ہماری 85 نشستیں چھین کر جمہوریت پر حملہ کیا گیا: تحریک انصاف

  • جمعہ 16 / فروری / 2024

تحریک انصاف نے کہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کرکے جمہوریت پر حملہ کیا گیا۔ انتخابات میں ہماری 179 نشستیں ہونی چاہئیں تھیں 85 نشستیں چھینی گئیں۔

ہمارے مسترد ووٹس کی تعداد وکٹری ووٹس سے زیاد ہے۔ 2024 پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ دھاندلی شدہ انتخابات تھے۔  پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن، سیمابیہ طاہر، شیر افضل مروت، شاندانہ گلزار، ریحانہ ڈار، سلمان اکرم راجا اور دیگر رہنما و امیدوار بھی موجود تھے۔  انہوں ںے اپنے حلقوں کے انتخابات کو الیکشن کمیشن یا عدالتوں میں چیلنج کررکھا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران علیمہ خان بھی پہنچ گئیں۔

تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات رؤف حسن نے کہا کہ انتخابات میں ہماری 179 نشستیں ہونی چاہئیں تھیں۔ ہم سے 85 نشستیں چھینی گئیں، 46 نشستوں کا ڈیٹا ہمارے پاس موجود ہے۔ اور بقیہ نشستوں کا ڈیٹا بھی ہم 24 گھنٹوں میں مکمل کرلیں گے۔ ہمارے مسترد کیے گئے ووٹس کی تعداد وکٹری ووٹس سے بھی زیادہ ہے۔ 2024 پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ دھاندلی شدہ انتخابات تھے۔

رہنما شاندانہ گلزار نے کہا کہ اس الیکشن میں 1.25 ملین ووٹ ہمیں صرف کراچی سے ملے۔ کراچی میں اتنی نشستیں ہونے کے باوجود ہماری کوئی کامیابی نہیں ہے۔ قومی اسبملی میں دن تین بجے تک ہماری 154 نشستیں تھیں، کے پے سے ہم 42 سیٹ پر کامیاب ہوئے لیکن الیکشن کمیشن نے صرف 32 امیدواروں کو کامیاب کیا۔

شاندانہ گلزار نے کہا کہ کئی پولنگ اسٹیشنز سے ہمارے پولنگ ایجنٹس کو نکال دیا گیا۔ اعدادوشمار سے ہماری قانونی ٹیم کو بھی کافی معاونت ملے گی۔ ہمارے تمام نتائج کو پریزائڈنگ افسر اور آر او کا نتیجہ مختلف کر دیا گیا۔ دھاندلی ہمیشہ ہوتی ہے لیکن اس وقت دھاندلا ہوا۔ جیسے ہی رات ہوئی ہمارے نتائج کو بدل دیا گیا۔

سیمابیہ طاہر نے کہا کہ این اے 130 لاہور رات تک ڈاکٹر یاسمین راشد لیڈ کر رہی تھیں لیکن اگلے دن این اے 130 سے نواز شریف کی کامیابی سامنے آئی۔ این اے 47 میں شعیب شاہین کے ساتھ بھی دھاندلی کی گئی۔ راولپنڈی میں ہمارے امیدوار نے این اے 56 سے بھرپور لیڈ حاصل کی لیکن بدقسمتی سے حنیف عباسی نے رات 3 بجے جیت گیا۔

انہوں ںے کہا کہ اسی طرح این اے 236 کراچی میں بہت زیادہ ظلم کیا گیا۔ ہم نے کراچی سے تمام سیٹیں جیتیں لیکن ہمیں ایک بھی نہ دی گئی۔ چکوال میں بھی ایاز امیر کے ووٹوں کو مخالف امیدوار کو دے دیا گیا۔ عمران خان کی دشمنی میں اس کے کارکنوں کو دبانے کی کوشش کی گئی۔ این اے 243 میں عبدالقادر پٹیل کو صبح ہوتے ہی جتا دیا گیا۔ آصف زرداری کی شاطر مسکراہٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ کراچی کو کیسے تباہ کیا گیا۔

سینئر مرکزی رہنما سلمان اکرام راجہ نے کہا کہ پولنگ اسٹیشن سے لے کر آر او آفس آنے تک دھاندلی کی مثال بنائی گئی۔ فارم 45 کے مطابق جو نتائج آنے تھے انہیں مکمل طور پر تبدیل کیا گیا۔ آٹھ فروری کی رات میں ان سے جس حد تک دھاندلی ہو سکی کی گئی۔ آٹھ فروری کو جو عوام نے ووٹ دیا تھا، رات کے اندھیرے میں انہیں تبدیل کر دیا گیا۔

الیکشن سے قبل بھی تمام سیکیورٹی کو استعمال کیا گیا۔ الیکشن کے لئے آزاد امید واروں کو کوئی مہم چلانے نہیں دی گئی۔ الیکشن سے قبل پارٹی کا نشان لے کے عوام کو مزید مشکل میں ڈال دیا گیا۔ عوام نے اس کے باوجود تمام امید واروں کے نشان یاد رکھے اور ووٹ کاسٹ کیا۔

سلمان اکرم راجا نے کہا کہ یہ انتخابات جمہوریت پر کھلا حملہ تھے۔ پاکستانی عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا مگر اسے ہرادیا گیا۔ خرم شیر زمان نے کہا کہ کراچی میں ایم کیو ایم کو مکمل فتح دلائی گئی جو کہ پانچویں نمبر پر تھی۔ ہمارے بعد جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر تھی مگر وہ بھی کہیں بھی نہیں ہے۔