کمشنر راولپنڈی کا ضمیر اور فوج کے کھوٹے سکے

تحریک انصاف لوگوں کو سڑکوں  پر بھلے ہی نہ نکال پائے لیکن  دھاندلی کے الزامات میں اسے ہر آنے والے دن  ایک نیا  ’حلیف‘ ضرور دستیاب ہورہا ہے۔ دوسری طرف  نگران حکومتیں بدحواسی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے، غیر معمولی اقدامات اور بیانات کے ذریعے اپنی پوزیشن کو متنازعہ  بنانے  کے علاوہ،  انتخابات کی شفافیت پر شبہات میں  اضافہ کررہی ہیں۔

انتخابات  میں دھاندلی کے الزامات صرف تحریک انصاف ہی کی طرف سے عائد نہیں کیے جارہے  بلکہ بلوچستان میں تقریباً سب جماعتیں اپنا حصہ  ’غصب‘ کرنے  کا الزام لگاتے ہوئے احتجاج کررہی ہیں۔ اس کے بعد پی ڈی ایم کے صدر اور جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ  مولانا فضل الرحمان نے دو روز قبل دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے انتخابی نتائج ماننے سے انکار کردیا۔  گزشتہ روز سندھ میں پیر پگاڑا کی قیادت میں قائم گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس نے  سندھ میں پیپلز پارٹی کی مسلسل کامیابی  کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو چوتھی باری اقتدار مل رہا ہے۔ گویا انتخابات عوامی رائے جاننے کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ  خواہش مندوں میں ٹافیاں تقسیم کرنے کا   فیصلہ ہے۔ اور اب  اپنے حصے میں کم  شیرینی  آنے والے سارے  ’بچے‘ مل کر  شور مچا رہے ہیں۔

آج  کمشنر راولپنڈی لیاقت علی  چٹھہ نے ایک پریس کانفرنس میں دھاندلی کے نام پر اس بھڑکتی  ہوئی آگ پر تیل پھینکنے کا کام کیا ہے۔  انہوں نے   دھاندلی کا  اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ  اپنے ضمیر کے ہاتھوں مجبور ہوکر  یہ پریس کانفرنس کررہے ہیں۔ انہوں نے راولپنڈی کے 13 حلقوں میں دھاندلی کی اور جیتنے والے  امیدواروں کی بجائے ہارنے والے لوگوں کو ستر ستر ہزار ووٹوں سے  جتوا دیا۔   ساری زندگی بیوروکریسی میں گزارنے والے سابق کمشنر راولپنڈی نے اسی پر اکتفا نہیں کیا  بلکہ انہوں نے خود ہی    استغاثہ اور عدالت  کا رول سنبھالتے ہوئے   خود کو مجرم قرار دیا اور کہا کہ انہیں راولپنڈی کے چوک  پر پھانسی دے دی جائے۔ اسی بیان میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے علاوہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ اور چیف جسٹس  قاضی فائز عیسیٰ کو بھی پھانسی دی جائے کیوں کہ وہ بھی دھاندلی کی اس اسکیم میں شامل تھے۔

جیسا کہ پاکستان کا دستور ہے کہ کسی بھی بات ، الزام یامؤقف کے بارے میں  دلیل  و شواہد دینے کی ضروت محسوس کی جاتی ہے اور نہ ہی  سننے والا  اسے حقائق اور دستیاب شواہد کی کسوٹی پر پرکھ کر رائے بنانے کی ضرورت محسوس کرتا ہے۔ بلکہ اس قسم کے ایک بیان کو بنیاد بنا کر بے  سر و پا  الزامات   کو درست  ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیاقت علی چٹھہ نے اپنے  علاوہ   چیف الیکشن کمشنر و چیف جسٹس کے لیے   چوک میں پھانسی کی سزا تجویز کی ہے۔ اس بیان سے کچھ اور پتہ چلے یا نہ چلے لیکن  ملکی انتظامیہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کی    لیاقت، کامن سنس اور ملکی قانون و ضوابط کے بارے میں بنیادی معلومات کی حقیقت کا علم ضرور ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں ضرور عدالتیں دباؤ میں فیصلے دیتی ہوں گی لیکن  اس کے باوجود مقدمہ چلانے، وکیلوں کو موقع دینے، استغاثہ کی طرف سے دلائل و شواہد پیش کرنے اور ملزموں کو اپنی صفائی دینے کا موقع فراہم کرنے کا ’ڈھونگ‘ تو کیا ہی جاتا ہے۔ لیکن آج پوری پاکستانی قوم نے ایک ایسے اعلیٰ افسر کی پریس کانفرنس مشاہدہ کی ہے جو ملک کے چیف جسٹس کو کسی دلیل اور قانونی کارروائی کے بغیر پھانسی دینے کا اعلان  کررہا ہے۔  البتہ چٹھہ صاحب کی پریس کانفرنس سے یہ واضح نہیں ہوسکا کہ  ملک  میں عدلیہ کے سربراہ کو کون پھانسی چڑھائے گا اور وہ یہ ’حکم‘ کس کے لیے صادر کررہے تھے؟ اس کے علاوہ یہ بھی  معلوم نہیں ہوسکا کہ   کمشنر صاحب نے خود کو پھانسی  چڑھانے  کا جو مطالبہ کیا ہے ،  کیا وہ چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس کو ان کے ساتھ ہی پھانسی دینے سے مشروط ہے۔ یا اگر  صرف انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا جائے تو ان کا مردہ ضمیر مطمئن ہوجائے گا اور وہ مزے کی ابدی نیند سو سکیں گے۔

ملکی آئین کے تحت حلف اٹھانے والا ہر سرکاری عہدیدار  قانون و آئین کی پاسداری کا وعدہ کرتا ہے۔ اور کسی بھی دباؤ میں، وہ اس عہد سے گلو خلاصی حاصل نہیں کرسکتا۔ یعنی اگر کسی افسر کو حکام بالا  کسی غیر قانونی کام  کا حکم دیتے ہیں تو وہ اپنے حلف کے مطابق ،  اسے ماننے کا پابند نہیں ہوتا بلکہ اس قسم کے حکم کے خلاف  حکام  بالا تک اپنی  شکایت پہنچا سکتا ہے۔  لیاقت علی چٹھہ کے معاملہ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کا ضمیر انتخابات منعقد ہونے کے 12 دن بعد بیدار ہؤا ہے ۔  انہوں نے خود اپنے ضمیر کے ہاتھوں  مجبور  ہو کر ’سچ ‘ تسلیم کرنے کا ارادہ کیا تو سرکاری نوکری کے ضابطے و طریقے کے مطابق اعلیٰ حکام کو اپنی شکایت کے ساتھ استعفیٰ بھیجنے کی ضرورت محسوس نہیں کی بلکہ انہیں اس مقصد کے لیے پریس کانفرنس کے ذریعے سنسنی و ہیجان پیدا  کرنا  بہتر محسوس ہؤا۔   کیوں کہ ایسے کسی  ’انکشاف‘ کا مقصد کوئی سچ سامنے لانا نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کو گمراہ کرنے اور ایک خاص سیاسی رائے کو عام کرنے کا مقصد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اگر کمشنر صاحب استعفی لکھ کر بھیج دیتے تو  یہ ’مقدس‘ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔

الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس ان الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے علاوہ پنجاب حکومت بھی تحقیقات کا اعلان کرچکی ہے ۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کسی پر بھی چور یا  قاتل ہونے کا الزام تو لگا سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ  ہی  اس کے ثبوت بھی پیش کرنا ہوتے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ  سارا سیاسی بیانیہ الزامات پر ہی استوار  ہے لہذا دیکھا جاسکتا ہے کہ عدالتوں میں تحریک انصاف  کے انتخابی نشان کو بچانے  کے لئے دلیل اور ثبوت دینے میں ناکام ہونے والے  وکیل، ملک میں سیاسی انتشار پیدا کرنے کا قصد کیے ہوئے سیاسی لیڈر اور الیکٹرانک  و سوشل میڈیا میں ڈگڈگی تماشہ لگا کر روٹی روزی کمانے والے کلاکار   لیاقت چٹھہ کے ’انکشافات‘ پر نت نئی تھگلی لگانے میں مصروف ہیں۔ ہر کسی کو اپنی مقبولیت، اپنا  مفاد یا  اپنی ریٹنگ اور ویوز کی فکر ہے، کسی کو ملک و قوم کی  پریشانی، عوام کی بدحواسی اور  جمہوریت کو پہنچنے والی چوٹ کے بارے میں کوئی اندیشہ نہیں ہے۔

سیاسی لیڈر اگر سابق کمشنر کے  بیان کو اپنے الزامات کا ثبوت  مانتے ہوئے  ہنگامہ برپا کرنے پر تلے ہیں تو دوسری طرف بعض ایسے بھی ہیں جو انہیں ذہنی مریض  اور فاتر العقل قرار دے کر ان سب باتوں کو جھوٹ مان لینے پر  اصرار  کررہے ہیں۔  حیرت انگیز طور پر یہ کام سب سے پہلے  پنجاب کے نگران وزیر اطلاعات  عابد میر نے کیا جنہوں نے  چٹھہ کے بیان  کے اس حصہ کا حوالہ دے کر  کہ انہوں نے آج صبح پہلے خود کشی کا ارادہ کیا تھا لیکن بعد میں  پریس کانفرنس  کا فیصلہ کیا۔ عابد میر کا کہنا تھا کہ اسی سے معلوم ہوجاتا  ہے کہ شخص دماغی توازن کھو چکا ہے۔ لیکن نگران صوبائی حکومت کے ترجمان یہ بتانے  سے قاصر رہے کہ  پھر ان  کی  ہوشمند  و فعال حکومت نے ایسے ’مریض‘ کو ایک ذمہ دار عہدے پر فائز کرکے پاکستانی عوام سے کون سا انتقام لیا تھا؟

ملکی مفادات اور عوامی خواہشات  کے ساتھ کھلواڑ  کرنے والی  پنجاب کی نگران حکومت کی دور اندیشی ہی کا نمونہ ہے  کہ آج دھاندلی کے خلاف احتجاج کے دوران ممتاز وکیل اور لاہور سے تحریک انصاف کے امیدوار  سلمان اکرم راجہ کو  حراست میں لے لیا گیا۔ انہیں شاید ایک آدھ دن میں ضمانت مل جائے گی لیکن معمولی احتجاج روکنے کے لیے ایسی بدحواسی کا مظاہرہ کرنے والی چل چلاؤ حکومت ،ملکی سیاسی تلخی  میں دیر پا اضافہ کا  سبب بنی ہے۔ سیاسی احتجاج کسی کا بھی بنیادی حق ہے۔ حکومت کو صرف یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ ایسا کوئی احتجاج یا مظاہرہ پر امن ہو۔ تحریک انصاف نے ہفتہ کو انتخابی دھاندلی کے خلاف پر امن مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ کسی جگہ سے اس اعلان کی خلاف ورزی کی کوئی خبر  موصول نہیں ہوئی۔ اس کے باوجود سلمان اکرم راجہ جیسے سنجیدہ اور باعزت شخص کو گرفتار کرکے پنجاب حکومت نے غیر ضروری اشتعال دلانے کی کوشش کی ہے۔ نگران حکومتیں ختم ہونے والی ہیں ۔ چند روز میں اسلبلیوں کے اجلاس منعقد ہوں گے اور نئی منتخب حکومتیں    اقتدار سنبھال لیں گی۔ ایسے میں  محض عارضی  انتظام کے لئے اقتدار میں موجود عناصر کو کوئی شدت پسندانہ  فیصلہ کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔

دریں اثنا انتخابی دھاندلی کا سارا ہنگامہ فارم 45 اور فارم 47 میں اندراجات کے تفاوت کے بارے میں ہے۔  الیکشن قانون کے مطابق فارم 45  کسی انتخابی   حلقے   کے  ہر پولنگ اسٹیشن پر ووٹوں کا   اندراج کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ پریزائیڈنگ افسر پولنگ ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کراکے تمام امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں اس فارم کو پر کرتا ہے اور ہر امیدوار کا نمائیندہ اس کی تصدیق کے لئے دستخط ثبت کرتا ہے۔   پرایزائیڈنگ افسران  یہی فارم ریٹرننگ افسر تک پہنچاتے ہیں اور وہ  ان کی بنیاد پر فارم  47 میں حلقے کے ووٹوں کا اندراج  ہوتاہے۔ اس طرح معلوم  ہوتا کہ کسی انتخابی حلقے میں کس امیدوار کو کتنے ووٹ  ملے اور کون کامیاب ہؤا۔ تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ ریٹرننگ افسروں نے فارم 47 بھرتے ہوئے دھاندلی کی اور ہارنے والوں کو  جتوا دیا۔ حالانکہ انہی حلقوں کے فارم 45 کے مطابق کچھ اور نتیجہ سامنے آنا چاہئے۔ اب ان فارم 45 کو کبھی عالمی میڈیا کے سامنے پیش کرنے کا اعلان ہوتا ہے اور کبھی اسے سیاسی بیان بازی  کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ شکایت کنندگان سسٹم کے اندر رہتے ہوئے متعلقہ عدالتی فورم  پر اپنے یہ ’شواہد‘ پیش کرکے فیصلے لینے میں ویسی مستعدی نہیں دکھا رہے جیسے فارم  45 ہاتھ میں پکڑ کر بیان جاری کرنے میں دکھائی جارہی ہے؟ اس سوال کا ایک ہی جواب ہے کہ یا تو متعلقہ شکایت کنندہ کے پاس  مکمل ثبوت  نہیں ہے یا پھر وہ موجودہ عدالتی نظام پر اعتبار نہیں کرتے۔ اگر کسی پارٹی کو عدالتوں پر ہی اعتبار نہیں ہے تو خالی فارم لہرانے سے کیا ہوگا؟ یہ تو ہونے سے رہا کہ  صرف بیان بازی کی بنیاد پر ہر پارٹی کو اس کی گنتی کے مطابق سیٹیں تفویض کردی جائیں۔

بالفرض اس طریقہ کو بھی مان لیا جائے تو بڑی دلچسپ صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ تحریک انصاف  دوسری دونوں بڑی پارٹیوں اور خاص طور سے مسلم لیگ (ن)  کی ساری سیٹیں واپس لینا چاہتی ہے۔ جمیعت علمائے اسلام (ف) کی خواہش ہوگی کہ خیبر پختون خوا میں  تحریک انصاف کی آدھی یا اس سے بھی زیادہ  سیٹیں اسے دلوا دی جائیں۔  سندھ میں  گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس  پیپلز پارٹی  سے سیٹوں کا تبادلہ  چاہتی ہے۔ یعنی انہیں سندھ اسمبلی میں اکثریت دی جائے تو وہ  پیپلز پارٹی کے دو چار ارکان کو  ’تسلیم کرلیں ‘ گے۔ جماعت اسلامی  کراچی کی متحدہ قومی مووومنٹ پاکستان  کی جیتی ہوئی نشستوں پر براجمان ہونا چاہے گی۔

ہوسکتا ہے  یہ سارے دعوے دار درست کہتے ہوں لیکن  سچ جھوٹ کا فیصلہ تو کسی عدالت کے سامنے اپنا  اپنا سچ پیش کرنے سے ہی ہوسکتا ہے۔ اس دوران میں  ملک میں انتشار اور فساد کی کیفیت پیدا نہ کی جائے۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ  نظام کو ادھیڑ دینے کی دعوے دار تحریک انصاف کے علاوہ ایسی پارٹیاں بھی دھاندلی  کا علم  بلند کررہی ہیں جن کا وجود ہی   اسٹبلشمنٹ کی نظر عنایت کا محتاج ہے۔  جب مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف کے نمائیندوں سے ہاتھ ملاکر دھاندلی کے خلاف احتجاج پر اتفاق کررہے ہوں تو  معاملہ    دھاندلی  بڑھ کر کچھ  ہوگا۔ رہی سہی کسر جی ڈی اے کے سربراہ پیرپگاڑا یہ  فرما کر پوری کررہے ہیں کہ ’ فوج نے سب پارٹیوں کو آزما لیا ہے۔ اب وہ کسی پر اعتبار نہیں کرتی‘۔

جو لوگ بھی ملک میں کسی فوجی حکومت کا انتظار کررہے ہیں یا اس  کے لیے راستہ ہموار کرنے کے درپے ہیں، ان کے بارے میں  ایک بات یقین سے مان لینی چاہئے کہ نہ وہ  ملک کے وفادار ہیں اور نہ انہیں پاک فوج سے کوئی ہمدردی ہے۔ اب عسکری قیادت کو سوچنا چاہئے کہ وہ کئی دہائیوں سے کون سے کھوٹے سکے جمع کرتی رہی ہے۔