تحریک انصاف ،سنی اتحاد کونسل میں ضم ہوکر کیا حاصل کرے گی؟

سیاسی مقاصد کے لیے ملک میں ہیجان پیدا کرنے  کی حکمت عملی پر عمل پیرا تحریک انصاف ایک بار پھر ایسے غلط فیصلے کررہی ہے جو مستقبل قریب میں اس کی پاؤں کی زنجیر بن سکتے  ہیں۔ گزشتہ روز خیبر پختون خوا میں وزارت اعلیٰ کے نامزد امیدوار امین گنڈا پور نے کہا تھا کہ پارٹی مخصوص نشستوں میں حصہ لینے کے لیے عدالت جائے گی۔ آج بیرسٹر گوہر علی اور پی ٹی کے وزارت عظمی کے امیدوار عمر ایوب نے سنی اتحاد کونسل کے ساتھ  شراکت داری کا اعلان کیا ہے۔

اس اعلان سے صرف یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ  تحریک انصاف نہ تو انتخابی نتائج  کے بارے میں عدالتی  فیصلوں پر اعتبار کرنے پر آمادہ ہے یا وہاں اپنا مقدمہ ثابت کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ بصورت دیگر اسے روزانہ  کی بنیاد پر یہ بیان عام کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ اسے  170 یا 180 سیٹیں حاصل ہوگئی ہیں اور نہ ہی اس قسم کے اشتعال انگیز اعلان کیے جاتے کہ عمر ایوب کے علاوہ کوئی بھی شخص وزیر اعظم چنا گیا تو اسے نہیں مانیں گے۔ اسد قیصر جیسے ذمہ دار سیاست دان کی طرف سے  ایسا بیان جمہوری طریقے  اور آئینی تقاضوں سے  متصادم ہے۔

  یوں تو 2018 میں اقتدار سنبھالنے والی تحریک انصاف کے بارے میں  بھی اس کی ساری مخالف سیاسی پارٹیوں کا یہی مؤقف رہا تھا کہ عمران خان کو دھاندلی سے وزیر اعظم منتخب کروایا گیا ہے۔   انہیں پوری مدت میں نامزد وزیر اعظم کا ’خطاب‘ بھی دیا جاتا  رہا۔ اس کے علاوہ اپریل 2022 میں عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد قبول ہونے کے بعد بھی یہ ثابت ہوگیا تھا کہ تحریک انصاف کو قومی اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل نہیں تھی لیکن بعض مخصوص گروہوں کی مدد سے انہیں اکثریت دلوائی گئی تھی۔ اسی لئے 9 اپریل 2022 کو  قومی اسمبلی میں جب عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوئی تو اسے اکثریت سے منظور کرلیا گیا اور شہباز شریف باقی مدت کے لیے ملک  کے وزیر اعظم بنے۔  یہ عدم اعتماد صرف ان  سیاسی گروہوں کو   عمران خان کی حمایت سے منع کرکے حاصل کی گئی تھی جنہیں اگست 2018 میں ان کی حمایت کی ہدایت کی گئی تھی۔    انتخابات سے قبل دھونس و دھمکی سے جن لوگوں کو ذبردستی پارٹی میں شامل کروایا گیا تھا یا انتخابات کے دوران میں دھاندلی کے مختلف  ہتھکنڈوں سے جیسے تحریک انصاف کو سب سے بڑی پارٹی بنانے کا اہتمام کیا گیا تھا، وہ   ایک علیحدہ داستان ہے۔

اس  حوالے سے صرف یہ نکتہ واضح کرنا مقصود ہے کہ اس کے باوجود  عمران خان ساڑھے تین سال تک ملک پر حکمرانی کرتے رہے اور اپوزیشن اسمبلیوں میں شور مچانے، بیانات دینے، احتجاج کرنے، اتحاد  قائم کرنے اور ’آزادی مارچ‘ کا اہتمام کرنے کے باوجود عمران خان کی حکومت کو اس وقت تک نقصان نہیں پہنچا سکی جب تک خود عمران خان نے ہی ایک پیج  والوں سے براہ راست لڑنے   کا  فیصلہ نہیں  کیا۔ اس لیے اگر 2018   کی قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود کوئی پارٹی  کامیابی سے ساڑھے تین سال حکومت چلاسکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ تین ایسی پارٹیوں کا اتحاد اس مقصد میں کامیاب نہ ہو جنہیں بظاہر قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔  تحریک انصاف اگر ایسے وزیر اعظم کو تسلیم نہیں کرے گی تو اس سے کیا فرق پڑے گا؟     تحریک انصاف کی قیادت کو بھی  یہ اندازہ ہوگا  کہ نہ تو  وہ  مرکز میں حکومت بنا سکتے ہیں اور  نہ ہی  کسی منتخب وزیر اعظم کو  آسانی سے عدم اعتماد یا   نام نہاد عوامی طاقت کی بنا پر  ہٹا سکیں گے۔

 اس موقع پر  یہ سوال اہم نہیں ہے  کہ کیا تحریک انصاف اپنا وزیر اعظم منتخب کروا سکتی ہے بلکہ سب سے اہم یہ  ہے کہ کیا تحریک انصاف آنے والی اسمبلیوں میں ذمہ دار اپوزیشن کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس وقت  کی جانے والی جوڑ توڑ   اور بیان  بازی کے علاوہ ماضی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی کردار کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے کہ  یہ  پارٹی اسمبلی میں بیٹھ کر  کام کرنے کی اہل نہیں ہے۔ اسی لیے اسے اندیشہ ہے کہ اگر لوگوں کو اس وقت دھاندلی کے نام پر بےتحاشا  گمراہ نہ کیا گیا تو اسمبلیوں میں اپوزیشن بنچوں پر اس کی کارکردگی، پارٹی ارکان کی صلاحیتوں کو اسی طرح عیاں کردے گی جیسے ساڑھے تین سالہ حکومت کے دوران اس کی بدانتظامی اور نااہلی آشکار ہوئی تھی۔

تحریک انصاف کو صرف اس لیے عوامی  تائید  و حمایت حاصل ہوئی یا 8 فروری کو اس کے  قابل ذکر تعداد میں ارکان منتخب ہوسکے کیوں کہ  تحریک انصاف نے نہایت چالاکی سے اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ شہباز حکومت کے سر تھوپ دیا۔ اس کے علاوہ  عمران خان نے ایک خفیہ سفارتی مراسلہ  کی جھوٹی اور من چاہی تشہیر کرتے ہوئے امریکہ  جیسی سپر پاور کے  خلاف پاکستان کے محروم عوام میں پائی جانے والی نفرت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ عوام  کی اکثریت اپنی سادہ لوحی میں  چونکہ   سلوگن بننے والی  ’خبروں‘ کو ہی سچ مان لیتی ہے  یا کسی پارٹی کی پروپیگنڈا مشینری  عوام کو وہی سچ دکھاتی ہے جو اس  کے نعروں کو مضبوط  بناتا ہے، اس لیے  کوئی اس پہلو پر توجہ دینے کی کوشش نہیں  کرتا کہ ایک طرف امریکہ کے خلاف نعرے لگا کر عوام کی حمایت حاصل کی جاتی ہے تو دوسری طرف  زر کثیر سے امریکہ میں لابی کمپنیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ تاکہ پارٹی کی حمایت میں امریکی سیاست دانوں سے بیان دلوانے کا اہتمام کیا جاسکے۔   پھر بار بار امریکی حکومت سے کہا جاتا ہے کہ موجودہ سیاسی بحران میں تحریک انصاف کی مدد کی جائے۔   حالانکہ جو امریکی  حکومت عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی سازش میں ’ملوث‘ تھی،  وہ کیوں کر پی ٹی آئی کی آہ و بکا پر اس کی مدد کو آئے گی؟

پاکستانی  لیڈروں کو اس وقت ذمہ دار سیاسی رویہ اختیار کرنے کی ضرورت  ہے۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف کے لیڈر   سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے اور انتخابات میں ہونے والی بے قاعدگیوں کے خلاف مسلمہ راستہ  اختیار کرنے سے گریز کررہے ہیں۔  حالانکہ  اگر  پارٹی کسی حلقے میں فارم 45 کی بنیاد پر اپنی اکثریت ثابت کردیتی ہے تو کوئی بھی عدالت اس کا مؤقف تسلیم کرکے اسے اس کا حق واپس دلا سکتی ہے۔ جیسا کہ آج اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایسی ہی دوہائی کے بعد اسلام آباد سے مسلم لیگ (ن) کے تین امیدواروں کے نوٹی فکیشن منسوخ کردیے گئے ۔ حالانکہ  تحریک انصاف کے درخواست گزار  دعویٰ کرنے کے باوجود اصل فارم45 کی نقول عدالت میں پیش نہیں کرسکے۔  بلکہ اس بارے میں فی الوقت محض دعوؤں سے کام چلایا گیا ہے۔ تاہم اگر  فارم 45 کے بارے میں تحریک انصاف کا مقدمہ مضبوط ہے تو اسے بدحواسی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے عدالتی احکامات حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔

ایسی ہی دوسری بدحواسی مخصوص نشستوں میں حصہ لینے کے لیے  سنی  اتحاد کونسل  کے ساتھ اتحاد کرکے ظاہر کی گئی ہے۔ اصولی طور سے تحریک انصاف کا یہ مؤقف جائز  اور قانونی ہونا چاہئے کہ بعض قانونی مجبوریوں کی وجہ سے اسے انتخابی نشان سے محروم کیا گیا تھا لیکن تحریک انصاف پارٹی کے طور پر موجود ہے، اس لیے انتخابی کامیابی کی صورت میں مخصوص  نشستوں پر اس کا حق تسلیم ہونا چاہئے۔ اس کا طریقہ بھی سادہ  ہوسکتا تھا۔ تحریک انصاف کی حمایت سے  جیتنے والے تمام امیدوار الیکشن کمیشن کی طرف سے باقاعدہ نوٹی فکیشن کے بعد تحریک انصاف سے وابستگی کا اعلان کرتے اور اس طرح مختلف اسمبلیوں میں اپنی سیاسی نمائیندگی کے اعتبار سے مخصوص سیٹوں پر حصہ مانگتے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے رکاوٹ کی صورت میں عدالتیں اس معاملہ پر ضرور  اس کی مدد کرتیں۔ اس کی بجائے اب ایک ایسی پارٹی سے اتحاد کا اعلان کیا گیا ہے جسے قومی اسمبلی میں ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوئی۔    دونوں پارٹیوں نے خواہ کیسا ہی معاہدہ کیا ہو یا سنی اتحاد کے لیڈر پریس کانفرنس میں کیسے ہی بلند بانگ دعوے کررہے ہوں، لیکن عملی صورت حال یہی ہوگی کہ مخصوص نشستوں  میں حصہ لینے کے لیے ان کی پارٹی میں شامل ہونے والے  ’آزاد ارکان‘ بالآخر سنی اتحاد کونسل کی قیادت کے فیصلوں کے پابند ہوں گے۔ وہ  اسمبلیوں میں جو سیاسی فیصلہ کریں گے، تحریک انصاف کے ’آزاد‘ اسی  پر عمل کرنے  پر مجبور ہوں گے۔ اس کے علاوہ   اس طریقے سے مخصوص نشستوں کے لیے جو لوگ  ’منتخب‘ ہوں گے، وہ بھی متعلقہ پارٹی کے وفادار ہوں گے ورنہ وہ پہلے ہی تحریک انصاف میں شامل ہوجاتے۔  بیرسٹر گوہر اور عمر ایوب کا یہ دعویٰ درست نہیں ہے کہ اس طرح  پارلیمنٹ میں پارٹی کی سیاسی طاقت میں اضافہ ہو گا۔

اس کے برعکس قومی سطح پر  کامیاب ہونے والی ایک  اہم پارٹی اس وقت  تمام بڑی پارٹیوں کو نظر انداز کرکے عوام کے مسترد شدہ چند انتہاپسند مذہبی گروہوں کے ساتھ  پینگیں بڑھا رہی ہے۔ تحریک انصاف کی  سیاست کا یہ رخ نہ صرف  مستقبل قریب میں پارٹی کے لیے مسائل پیدا کرے گا بلکہ  ملک میں مذہبی انتہاپسندی کے فروغ کا سبب بھی بنے گا۔  سیاسی پارٹیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مخصوص ، محدود اور کسی حد تک  مذہبی انتہاپسندانہ ایجنڈے  پر کام کرنے والے  گروہوں کو ساتھ ملاکر انہیں مین اسٹریم کا حصہ بنائیں  تاکہ ملک میں اعتدال اور باہمی احترام کا ماحول فروغ پائے۔ لیکن اگر  کوئی بڑی پارٹی خود ہی  ایک چھوٹے سے مذہبی گروپ  کی قیادت میں  قلیل المدت سیاسی مقاصد حاصل کرنے کا خواب دیکھے گی تو  انتہاپسندانہ   مذہبی نظریات  کی ترویج کو کیسے  روکا جائے گا؟

آج سنی اتحاد  کونسل اور  مجلس وحدت المسلمین کے لیڈروں کے ساتھ پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کی طرف وزارت عظمی کے امیدوار عمر ایوب نے کامیابی کی صورت  میں اپنا  سیاسی ایجنڈا پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’حکومت  میں آتے ہی عمران خان، بشریٰ بی بی، شاہ محمود قریشی، پرویز الہی، خواتین ورکرز اور کارکنان کو جیلوں سے رہا کرائیں گے‘۔ یعنی ملک کا وزیر اعظم بننے کے  خواہش مند  ایک شخص کا ایک ہی مقصد ہے کہ اقتدار ملتے ہی وہ اپنی پارٹی کے لیڈروں کو رہا کریں۔ خواہ یہ فیصلہ کسی عدالت نے  کیا ہو اور یہ حراست قانون کے مطابق عمل میں آئی ہو۔ اس پہلے بیان میں   عوام کو ریلیف دینے کا کوئی نکتہ شامل نہیں ہے۔ تحریک انصاف کی ایسی ہی سیاسی  بوالعجبی اس  کے پاؤں کی زنجیر بنی رہتی ہے۔