کمشنر راولپنڈی کا الیکشن میں دھاندلی کرنے کا الزام، الیکشن کمیشن کی تردید
الیکشن کمیشن نے کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ کے عام انتخابات میں دھاندلی کے لیے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف الزامات کی تردید کی ہے۔ الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ وہ ان الزامات کی جلد انکوائری کرائے گا۔
الیکشن کمیشن کے کسی عہدیدار نے الیکشن نتائج کی تبدیلی کے لیے کمشنر راولپنڈی کو کوئی ہدایات جاری نہیں کیں۔ ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کی انکوائری کروائے گا۔
اس سے قبل کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چھٹہ نے عام انتخابات میں دھاندلی کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ انہوں نے راولپنڈی کے کرکٹ سٹیڈیم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’میں چاہتا ہوں میں سکون کی موت مروں۔ میں اس طرح کی زندگی نہیں جینا چاہتا جو میرے ساتھ ہوا ہے اور اس ڈویژن کے 13 ایم این ایز جو 70، 70 ہزار کی لیڈ سے ہارے ہوئے تھے ان پر جعلی مہریں لگا کر اتنا بڑا کھلواڑ ہوا۔ ہم وہی 1971 کی طرف جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ (سب) مجھے زیب نہیں دیتا تھا اس لیے میں نے اپنے عہدے سے اپنی سروس سے سب چیزوں سے استعفیٰ دے دیا ہے‘۔ جو میں نے اتنا بڑا جرم کیا ہے۔ میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کرتا ہوں۔ مجھے اس کی بھرپور طریقے سے سزا دینی چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ غلط کام کون کر رہا ہے کون کروا رہا ہے یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ میرے اوپر سوشل میڈیا اور اوورسیز پاکستانیوں کا بہت دباؤ تھا۔
ڈان نیوز‘ کے مطابق کمشنر راولپنڈی لیاقت علی چٹھہ نے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز ہونے جا رہے ہیں جو بہت خوشی کی خبر ہے۔
مجھے نگران حکومت نے الیکشن کروانے کے لیے لگوایا گیا تھا۔ الیکشن ٹھیک نہیں کروا سکا، اس لیے استعفیٰ دیتا ہوں۔ میں ڈیوٹی ٹھیک سے نہیں کر سکا۔ قومی اسمبلی کے 13 کے حلقوں کے نتائج تبدیل کیے گئے۔ ہارے ہوئے امیدواروں کو جتوایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ راولپنڈی سے 13 لوگوں کا جتوایا گیا۔ 70، 70 ہزار لیڈ والوں کو ہروایا گیا۔ میرے ماتحت یہ کام نہیں کرنا چاہ رہے تھے، میرے سامنے پریزائیڈنگ افسران رو رہے تھے۔ لیاقت علی چٹھہ کا کہنا تھا کہ مجھے راولپنڈی کے کچہری چوک میں سزائے موت دی جائے۔ میرے ساتھ الیکشن کمشنر اور دیگر کو بھی سزائیں دی جائیں۔
کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ 1971کا واقعہ دوبارہ ہو۔ فجر کی نماز کے بعد میں نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔
نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی نے کمشنر راولپنڈی کے بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ محسن نقوی نے الزامات کی انکوائری کے لیے اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ کمشنر راولپنڈی کے الزامات کے حوالے سے اصل حقائق کو سامنے لایا جائے گا۔
نگراں وزیراطلاعات پنجاب عامر میر نے کمشنر راولپنڈی کے بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دے دیا۔ ڈان نیوز کے مطابق نگراں وزیراطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ کمشنرکے عہدے پر بیٹھا شخص ایسی غیر ذمہ دارانہ باتیں کرسکتا ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کمشنر راولپنڈی جوباتیں کر رہے ہیں کیا کوئی نارمل انسان کرسکتا ہے؟
ڈپٹی کمشنر راولپنڈی حسن وقار چیمہ نے کہا ہے کہ ڈی آر او اور کمشنر کا نتائج سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کمشنر اور ڈی آر او انتخاب کو سپروائر کرتے ہیں مگر الیکشن عمل میں ان کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ آر او اور الیکشن کمیشن نتائج پر براہ راست رابطے میں ہوتے ہیں۔
جمیعت علمائے اسلام (ف) کے صوبائی امیر مولانا عطا الرحمٰن نے کہا ہے کہ کمشنر راولپنڈی کا استعفی ہمارے موقف کی تائید ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف) 8 فروری کے بعد مسلسل احتجاج پر ہے۔ جے یو آئی (ف) خیبرپختونخوا نے مرکزی جماعت کے فیصلوں کی تائید کی ہے۔
رہنما مسلم لیگ (ن) رانا ثنا اللہ نے کمشنر راولپنڈی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیا یہ کوئی پہلا الیکشن ہےجس میں دھاندلی کا الزام لگا ہو؟ دھاندلی الزامات کی قانونی طور پر تحقیقات ہونی چاہیے۔ کبھی یہ نہیں کہا کہ الیکشن میں دھاندلی الزامات کی تحقیقات کی انکوائری نہ ہو۔ جس آدمی نے خودکشی کی کوشش کی وہ ذہنی دباؤ کا شکارہے۔ خودکشی وہی لوگ کرتے ہیں جو ذہنی طور پر ڈسٹرب ہوں۔
اُن کا کہنا تھا کہ کمشنر راولپنڈی کے انکشافات کم اور الزامات زیادہ ہیں، اتنی لیڈ کا الزام ہارنے والوں نے بھی نہیں لگایا۔