوئی پرجوش مظاہرہ نہیں کرسکی۔ اب انتخابات میں ناقابل یقین کامیابی کے بعد بھی وہ مصالحانہ طرز عمل اختیار کرنے کی بجائے دھاندلی کا شور مچاکر یہ اعلان کررہی ہے کہ اسے قومی اسمبلی میں دوتہائی اور پنجاب اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کے بانی چئیرمین کو اس مشکل میں سہارا تلاش کرنے کے لیے اگر کوئی مرد دانا نظر آیا تو وہ مولانا فضل الرحمان ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں ایسے دعوے کرنے کی تاریخ رکھتے ہیں جنہیں ضابطہ تحریر میں بھی نہیں لایا جاسکتا۔ لیکن اب کسی مشترکہ مقصد کے لیے مل کر چلنے کی باتیں کی جارہی ہیں۔
حالیہ انتخابات میں جمیعت علمائے اسلام (ف) 2018 کے انتخاب کے مقابلے میں قومی اسمبلی میں 12 اور خیبر پختون خوا اسمبلی میں 6 نشستوں سے محروم ہوئی ہے جہاں اب اسے بالترتیب 4 اور 7 سیٹیں مل سکی ہیں۔ بلوچستان میں البتہ اس نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے جہاں جے یو آئی ایف کو 11 سیٹیں ملی ہیں۔ بلوچستان کے علاوہ مولانا کی جمیعت کسی بھی اسمبلی میں بارگینگ پوزیشن میں نہیں ہے ۔ اگر مولانا بلوچستان میں تحریک انصاف کی مدد سے حکومت بنانے کا سوچ رہے ہیں تو یہ بیل شاید منڈھے نہ چڑھے۔ 51 نشستوں میں ان دونوں پارٹیوں کو 17 سیٹیں ملی ہیں جبکہ حکومت بنانے کے لئے 26 ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ اس کے علاوہ تحریک انصاف کے ارکان چونکہ آزاد حیثیت میں منتخب ہوئے ہیں، اس لیے ہوسکتا ہے انہیں مخصوص سیٹوں میں بھی حصہ نہ ملے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم (ن) حکومت سازی کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔
لیکن اس امکان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ مولانا کی نئی حکمت عملی حکومت سازی سے بڑھ کر ہو اور انہیں تحریک انصاف کو ’نکیل ‘ ڈالنے کا مشن سونپا گیا ہو۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ مولانا کے اس انکشاف کے بعد کہ’ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جنرل باجوہ کے کہنے پر لائی گئی تھی‘ تحریک انصاف کے حامیوں نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کردیا ہے۔ جس فضل الرحمان کا نام دشنام طرازی کے بغیر لینا گناہ سمجھا جاتا تھا ، یک بیک اسے حق پرست ہیرو کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ تاہم مولانا کا یہ مشن کامیاب ہونے کا ا مکان کم ہے کیوں کہ عمران خان کو پاکستانی عوام میں وسیع ذاتی مقبولیت حاصل ہے۔ اس کا مظاہرہ 8 فروری کے ان تخابی نتائج میں ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ عمران خان اس بحران میں دھاندلی کے دعوے کو ’حقیقی‘ بنانے کے مقصد سے مولانا کی طرف ہاتھ بڑھارہے ہوں۔ یا یہ بتانے کی کوشش کررہے ہوں کہ وہ سیاسی تعاون تو کرنا چاہتے ہیں لیکن ’چوروں لٹیروں‘ کے ساتھ ہاتھ نہیں ملاسکتے۔ البتہ گزشتہ کچھ دن پہلے تک مولانا فضل الرحمان کے بارے میں بھی ان کا یہی ارشاد تھا۔
مولانا فضل الرحمان کی سیاسی قلابازی کی کوئی بھی وجہ ہو لیکن یہ تو طے ہے کہ نہ تو وہ کوئی بڑا مقصد حاصل کرسکتے ہیں اور نہ ہی اس حکمت علمی سے ان کی سیاسی اہمیت میں اضافہ ہوگا۔ نئی حکومت بننے کے بعد دھاندلی کے نام پر ایک نیا احتجاج شروع کیا گیا تو یہ سدھار کی بجائے بگاڑ کی طرف قدم ہوگا۔ ایسی تمام سیاسی قوتیں پاکستان میں استحکام اور معاشی بحالی کی ہر امید کو تہس نہس کرنے کا باعث بنیں گی۔ دھاندلی کے نام پر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے براہ راست پاکستان کے مفادات پر حملہ آور ہوں گے۔ جو بھی حکومت ایسے احتجاج کو برداشت کرنے پر مجبور ہوئی، وہ بہر حال موجودہ حالات میں ملک میں حکمرانی کے لائق نہیں سمجھی جائے گی۔