شہباز شریف وزیراعظم اور آصف زرداری صدر ہوں گے

  • بدھ 21 / فروری / 2024

مسلم لیگ(ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے وفاق میں مل کر حکومت سازی کا اعلان کرتے ہوئے شہباز شریف کو وزیر اعظم اور آصف علی زرداری کو صدر مملکت کے عہدے کے لیے نامزد کردیا ہے۔

اسلام آباد میں کل رات شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ مذاکرات کے لیے قائم پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کی کمیٹیوں نے بڑی محنت کے بعد اپنا کام مکمل کیا ہے۔ میں اب آپ کو بتا سکتا ہوں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے نمبرز پورے ہو چکے ہیں اور ہم حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔

بلاول نے کہا کہ جو جماعت سنی اتحاد کونسل کے نام سے قومی اسمبلی میں موجود ہے، ان کے پاس حکومت بنانے کے نمبرز موجود نہیں تھے اور اب پاکستان کو بحران سے نکالنے اور معاشرے میں پھیلی تقسیم کو ختم کرنے کے لیے پاکستان مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت بنانے پر متفق ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ جلد از جلد شہباز شریف ایک بار پھر ملک کے وزیراعظم بنیں گے اور ہم سب کی دعا یہ ہے کہ حکومت کامیاب ہو۔

انہوں نے مسلم لیگ(ن) کا شکریہ ادا کیا کہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار صدر زرداری کی حمایت کررہے ہیں۔ صدر پاکستان کے لیے ہمارے مشترکہ امیدوار صدر آصف علی زرداری ہوں گے۔ ہم مل کر مسائل کا مقابلہ کریں گے اور ہماری پوری کوشش ہو گی کہ عوام کی جو ہم سے امیدیں ہیں، ہم اس کے مطابق کارکردگی دکھا سکیں۔ میں آپ سب کا بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کا شکر گزار ہوں۔

اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ چند دن پہلے اور درجہ بدرجہ پیپلز پارٹی کے زعما نے جیت کر آنے والے آزاد امیدواروں کو یہ پیغام دیا کہ اگر وہ حکومت بنا سکتے ہیں تو بڑے شوق سے بنائیں۔ قوم کو اپنی اکثریت دکھائیں، ہم ناصرف اس کو دل سے قبول کریں گے بلکہ انہیں مبارکباد پیش کریں گے۔ آئین کے مطابق ہم باقاعدہ اپوزیشن بینچز پر بیٹھیں گے اور وہ کاروبار حکومت چلائیں کیونکہ یہ اس وقت ملک کی اہم ترین ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جیسا آپ نے دیکھا کہ ان کے پاس مطلوبہ تعداد نہیں ہ۔ ابھی انہوں نے سنی اتحاد اور مجلس وحدت مسلمین کے ساتھ اپنا انتظام کیا ہے لیکن اس کے باوجود بھی ان کے پاس مطلوبہ نمبرز نہیں۔ ہماری جماعت اور پیپلز پارٹی کی مذاکرات کے لیے قائم کمیٹیوں کے درمیان گفتگو کے کئی دور ہوئے۔ ہر مرتبہ ایک مثبت سوچ کے ساتھ گفتگو ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم یہاں بیٹھے ہیں اور مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے پاس مطلوبہ تعداد ہے اور ہم پیپلز پارٹی کے مل کر نئی حومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔

مسلم لیگ(ن) کے صدر نے بلاول اور آصف علی زرداری کا تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے قائد میاں نواز کا بھی بہت مشکور ہوں کہ جن کی رہنمائی میں ہم یہ گفتگو حتمی اور مثبت نتیجے پر پہنچی ہے۔ اس اتحاد کا یہ فیصلہ ہے کہ ہمارے پاس مطلوبہ تعداد ہے تو ہم متفقہ طور پر صدر آصف علی زرداری کو آئندہ پانچ سال کے لیے صدر منتخب کروائیں گے۔ میں ہمارے اتحاد میں شامل ایم کیو ایم اور استحکام پاکستان پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کا بھی شکر گزار ہوں۔

شہباز شریف نے کہا کہ اس وقت دہشت گردی کی لہر نے دوبارہ سر اٹھایا ہے اور اس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں ہمارے بے شمار بھائی بہن شہید ہوئے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان شہید ہوئے ہیں، اس اتحاد نے اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس اتحاد نے مہنگائی کے خلاف جنگ کرنی ہے۔ معیشت کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے اور اس ملک میں معاشی ترقی اور خوشحالی اور ملک کی زرعی اور صنعتی پیداوار کو بڑھانے کے لیے اس ملک کی نوجوان نسل کو جدید خطوط پر تعلیمی مواقع مہیا کرنے ہیں۔

یہ حکومت برائے حکومت، وزارتوں یا باریاں لینے کی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایثار اور قربانی کا سفر ہے۔ اس وقت ہمیں پاکستان کو مشکلات سے بچانا ہے، پاکستان کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔ پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے کر جانا ہے اور اس میں سب نے اپنا حصہ ڈالنا ہے۔

پاکستان میں آٹھ فروری کے انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات بالاخر کامیاب ہو گئے ہیں۔ دونوں جماعتوں نے شراکتِ اقتدار کے فارمولے پر اتفاق کر لیا ہے جس کے تحت آصف زرداری کو صدرِ پاکستان اور (ن) لیگ کے میاں شہباز شریف کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے لیے نامزد کردیا گیا ہے۔

دونوں جماعتوں کے درمیان منگل کی شب دیگر آئینی عہدوں کی تقسیم پر بھی اتفاق ہوا ہے مگر دونوں جماعتوں کی قیادت نے ان عہدوں پر فیصلوں کا اعلان بعد میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کے شراکتِ اقتدار کے معاہدے کے تحت چیئرمین سینیٹ کا عہدہ پیپلز پارٹی اور اسپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو ملے گا۔ اسی طرح ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مسلم لیگ (ن) کا ہو گا جب کہ ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کا عہدہ پیپلز پارٹی کو دینے پر اتفاق ہوا ہے۔

دونوں جماعتوں کے درمیاں یہ بھی طے پایا ہے کہ صوبۂ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گورنر کا عہدہ پیپلز پارٹی جب کہ سندھ اور بلوچستان کے گورنر کا عہدہ مسلم لیگ (ن) کو ملے گا۔ بلوچستان میں وزیرِ اعلی کا عہدہ پیپلز پارٹی کو ملے گا جب کے صوبہ پنجاب میں پیپلز پارٹی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی حمایت کرے گی۔

دونوں جماعتوں کے درمیان حکومت سازی کے لیے طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات کو دیکھنے سے بظاہر لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی اپنی شرائط پر حکومت سازی کے لیے معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ معاہدے سے قبل چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت میں شامل نہ ہونے اور وزارتیں نہ لینے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم آئینی عہدے لیں گے۔ پیپلزپارٹی اس فیصلے کے تحت بظاہر آئینی عہدے لینے میں کامیاب ہوئی ہے اور مسلم لیگ (ن) کو وفاق میں حکومت سازی کے لیے اپنے مؤقف سے دو قدم پیچھے ہٹنا پڑا ہے۔

مگر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدرِ پاکستان کے انتخاب کے بعد پیپلز پارٹی کے کابینہ میں شامل ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت سازی کے لیے قائم کردہ مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان بات چیت کا چھٹا دور منگل کو ہوا لیکن مذاکرات کے کامیاب ہونے کا کوئی اعلان نہ ہوسکا۔