حکومت سازی میں ن لیگ کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہے: بلاول بھٹو

  • منگل 20 / فروری / 2024

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں حکومت سازی میں تعطل نظر آ رہا ہے جو جمہوریت اور معیشت کے لیے نقصان دہ ہو گا۔

انہوں نے اس تاخیر کی وجہ مسلم لیگ ن کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کی غیرسنجیدگی کو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ن لیگ مذاکرات کے لیے پیپلز پارٹی کے پاس آئی ہے۔  ن لیگ کو پیپلز پارٹی اپنی شرائط پر ووٹ دے گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جتنا جلدی حکومت سازی کا مرحلہ طے ہو جاتا تو اچھا ہوتا کیونکہ تاخیر سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے۔ پاکستان کے سیاسی استحکام اور انتخابات کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ مجھے اور پیپلز پارٹی کو کوئی جلدی نہیں ہے، مگر تاخیر سے پاکستان اور معیشت کا نقصان ہو رہا ہے۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر کسی (ن لیگ) نے مؤقف تبدیل کرنا ہے تو پھر پیشرفت ہو سکتی ہے۔ بلاول کے مطابق پاکستان کے عوام کی سمجھداری دیکھیں کہ انہوں نے کسی ایک جماعت کو اکثریت نہیں دی ہے اور یہ فیصلہ سنایا ہے کہ کوئی ایک جماعت نہیں بلکہ سب مل کر ملک کو چلائیں۔

اس وقت مسئلہ یہ ہے کہ ان انتخابات میں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تحریک انصاف بن کر سامنے آئی ہے مگر اس کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔ جب وہ بات کرنے کو تیار نہیں ہیں تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حکومت سازی بھی نہیں کر سکتے۔

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی مذاکراتی کمیٹیوں کے پانچ اجلاس ہو چکے ہیں اور چھٹا اجلاس آج ہو گا۔ ن لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کو وفاقی کابینہ میں شمولیت پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ نہیں بنیں گے مگر اہم آئینی عہدوں پر اپنے امیدوار ضرور سامنے لائیں گے۔

ان مذاکرات سے واقف ن لیگ کے دو رہنماؤں نے بی بی سی کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کی شرائط کی فہرست طویل ہے جس کی وجہ سے ان مذاکرات میں زیادہ وقت لگ رہا ہے۔ خیال رہے کہ پیپلز پارٹی نے صدر، چیئرمین سینیٹ، سپیکر قومی اسمبلی اورصوبائی گورنرز سمیت اہم عہدوںپر اپنے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

سپریم کورٹ میں ذوالفقار علی بھٹو کو عدالت کی طرف سے دی جانے والی سزائے موت سے متعلق صدارتی ریفرنس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ان کی ماں اور پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کا خواب تھا کہ وہ اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف دلا سکیں۔ اب یہاں ایک صدارتی ریفرنس سنا جا رہا ہے۔ جج صاحبان یہ فیصلہ کریں گے کہ اس کیس میں کیا انصاف کیا گیا ہے۔ کیا آمریت کے دور میں ہونے والا بھٹو کا قتل درست فیصلہ تھا۔

اگر یہ درست فیصلہ نہیں تھا تو پھر ’ریمیڈی‘ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ اعلیٰ عدلیہ ہمیں انصاف دے گی۔‘ بلاول بھٹو نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب نے خود کہا تھا کہ بھٹو ریفرنس کیس عدلیہ کا امتحان ہے۔ اس طریقے سے عدلیہ اپنے اوپر داغ کو بھی دھوئے گی اور باقی جو داغ دوسرے اداروں پر ہے، ان اداروں سے بھی داغ دھونے کا ایک موقع ہمیں نظر آ رہا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ صدارتی ریفرنس کے ذریعے تاریخ درست ہو سکے گی۔ تاکہ ایک حد طے کر سکیں کہ جو ماضی میں ہوا وہ غلط تھا، تا کہ ہم مستقبل کی طرف دیکھ سکیں۔