اپنے ملک اور اپنی فوج کو کمزور نہ کریں
- تحریر مختار چوہدری
- منگل 20 / فروری / 2024
یہ خاکسار قبل ازیں بھی اپنے کالموں میں اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہ فوج اور عوام کے بیچ پیدا ہوتی خلیج ملک کے لیے بہت خطرناک ہے، گزارشات کر چکا ہے کہ اس افراتفری کا فوری تدارک کیا جائے۔ اور تمام اسٹیک ہولڈرز اپنی اپنی ضد، انا اور اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر ملک اور ملکی اداروں کو مضبوط کریں۔
لیکن 2022 کے اوائل سے شروع ہونے والی افراتفری اور عدم استحکام ہر دن کے ساتھ بڑھتا ہی گیا ہے اور اب پورے ملک میں بے ہیجانی کی کیفیت ہے۔ 8 فروری کے انتخابات اس قدر متنازعہ بنا دیے گئے ہیں کہ پاکستان کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں دھاندلی کا رونا رو رہی ہیں اور بین الاقوامی مبصرین بھی شک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ پاکستان میں ہونے والے تمام انتخابات میں ہارنے والے دھاندلی کے الزامات لگاتے رہے ہیں مگر اس بار تو جیتنے والوں نے سب سے زیادہ شور مچا رکھا ہے۔ اور دھاندلی بھی اس طریقے سے ہوئی کہ ہارنے والے یہ دعوے کر رہے ہیں کہ پریزایئڈنگ افسران کے مرتب کردہ نتائج کو ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں اس طرح تبدیل کیا گیا کہ 50 ہزار کی برتری سے جیتنے والے ہار گئے۔
اس بار انتخابات سے پہلے ہی ایک بڑی سیاسی جماعت کی قیادت پر بیسیوں مقدمات درج کروا کر جیلوں میں بند کیا گیا اور کئی مقدمات میں عجلت میں سزائیں سنائی گئیں۔ اس جماعت سے انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کے آزاد امیدواروں کی انتخابی مہم میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ پورے ملک میں ایک بھی انتخابی جلسہ نہ کرنے دیا گیا۔ دوسری طرف ن لیگ کی قیادت کو اس طرح پیش کیا گیا کہ حکومت انہی کو ملنی ہے۔ بلکہ ن لیگ کی قیادت کو سرکاری پروٹوکول دیا گیا۔ ان حالات کے باوجود بھی زیر عتاب جماعت پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے نامزد کردہ امیدوار بیشتر حلقوں میں برتری لے گئے تو پھر ریٹرننگ افسران کے دفاتر میں نتائج بدلنے کی شکایات آنا شروع ہو گئیں۔
ملک کی تمام قابل ذکر سیاسی جماعتوں کو ان انتخابات پر تحفظات ہیں۔ اور کچھ جماعتیں سراپا احتجاج ہیں۔ چاروں صوبوں کے کئی مقامات پر دھرنوں اور سڑکیں بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ آئینی اور قانونی طور پر انتخابات کا انعقاد اور انتخابات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں سب کے ذہنوں میں یہ تاثر راسخ ہو چکا ہے کہ الیکشن کے فیصلے ہماری فوجی قیادت کے زیر اثر ہوتے ہیں۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت اسی جماعت یا جماعتوں کی بنے گی جن کی پشت پر مقتدرہ ہوگی۔ 9 مئی کے فسادات کے بعد تو یہ تاثر بہت گہرا ہو چکا کہ ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، یہ سب فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ایما پر ہو رہا ہے۔ اب قطع نظر اس کے کہ اس تاثر میں کتنی سچائی ہے لیکن اس کی آڑ میں پاک فوج کو بدنام کرنے کی مذموم مہم زور و شور سے چلائی جا رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمن صاحب نے تو پریس کانفرنس میں براہ راست فوجی قیادت کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش کی ہے۔ جبکہ دوسری کئی جماعتیں بھی دبے لفظوں اور اشاروں کنایوں سے یہی بات کر رہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ملک میں دہشتگردی اور سرحدوں کی نازک صورتحال میں ہماری فوج کا کسی سیاسی تنازعے میں الجھنا ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ یوں تو کسی بھی ملک کی فوج اور عوام کا متحد ہونا ہی ملکی سلامتی کی ضمانت ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں تو اس کی اشد ضرورت ہے کہ عوام اور فوج کے درمیان کوئی غلط فہمی نہ ہو اور عوام فوج کے ساتھ والہانہ محبت کریں۔
پاکستان کے موجودہ حالات اور پاکستان کی معاشی مشکلات کی ذمہ داری سیاسی قیادت کے ساتھ ساتھ سول اور فوجی اسٹیبلشمنٹ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ہم من حیث القوم گروہی مفادات کے اسیر ہیں اور اپنے ملک کے ساتھ مخلص نہیں ہیں۔ لیکن اب ہمارا ملک مزید عدم استحکام کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے تمام فریقین کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔ ملک کو مشکلات سے نکالنے کے لیے نہایت ایمانداری سے اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر یکجہتی پیدا کرنا ہوگی۔ انتخابات کے بعد کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہمیں اپنی سیاسی قیادت سے ایسی توقعات نہیں ہیں۔ اس لیے اداروں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
فوج اور عدالتیں پاکستان کے آئینی ادارے ہیں۔ ان کا تعلق کسی ایک جماعت سے نہیں ہے۔ ملک جب بھی کسی مشکل میں ہوتا ہے تو عوام فوج کی طرف دیکھتے ہیں۔ گو کہ فوج کا سیاسی معاملات میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن موجودہ صورتحال میں فوجی قیادت کو آگے بڑھ کر مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ ویسے بھی تو سب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ فوج ہی سب کچھ کرتی ہے تو پھر کیوں نہ ہماری فوجی قیادت آگے بڑھ کر تمام سیاسی قیادت کو اکٹھا کرکے، ان کے ساتھ کھل کر بات کریں اور ان کے درمیان ایک ایسا میثاق کروایا جائے کہ اگلے 10 برس تک ملک کی معاشی حالت بہتر کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کیا جا سکے۔ بدعنوانی کے خلاف کوئی فول پروف نظام وضع کیا جائے۔ ٹیکس کا نظام درست کیا جائے۔ عوام کا حکومت اور اداروں پر اعتماد بحال کیا جائے۔
اس کے لیے قومی حکومت بنائی جا سکتی ہے یا پھر دھاندلی کی تمام شکایات دور کرکے انتخابات کے درست نتائج سامنے لا ئے جائیں اور اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دے کر 5 سال تک اس کے ساتھ تعاون کیا جائے تاکہ وہ ملک کی درست سمت کا تعین کر سکیں۔ اور آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کے ساتھ ساتھ دھاندلی کے تمام طریقوں کو ختم کیا جائے۔ ملک کی معاشی پالیسیوں کو مرتب کرتے وقت کمزور طبقات کی بجائے اشرافیہ پر بوجھ ڈالا جائے۔ تمام مراعات یافتہ طبقات کی مراعات میں کمی لائی جائے اور ان سے ٹیکس لیا جائے۔ حکومتی شخصیات اور تمام افسران سے غیر ضروری پروٹوکول اور سرکاری مراعات واپس لی جائیں۔