عمران مولانا بھائی بھائی؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعہ 16 / فروری / 2024
جمعیت علمائے اسلام اپنی اصل میں نہ صرف دیو بند تحریک کا جزولاینفک ہے بلکہ جمعیت علمائے ہند کا ایک طرح سے پاکستانی چیپٹر یا چہرہ ہے۔ کسے معلوم نہیں ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ کانگریس کے ساتھ مل کر جدوجہد سے بھرپور عوامی سیاست کی ہے۔
مخالفین ان پر ہمیشہ کانگرسی علما کی پھبتی بھی کستے رہے لیکن علمائے دیو بند نے برا ماننے کی بجائے ہمیشہ اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف رویے کو اعزاز اور فخر کےطور پر لیا۔ مولانا مفتی محمود اپنی سیاسی جدوجہد میں ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ جمہوریت مشرق سے آئے یا مغرب سے، اوپر سے آئے یا نیچے سے، ہماری کمٹمنٹ جمہوریت کے ساتھ ہے۔ ہم آمریت کو کسی قیمت پر قبول نہیں کرسکتے۔
مولانا فضل الرحمن اس وقت ہماری مذہبی سیاست کےسرخیل ہیں۔ بشمول جماعتِ اسلامی ہماری موجودہ مذہبی پس منظر والی جتنی بھی کھیپ ہے، مولانا فضل الرحمن سب سے بڑھ کر متحرک، معاملہ فہم اور زیرک گردانے جاتے ہیں۔ بشمول اسٹیبلشمنٹ تمام سیاسی گرو بھی ان کی سٹریٹ پاور کا لوہا مانتے ہیں۔ وہ جس قدر جمہوری سیاست کرتے ہیں، اسی قدر احتجاجی سیاست کا ذوق بھی رکھتے ہیں۔ یہ مولانا ہی تھے جنہوں نے الیکشن 2018 کے فوری بعد انہیں دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف احتجاجی تحریک کا عندیہ ظاہر کیا تھا۔ بلکہ پورا زور دیا تھا کہ ہم اسمبلیوں میں بیٹھنے کی بجائے سڑکوں پر نکل کھڑے ہوں۔ ماقبل 2013 میں یہ بھی کہا تھا کہ ہم کے پی میں جوڑ توڑ کرتے ہوئے نوازشریف کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بناسکتے ہیں، جس کا میاں صاحب کو آج کے دن تک پچھتاوا یا افسوس ہے۔
آج پھر مولانا فضل الرحمن غصے میں ہیں بلکہ حالیہ انتخابی نتائج پر سیخ پا ہیں فرماتے ہیں کہ پورا الیکشن چوری ہوا ہے ہم اس دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔ یہ پارلیمان نہیں چلے گی۔ اس کی کوئی حیثیت و اہمیت نہیں ہے۔ پارلیمان میں فیصلے اور پالیسیاں کہیں اور سے آئیں گے۔ ہم اس وقت تک احتجاج کریں گے جب تک یہ طے نہیں ہوجاتا کہ آئندہ اسٹیبلشمنٹ ملکی سیاست سے کوئی سروکار نہیں رکھے گی۔ اس کے ساتھ ہی مولانا نے ایک ایسی بات فرمادی ہے جس سے رولا پڑ گیا ہے۔ اور جس کی توقع مولانا سے ہرگز نہیں کی جاسکتی تھی۔ یہ کہ ”تمام اکابرین اور دوست جانتے ہیں کہ میں پی ٹی آئی کے خلاف عدم اعتماد کے حق میں نہیں تھا لیکن میں نے اپنے دوستوں کے لیے، اپنی رائے کی قربانی دی۔ عمران حکومت کے خلاف تحریک لانے کے لیے جنرل باجوہ اور جنرل فیض حمید نے سیاسی جماعتوں کو ہدایات دیں۔ جنرل فیض نے کہا جو کرنا ہے سسٹم کے اندر رہ کر کریں۔ ن لیگ اور پی پی نے اس پر مہر لگائی میں انکار کرتا تو کہاجاتا کہ میں کھلاڑی کو بچا رہا ہوں‘۔
ظاہر ہے ان ہر دو ریٹائرڈ جرنیلوں کی طرف سے اس کی تردید آنی تھی سو آئی لیکن مولانا نے اتنی بڑی بات کرکے خود کو ایک مشکل صورتحال میں لاکھڑے کیا ہے۔ اگریہ درویش ان کا انٹرویو کررہا ہوتا تو فوری پوچھتا کہ جس حکومت کو ہٹانے کے لیے آپ اس قدر بے تاب تھے کہ سڑکوں پر احتجاجی تحریک اور مار دھاڑ کے لیے بھی تیار تھے، جس میں خون خرابہ بھی ہوسکتا تھا، جب آپ کو پرامن اور جمہوری طور پر اسے ہٹانے کا موقع ملا تو آپ کہتے ہیں کہ میں اس کے حق میں نہیں تھا؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس وقت جنرل فیض آئی ایس آئی میں نہیں رہے تھے، وہ تو پشاور میں تھے۔ دوسرے اگر کسی جنرل نے یہ بات کہی بھی تھی کہ سسٹم کے اندر رہ کر آپ کوئی بھی کام کرسکتے ہیں تو یہ بات قطعی قابلِ فہم ہونی چاہیے ۔ الیکشن 2018 سے پہلے سسٹم کو وایولیٹ کرتے ہوئے کسی نے اپنے مفادات کی خاطر یا کسی لاڈلے کو لانے کے لیے جو بھی کرتوت کیے تھے،
جب اسی غلط کاری کی ریمیڈی سسٹم یعنی آئین کی مطابقت میں کرنے کی بات ہوئی تو اس کی مخالفت یا غصہ ناقابلِ فہم ہے۔
مولانا واضح فرمائیں کہ کسی بھی حکومت کو ہٹانے کے لیے آئینی طریقِ کار اپنانا درست ہے یا غیر آئینی احتجاجی راستہ اختیار کرتے ہوئے دھینگا مستی کرنا؟ اور پھر آج آپ کس اصول پر اتنا بڑا یوٹرن لینے جارہے ہیں۔ وہ شخص جسے آپ اٹھتے بیٹھتے یہودی ایجنٹ قرار دیتے نہیں تھکتے تھے، اس کی پارٹی کے خلاف کیا کچھ نہیں بولتے چلے آرہے ہیں۔ آپ کے بقول وہ اس عالمی صیہونی طاقتوں کے نام نہاد ایجنٹ کے خلاف پی ڈی ایم کا جو الائینس تشکیل پایا تھا اس کی سربراہی آپ ہی فرمارہے تھے۔
آپ فرمارہے ہیں کہ 2024 میں 2018 سے بھی بڑی دھاندلی ہوئی ہے۔ یہ کیسی دھاندلی ہے کہ جس میں آپ کی پارٹی کو قومی اسمبلی کی سات نشستیں حاصل ہوگئی ہیں اور پی ٹی آئی سو کے
قریب پہنچی ہوئی ہے۔ آج پورا کے پی ان کے رحم و کرم پر ہے جبکہ چاروں لاڈلوں میں کوئی بھی سمپل میجارٹی کے ساتھ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ درویش کا مشورہ ہے کہ حضرت آپ اس حد تک نہ جائیں، دونوں بڑی پارٹیوں کو بھی بلوچستان میں مولانا کا مینڈیٹ تسلیم کرتے ہوئے انہیں حکومت بنانے میں معاونت فراہم کرنی چاہے۔ یہ ملک بدنصیب ایجی ٹیشن کی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکے گا۔
ن لیگ والوں نے بھی شہباز حکومت کے چسکے سے پیچھے نہیں ہٹنا ہے لیکن اپنی بات ریکارڈ پر لانے کےلیے گزارش ہے کہ وہ اس سے باز رہیں، شہباز کو چیئرمین سینٹ کے عہدے پر بٹھالیں لیکن بلاول کو وزارتِ عظمیٰ کے سنگھاسن پر براجمان کرتے ہوئے اس کے ابا اور پارٹی کو خوش و مطمئن کردیں۔ اس سلسلے میں طاقتوروں کو مطمئن کریں کہ تابع فرمانی میں یہ نوجوان کسی طرح بھی بلند پرواز سے پیچھے نہیں رہے گا۔ جس طرح نوازشریف نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لیے وزارتِ عظمیٰ کی لالچ نہیں کی ہے، قومی اپروچ رکھنے والے دیگر سیاستدان بھی اسی طرح سوچیں۔ جولوگ خود کو زیادہ معتدل ثابت کرنے کے لیے اس نوع کی تجاویز پیش فرمارہے ہیں کہ پی ٹی آئی کو بھی شامل کرتے ہوئے قومی حکومت تشکیل دی جائے وہ ناقابلِ عمل اور لایعنی بات ہے جو ممکن ہی نہیں۔
حکومت تین میں سے دو کے اکٹھے ہونے سے ہی بنے گی جیسے کہ ن لیگ اور پی پی ہوچکے۔ ہیں۔ سچائی تو یہ ہے کہ اس ملک بدنصیب کی تقدیر میں معاشی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام یہ خرابی ہماری منافرت بھری بنیادوں یا جڑوں میں ہے۔ پہلے مرض کی حقیقی تشخیص کی جائے اس کے بعد مل بیٹھ کر اس کا علاج سوچا جائے۔ دھاندلی دھاندلی کا شور مچانے والے سوچ لیں کہ اس کے مفاسد کیا نکلیں گے؟ یا تو اپنے ان الزامات کو عدالتوں میں ثابت کریں بصورت دیگر اس منافرت بھرے پروپیگنڈے کو بند کریں۔
آج بشمول امریکا اور یورپی یونین پوری دنیا میں ہمارا الیکشن مذاق بن کررہ گیا ہے۔ جبکہ سابق کھلاڑی اُسی امریکا کے سامنے اسے مزید اچھال کر تعاون مانگ رہے ہیں، ماقبل جسے اپنی حکومت گرانے کا مجرم قرار دیتے تھے۔ ایسی فضا میں قائم ہونے والی حکومت کی عالمی ساکھ یا کریڈیبلٹی کیا رہ جائے گی؟ ایسے میں اگر احتجاجی تحریک چل پڑی تو اس ملک کی چولیں ہل جائیں گی۔