جبری گمشدگیاں: یونیفارم والے خود کو ٹھیک نہیں کریں گے تو جواب دینا ہوگا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس اور ڈی جی انٹیلیجنس بیورو کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے۔
عدالت نے آبزرویشن دی کہ چونکہ انہی اداروں پر جبری طور پر گمشدگی کے واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے، لہذا جو بھی حکومت ہو، اِن تین اداروں کے سربراہان پر مشتمل کمیٹی جبری گمشدگی کے معاملے پر جوابدہ ہوگی۔
جسٹس محسن اختر کیانی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ نے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے بلوچ طلبہ سے متعلق درخواست کی سماعت میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر اپنی حاضری کو یقینی بنائیں۔
درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’ہم چوروں ڈاکوؤں سے لوگوں کو کیا بچائیں گے، ہم تو ابھی اپنے لوگوں کو ان اداروں سے بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جن کی ذمہ داری لوگوں کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر یونیفارم والے اپنے آپ کو ٹھیک نہیں کریں گے تو انہیں اس کا جواب دینا ہوگا‘۔
اٹارنی جنرل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں مزید مہلت دی جائے تاکہ نئی منتخب حکومت آ کر اس معاملے کو دیکھے۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا انہیں یقین ہے کہ آئندہ چند روز میں حکومت بن جائے گی؟ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں ہوتا تو ملکی آئین میں طریقہ کار موجود ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے لے کر سولہ ماہ حکمراں اتحاد کی حکومت اور پھر نگراں حکومت کے دور میں جبری گمشدگی کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 2022 میں 59 بلوچ طلبہ کی جبری گمشدگیوں سے متعلق درخواست دائر ہوئی تھی۔ اب تک اس کی چوبیس سماعتیں ہو چکی ہیں اور ابھی بھی 12 بلوچ طلبہ لاپتہ ہیں۔
کسی حکومت نے بھی جبری طور پر لاپتہ کرنے کے اقدام کو قابل گرفت قرار نہیں دیا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی قانون سازی کی گئی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ جبری گمشدگیوں کے واقعات میں اضافے پر عالمی برادری بھی تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور اگر اس مسئلے کا کوئی حل نہ نکالا گیا تو پاکستان پر اقتصادی پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ جب نگراں وزیر اعظم کو یہ معلوم ہوگا کہ جس شہر میں وہ رہ رہے ہیں وہاں جبری گمشدگی کے واقعات سب سے زیادہ ہو رہے ہیں تو ان پر کیا گزرے گی۔ عدالتی استفسار پر بتایا کہ آئی بی اور ایف آئی اے وزارت داخلہ کے ماتحت ہیں، ملٹری انٹیلیجنس وزارت دفاع جبکہ آئی ایس آئی براہ راست وزیر اعظم کو جوابدہ ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ ان تینوں اداروں کے سربراہان سرکاری ملازم ہیں اور وہ اس حوالے سے جوابدہ ہیں۔ ان اداروں کے سربراہان یا تو جبری طور پر لاپتہ افراد کو بازیاب کریں اور یا پھر ان کے خلاف کوئی کریمینل ریکارڈ ہے تو وہ عدالت میں پیش کریں۔ اب تک اس درخواست پر جتنی بھی پیشیاں ہو چکی ہیں، ان میں ایسا کوئی ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ریاستی اداروں پر ان واقعات میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ درخواست گزار کی وکیل ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران مزید پانچ طلبہ کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوج کے ایک حاضر سروس آفیسر قائد اعظم یونیورسٹی میں جا کر طلبہ کو ہراساں کرتے رہے۔
عدالت نے نگران وزیر اعظم کو 28 فروری کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے جبکہ آئندہ سماعت پر وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔