سب جنتر منتر بھول گئے

دیوار کے اس پار دیکھنے والوں نے بہت پہلے سے نقب زنی کے لئے تیار جتھوں کی نقل و حرکت دیکھ کر اپنے خدشات اور تحفظات کا اظہار کر دیا تھا۔ خبردار کیا تھا کہ حالات انتخابات کے لئے سازگار نہیں ہیں، کوئی اس ساری کارروائی کی آڑ میں اپنی کارروائی ڈالنے کی تاک میں ہے۔

اس لئے دستوری تقاضے پورے کرنے کے لئے ڈالا جانے والا دباؤ،  ہوا کے دباؤ جیسا سمجھ کر حوصلے سے برداشت کر لیا جائے۔ جیسا ہزاروں فٹ بلندی پر محوِ پرواز جہاز کا پائلٹ جہاز کے ائر پاکٹ میں داخلے پر اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے ہچکولے کھاتے جہاز کو کنٹرول کرتے ہوئے منزل کی طرف گامزن رکھتا ہے۔ مقتدرہ کو بھی پاکستان کو درپیش مشکلات اور مسائل کا ادراک کرتے ہوئے عاقبت نااندیش سیاست دانوں کی کوتاہ بینی پر مبنی سیاسی ہلچل کو نظر انداز کرکے آگے کی طرف دیکھنا چاہیے۔ اور وہی کچھ کرنا چاہیے تھا جس سے ملک و قوم کے لئے خیر برآمد ہو۔ مگر افسوس کہ ابلیس کی مجلسِ شوریٰ کے فیصلے اور اس کے سیاق و سباق کی تفہیم سے آگاہی رکھنے والوں نے اس کی شرح میں بیان کردہ عواقب و نتائج اور ابلیس کے مقاصد سے صرفِ نظر کیا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ 

راقم نے فیس بک پر اپنی پوسٹوں میں بارہا لکھا کہ بال ٹیمپرنگ کے ماہر کی منفی بالنگ سے اپنی وکٹ ہی نہیں بچانی بلکہ کھیل کے میدان اور پچ کو بھی تباہ ہونے سے بچانا ہے۔ کیونکہ سپورٹس مین نظر آنے والا شخص کھلاڑی  ہوتے ہوئے بھی سپورٹس مین سپرٹ کے اوصاف سے محروم ہے۔ جو ہار برداشت کرنے کی بجائے اپنے بلے اور شوز سے پچ بھی خراب کرے گا اور وکٹیں اکھاڑ کر انہیں آگ لگا کر میدان میں ایسا الاؤ دہکائے گا جس سے ہر چیز جل کر راکھ کا ڈھیر بن جائے گی۔ اور وہ یہ راکھ ہر اس سر میں ڈالے گا جو اسے کھیل کے میدان میں لانے کی حرکت بلکہ غلطی کر بیٹھا ہے۔ 

راقم نہ ولی ہے نہ ہی نجومی  کہ رمل یا فال نکال کر دیکھ لے کہ کیا ہونے والا ہے۔ مگر چھ دہائیوں سے پیش منظر کا پس منظر دیکھنے کی جستجو نے بے شک اڑتے پرندوں کے پر گننا نہیں سکھایا مگر ان کی اڑان بھرنے کے انداز اور سمت نمائی سے قیاس آرائی کے ہنر سے ضرور آشنا کیا ہے۔ گو کہ یہ ہنر مندی،  بے ہنری جیسی ہی چیز ہے جس کی آزمائش سے ہمیں اپنی کم مائیگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ مگر کیا کریں کہ فہم و شعور کی پوٹلی سے ہر وقت کچھ نہ کچھ گرتا رہتا ہے جسے سمیٹتے ہوئے بعض اوقات ایسا پتھر ہاتھ میں چبھ جاتا ہے جو کوئلے سے ہیرا بننے کے عمل سے گزر رہا ہوتا ہے۔ 2014 کے دھرنے کے دوران ایک ایسا ہی خیال نوکِ قلم سے قرطاس پر مرقوم ہوا جو بعد میں پیش گوئی کی صورت پا گیا جس میں ہم نے اس وقت نواز شریف کو خبردار کیا تھا کہ حالات جس رخ پر جارہے ہیں خدشہ ہے کہ اس بار صرف آپ کی ذات  نہیں بلکہ پورے شریف خاندان کے لئے خطرناک ہوں گے۔ بعد کے حالات میں جو کچھ ہوا وہ تاریخ ہے جس سے عبرت پکڑنے کا ہمارا مزاج نہیں کہ ہم تو اپنے مُردے دفناتے ہوئے یہی سوچ رہے ہوتے ہیں کہ اسی مرنے والے کو ہی مرنا تھا، ہمیں تو موت آئے گی ہی نہیں۔

بار بار کے غیر سیاسی عمل کی ٹوپی سے نام نہاد جمہوریت کا کبوتر نکالنے کا کرتب دکھاتے مداری ابھی تک اس کبوتر کو اڑا کر دکھانے سے عاجز ہیں۔ مگر پھر بھی بضد ہیں کہ وہ جادوئی کمالات سے پیدا شدہ کبوتر کو نہ صرف اڑتا ہوا دکھا کر دم لیں گے بلکہ اس کبوتر سے باز کا شکار کرنے کا معجزہ بھی کر ڈالیں گے۔ اس معجزے کی منتظر آنکھیں موتیا بند کا شکار ہو چکی ہیں جبکہ دوسری طرف سمندر کی لہروں سے اچھل کر ساحل پر گری بوتل کا  ڈھکن کھول کر دیو کو آزاد کرانے والے اس کے جناتی قہقہوں سے ڈر کر بھاگنے کی کوشش میں ایک دوسرے کو دھکے دے کر خود سمندر میں غوطے کھا رہے ہیں۔ اور دیو زاد سونامی کے طوفانی تھپیڑوں کی دہشت ناک گونج میں اپنے فاتحانہ قہقہے شامل کر کے ماحول کو خوفناک بنا رہا ہے۔  جادوئی کمالات دکھانے کے ماہر ہونے کے دعویدار سارے جنتر منتر بھول کر کسی فقیر کی کُٹیا کی تلاش میں ہیں جو انہیں پناہ دے سکے۔

ایک نظم دیکھیں :

مغالطہ  :

نوجواں بن کے رہنے

اور ہونے میں کیا فرق ہے 

سوچتا ہوں 

تو سورج کی کرنیں 

مری آنکھ میں

 چاند تاروں کی ضوریزیوں کا برادہ 

اجالے سے دھو کر

 ہتھیلی پہ رکھتے ہوئے بولتی ہیں 

انہیں خواب کر لو

تو روز ازل کی 

ابدگیر نو خیز یوں سے 

شباب تحیر کو افزودہ کرتے رہو گے

پیر فلک کی طرح روشنی سے منور رہوگے

زمیں کی طرف 

نوری سالوں کی رفتار سے آتی کرنوں کے رنگوں سے خود جان لو گے 

جواں. نوجواں بن کے رہنے

اور ہونے میں کیا فرق ہے 

تیرہ کروں میں 

شہابوں کے ملبے پہ

سب کچھ لکھا ہے