کیا پاکستان کو یرغمال بنانے کی اجازت دی جاسکتی ہے؟

پاکستان پر ہر طرف سے یلغار ہے۔ بدقسمتی سے یہ ملک دشمنوں کی بجائے اس وقت اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں شکار  ہورہا ہے۔ سب کے منہ پر پاکستان کی بہتری اور عوامی بہبود کا نعرہ ہے لیکن سب ہی اپنی اپنی جگہ پر ملکی نظام کو تتربتر کرکے اپنے لیے راستہ بنانے کی کوشش میں مگن ہیں۔ اس میں صرف تحریک انصاف کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہوگا کیوں کہ بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل ارلرحمان  جیسے سیاست دان بھی اسی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔

یہاں یہ سوال نہیں ہے کہ کون سچ کہہ رہا ہے اور کون غلط لیکن سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ سچ اور غلط طے کرنے کا مسلمہ طریقہ اختیار کرنے سے گریز کیا جارہا  ہے۔ سب قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہیں لیکن سب ہی قانون روندنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ ایک ہی ملک میں ہر کسی  کی خواہش کے مطابق قانون بنا دیا جائے یا   ہر شہری  کو  قانون کی من پسند  تشریح کرنے کا حق دے دیا جائے ۔ اس طرح  تو ملک میں فساد  ہی برپا ہوگا۔ مولانا فضل الرحمان اعلان کررہے ہیں کہ اب وہ احتجاج کے ذریعے بزور بازو معاملات طے کروائیں گے۔  اس اشتعال انگیزی کے پہلے مرحلے میں بولے ہوئے جھوٹ کو وہ خود ہی  ’سہو‘ کہہ کر تسلیم کرچکے ہیں کہ  آئی ایس آئی کے سابق سربراہ  لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ان سے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے کی بات کی تھی۔   اس غلط بیانی کے بعد بھی اب وہ شرمندہ یا شرمسار نہیں ہیں بلکہ احتجاج کی سیاست کا اعلان سامنے لائے ہیں۔

کیامولانا فضل الرحمان   جیسا جہاں دیدہ سیاست دان بھی نہیں جانتا کہ اس وقت  احتجاج اور میدان میں فیصلے کرنے کے اعلانات کرنے سے ملک کو کیا نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ ملک کو  اگرکوئی  سنگین نقصان پہنچتا ہے توسیاسی فائدے کے لیے یہ تگ و دو رائیگاں  نہیں جائے گی؟ ملک کی تاریخ  ایسے ادوار سے بھرپور ہے جب    نام نہاد  ’جمہوری حق‘ کے نام پر     تحریک چلائی گئی اور اس کے منفی نتائج قوم کو بھگتنے پڑے۔ اس کا سب سے سنگین مظاہرہ 1970 کے انتخابات کے بعد دیکھنے میں آیا جب اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی کو اقتدار  سونپنے کی بجائے  مغربی پاکستان میں اقتدار کی بندربانٹ میں حصہ داری کے لیے مہم چلائی گئی ۔ اس کے نتیجے میں دسمبر 1971  میں سقوط ڈھاکہ ہوگیا۔ ملک اپنے آدھے حصے سے محروم ہؤا اور بدترین عسکری شکست کا کلنک بھی اس کے ماتھے پر  لگا۔ خیال تھا کہ  پاکستانی اشرافیہ اور سیاسی لیڈر اس  سانحہ سے سبق سیکھیں گے لیکن گزشتہ پچاس سال کی تاریخ شاہد ہے کہ کوئی بھی اپنی روش تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔

 دوسرا سانحہ    ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف  ’پاکستان قومی اتحاد‘ کے بینر تلے چلائی جانے والی  تحریک   کی صورت میں  رونما ہؤا۔ عوام کی منتخب حکومت گرانے کے لیے اسی طرح میدان کا انتخاب کیا گیا تھا  جس کا عندیہ اب مولانا فضل الرحمان دے رہے ہیں۔ یادش بخیر    اس وقت کثیر الجماعتی اتحاد کے سربراہ  مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود تھے۔  ایک مشکل سیاسی مرحلے  پر لوگوں کو سڑکوں پر لایا گیا اور   نام نہاد انتخابی دھاندلی کے خلاف  شور مچاتے ہوئے، مذہبی عقائد کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں ملک  ایک دہائی تک جنرل ضیاالحق کی آمریت کے  چنگل میں رہا۔   آج  سب سے اونچی آواز  میں انتخابی شفافیت کا نعرہ لگانے والی قوتیں  ،اس سیاہ دور میں فوجی حکومت کا دست و بازو بنی رہی تھیں۔  اس کے بعد یہ تجربے چھوٹے پیمانے پر کرنے کی کوششیں ہوتی رہی ہیں اور ان ہی تجربات کے بطن سے بالآخر 2018 میں  ہائیبرڈ  نظام برآمد ہؤا تھا۔ مولانا فضل الرحمان ان سب  معاملات کے عینی شاہد ہیں لیکن گزشتہ چند روز کے دوران انہوں نے جو گفتگو کی ہے، اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ سارا سچ نہیں بتائیں گے۔ بلکہ مرضی کا وہی ’سچ‘ عام کریں گے جس سے عوام کی ہمدردیاں جیتی جاسکیں۔

دھاندلی کے نام پر ملک کوتہ وبالا کرنے کی سب سے بڑی   اور پرہنگام کوشش تحریک انصاف کی طرف سے کی جارہی ہے۔ یہ پارٹی  کبھی مرکز ، پنجاب اور خیبر پختون خوا میں حکومت بنانے کا اعلان کرتی ہے اور کبھی اپوزیشن میں بیٹھنے  کا عندیہ دیا جاتا ہے۔ مسلسل دھاندلی کا اعلان کرتے ہوئے یہ ’ثابت‘ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جیسے ملک میں 8 فروری کو منعقد ہونے والے انتخاب میں عوام نے عمران خان کے علاوہ کسی کو ووٹ نہیں دیے ، اس لیے انہیں بلا شرکت غیرے اقتدار کا حقدار سمجھ  لیا جائے۔   صرف عمران خان اور ان کے حامیوں ہی کو نہیں بلکہ ملک میں کسی کو بھی  ایسا خواب  دیکھنے کی اجازت ہے۔  ہماری  لوک کہانیوں میں ’شیخ چلی‘ ایک معروف کردار ہے، اور ہم سب اپنے اردگرد اس کردار کی شبیہ ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یعنی خواب دیکھنے پر پابندی نہیں  ہے البتہ   ایک خواب کی بنیاد پر ملکی سلامتی یا نظام حکومت کو داؤ پر لگانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔   اس صورت حال  میں سب سے اہم یہ سوال ہے کہ    دھاندلی کا ہنگامہ پرپا کرنے والے پہلے مروجہ طریقہ کے تحت اپنی شکایات متعلقہ عدالتی فورمز پر کیوں نہیں لے کر جاتے اور جن فارم 45 کی بنیاد پر انہیں  اکثریت  حاصل کرنے کا زعم ہے، انہیں عدالتی چھان بین کے لیے کیوں پیش نہیں کیا جاتا؟

تحریک انصاف نے عدالتی کارروائی میں ہمیشہ قانونی جنگ لڑنے سے گریز کیا ہے اور  مختلف بہانوں سے  دلائل سے بچنے کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ یہ رویہ فارن فنڈنگ کیس سے لے کر  عمران خان کے خلاف  توشہ خانہ و سائفر کیس تک اور بعد میں پارٹی کے انتخابی نشان کے لئے قانونی جد و جہد کے دوران میں دیکھا جاچکا ہے۔ ان سطور میں تحریک انصاف سے انتخابی نشان واپس لینے کو مسلسل غلط لکھا گیا ہے۔ حتی کہ انتخابات کے بعد بھی ہم نے مطالبہ  کیا کہ اگر کسی غلطی یا مجبوری کے تحت تحریک انصاف کے امیدوار ’آزاد‘ حیثیت میں منتخب ہوئے ہیں تو بھی انہیں مخصوص نشستوں میں  حصہ دینے کے  لیے کوئی قانونی راستہ نکالنا چاہئے۔  یہ مطالبہ بھی کیا گیا تھا کہ دیگر سیاسی پارٹیوں کو  اختلاف کے باوجود اس  معاملہ میں تحریک انصاف کے  اس جمہوری  حق کی حمایت  کرنی چاہئے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کو  بھی کبھی سچ کا سامنا کرلینا چاہئے یاکم از کم اسے تسلیم کرکے حکمت عملی بنانے پر غور کرنا چاہئے۔ پی ٹی آئی سپریم کورٹ میں  انتخابی نشان   کا مقدمہ  صرف اس لیے  ہاری تھی کہ جس انٹرا پارٹی انتخابات کا وہ دعویٰ کررہی تھی، وہ منعقد ہی نہیں ہوئے تھے اور پارٹی کے وکیل اس وقوعہ کا کوئی دستاویزی ثبوت عدالت میں پیش نہیں کرسکے۔  دیگر معاملات کی طرح اس مقدمہ کو بھی سیاسی بیان بازی کی بنیاد پر جیتنے کی کوشش کی گئی۔  ملک کی سپریم کورٹ بھی   اگرقانون ، شواہد اور دلائل کی بجائے نعروں اور بیان بازی کی بنیاد پر فیصلے دینے لگے گی تو اس سے ملک میں عدالتوں کا رہا سہا بھرم بھی ختم ہوجائے گا۔

تحریک انصاف اگر انٹرا پارٹی انتخابات کو محض  کاغذی کارروائی ہی سمجھتی  تھی تو اپنے دور حکومت میں وہ انتخابی  قانون میں تبدیلی سے اس سلسلہ میں عائد شرائط ختم کرسکتی  تھی۔  یا  بعد از وقت یہ دلیل دینے کی بجائے کہ سب پارٹیاں   ہی  انٹرا پارٹی انتخاب  کا ڈھونگ کرتی ہیں یا یہ کہ تحریک انصاف  میں بس ایک ہی آدمی ہے جس کا نام عمران خان ہے اور سب اس  کے تابع فرمان ہیں ۔ اگر  پارٹی کا ’جعلی‘ انتخاب کسی حد تک منعقد کرنے کا ویسا ہی ڈھونگ کرلیا جاتا جو باقی سب پارٹیاں کرتی ہیں تو بھی کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوتا۔ پہلے پارٹی نے الیکشن کمیشن کو اہمیت دینے سے انکار کیا اور مسلسل چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مہم جوئی کے ذریعے خود کو الیکشن کمیشن سے بالادست ثابت  کرنا چاہا۔ جب پانی سر سے گزر گیا تو ایک جعلی بیان کے ذریعے کہا گیا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کروالیے  ہیں اور  فلاں فلاں عہدیدار منتخب ہوگئے۔ لیکن ان انتخابات کے انعقاد کو ثابت نہیں  کیا جاسکا۔ اب اس معاملہ کو اپنی مظلومیت کا تمغہ بنانے کی بجائے اپنی غلطیوں کا بوجھ سمجھ  کر راستہ درست کرنا چاہئے۔

اس وقت تحریک انصاف کا زور اس بات پر ہے کہ کمشنر راولپنڈی کے  بیان   کو سچ مان کر دھاندلی کی عدالتی تحقیقات کروائی جائیں۔ لیکن اس سے پہلے ہی چیف الیکشن کمشنر  مستعفی ہوجائیں اور چیف جسٹس ایسے ہر مقدمہ سے خود علیحدہ کرلیں  کیوں کہ ایک  سابق کمشنر نے  ان کا نام بھی لیا ہے۔   تحریک انصاف یا  سابق کمشنر کے بیان پر سیاست چمکانے والے کسی لیڈر یا پارٹی نے یہ مطالبہ نہیں کیا کہ اس کمشنر  کے کردار، ماضی اور  پریس کانفرنس میں سرکاری معلومات عام کرنے  کے طریقہ کی تحقیقات بھی کروا لی جائیں؟ جو پارٹیاں  ایک سابق کمشنر کے جعلی بیان کی آڑ میں انتخابی بے قاعدگیوں  کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے سے فرار حاصل کرنا چاہتی ہیں، ان کا مقدمہ خود ان کی بیان بازی سے ہی کمزور اور بے بنیاد ثابت ہوجاتا  ہے۔

 کسی کو اس بات پر اعتراض   نہیں ہونا چاہئے کہ تحریک انصاف اور دیگر سب جماعتیں دھاندلی یا بے قاعدگی کے خلاف اپنے مقدمے عدالتوں میں لے کر جائیں اور جو نشستیں ان سے ’چھین‘ لی گئی ہیں ، انہیں واپس کردی جائیں۔ اس عمل میں اگر کچھ پارٹیاں قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت سے محروم ہوجائیں تو اکثریت حاصل کرنے والی پارٹی یا اتحاد حکومت بنا لے۔ جمہوری عمل میں یہی آسان، قابل عمل اور قابل قبول طریقہ ہے۔ اس  سے  گریز کرنے والا ہر شخص ایک مشکل وقت میں ملک میں غیر ضروری بحران پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دینی چاہئے۔

تحریک انصاف،  جمیعت علمائے اسلام (ف) یا گرینڈ  ڈیموکریٹک الائنس   قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرنے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو دباؤ میں لانا چاہتی ہیں۔ وہ  عدالتی فورمز پر اپنا مقدمہ پیش کرنے سے فرار چاہتی ہیں اور ایک سابق کمشنر کے بیان  کو عذر بنا کر چیف جسٹس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جارہا ہے۔   جمہوری نظام کی کامیابی اور پاکستان کی  سلامتی کے لیے ان ہتھکنڈوں اور ملک میں جمہوری عمل کو یرغمال بنانے کی کوششوں کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت برپا  کیے گئے غیر ضروری  اور بلاجواز  ہنگامے کے دباؤ  میں   انتخاب کے بعد حکومت سازی کے مسلمہ طریقے سے گریز ، ملک  میں مہذب انتقال اقتدار کے طریقہ سے انحراف کے مترادف ہوگا۔