جنرل باجوہ نے تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کی، مولانا نے تجویز مسترد کردی: ملک احمد خان کا دعویٰ

  • جمعہ 16 / فروری / 2024

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک احمد خان نے مولانا فضل الرحمٰن کے بانی پی ٹی آئی کے خلاف عدم اعتماد سے متعلق سابق آرمی چیف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے حوالے سے دعووں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ جنرل (ر) باجوہ نے تحریک عدم اعتماد کی مخالفت کی تھی لیکن مولانا نے ان کی تجویز مسترد کردی تھی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی بانی پی ٹی آئی سے متعلق باتیں جلی حروف میں لکھنی چاہئیں۔ کیا کوئی ہمیں یہ کہے گا کہ آپ لوگ تحریک عدم اعتماد جمع کرا دیں؟ کیا کوئی کسی کو تحریک عدم اعتماد کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب بانی پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی جارہی تھی تو جنرل (ر) باجوہ نے مخالفت کی تھی۔ قمر باجوہ نے کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد نہ لاؤ، قمرباجوہ نے سیاسی جماعتوں سے کہا تھا کہ تحریک واپس لیں تو الیکشن ہوجائیں گے لیکن فضل الرحمٰن نے قمرباجوہ کی تجویز مسترد کردی تھی۔

انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد اگر قمرباجوہ نے کروائی تو فضل الرحمٰن نے واپس لینے کا کیوں کہا؟ ملک احمد خان نے فضل الرحمٰن کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی کے کہنے پر تحریک عدم اعتماد پیش نہیں کی۔ ’مولانا فضل الرحمٰن نے تو قمر باجوہ سے کہا تھا تحریک عدم اعتماد سے کیوں منع کررہے ہیں۔ مولانا نے کہا تھا کہ جنرل صاحب آپ ہمیں دستبردار کرنے کیلئے کیسے کہہ سکتےہیں؟

رہنما مسلم لیگ (ن) نے الزام لگایا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے سیاسی جماعتوں کی توہین کی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر نیوٹرل ہونےکا بیان دے چکے تھے۔ 9 مئی کے واقعات پر مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف بہت سخت تھا، بعض دفعہ تو مجھے مولانا اسعد محمود کی گفتگو سے خوف آتا تھا۔

ملک احمد خان نے کہا کہ ’مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقاریر میں پی ٹی آئی کی حقیقت کئی بار بتائی، مولانا کی تقاریر سے پتہ چلا کہ بانی پی ٹی آئی بیرونی آلہ کار ہیں۔ پی ٹی آئی جماعت ملک کے خلاف سازش کررہی ہے، یہ مجھے مولانا کی تقریر سے پتہ چلا۔ ہر سیاسی عمل کے نتائج ہوتےہیں، مولانا فضل الرحمٰن کی وہ تقریریں یاد ہیں جب وہ بانی پی ٹی آئی کے دھرنے کے وقت کرتےتھے۔ کچھ قوتیں ملک میں عدم استحکام چاہتی ہیں۔

یاد رہے کہ نجی چینل ’سما ٹی وی‘ کے پروگرام ’ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے کہنے پر لائی گئی تھی۔ عدم اعتماد کی تحریک پیپلزپارٹی چلا رہی تھی۔ جنرل (ر) فیض حمید میرے پاس آئے اور کہا سسٹم کے اندر رہ کر آپ جو کرنا چاہیں ہمیں اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن سسٹم سے باہر جاکر نہیں۔ میں نے اس سے انکار کردیا تھا لیکن پھر جب پی ٹی آئی کے لوگ، ایم کیو ایم اور بی اے پی ٹوٹ کر آئی تو انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس اکثریت ہے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ اگر اس وقت میں عدم اعتماد سے انکار کرتا تو کہا جاتا کہ مولانا نے عمران خان کو بچا لیا۔ عدم اعتماد سے متعلق جنرل (ر) فیض اور جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ ہمارے ساتھ رابطے میں تھے اور ان کی موجودگی میں سب کو بلایا گیا۔ اور سب کے سامنے کہا گیا کہ آپ نے ایسا کرنا ہے اور اس طرح کرنا ہے۔