مقتدرہ جمہوریت کی محافظ؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 21 / فروری / 2024
حکومت سازی کے لیے نمائشی تعطل ختم ہوا۔ ہمارے طاقتوروں نے جو کچھ چاہا الحمد للہ وہ سب ہوگیا مگر اس میں کوئی چیز بھی انوکھی یانرالی نہیں۔
9فروری کے روز ہی سب کچھ واضح تھا کہ سولہ ماہ والی جیس تیسی سوغاتیں پھر مسلط ہونے جارہی ہیں۔ بلند پرواز ہمارا وزیراعظم ہوگا اور پاکستان کھپے والا سب پر بھاری ہمارا اگلا صدرہوگا۔ بچہ جمہورا جو الٹی سیدھی ہانک رہا تھا، وہ سب شاید سیاسی بلوغت کا فقدان تھا۔ درویش نے تب بھی گزارش کی تھی کہ بڑی بڑی چھوڑنے یا بڑھکیں ہانکنے سے اجتناب کیاجائے۔ ن لیگ والوں سے بھی کہا تھا کہ سمجھداری سے کام لیتے ہوئے اس نوجوان کو مطمئن کرو۔ اس تضادستان کی تو تقدیر میں ہی اس کے یومِ تاسیس سے یہ لکھا ہے کہ اقتدار کے حریص و لالچی چاہے بظاہر بزرگ ہوں یا نوجوان جب وہ اپنی آئی پر آجاتے ہیں یا عوام میں جگہ بنا لیتے ہیں تو کوئی ان کا رستہ نہیں روک سکتا۔ وہ ممالک کو توڑ کر بھی اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوجاتے ہیں۔
روزِ اول سے یہی ہماری ریت چلی آرہی ہے۔ ہمارے اس ملک بدنصیب کا المیہ ہی یہ ہے کہ صلاحیت ہو نہ ہو عہدہ انہیں بڑا چاہیے آؤٹ پٹ یا ڈلیوری کیا دیتے ہیں وہ ان کی بلا سے۔ یہی تو وہ لچھن ہیں جن کے کارن یہ ملکِ بدنصیب آج اس حالت کو پہنچ چکا ہے کہ کروڑوں باسی اس ملک سے بھاگ جانا چاہتے ہیں۔ ہمارے نوجوان یورپ پہنچنے کی خاطرکشتیوں میں ڈوب کر مر رہے ہیں اور ہمارے پاسپورٹ دفاتر میں لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ مہنگائی، غربت، بھوک اور بے روزگاری نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ لوگ بجلی کے بلوں کو لے کر مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن عسکری و سیاسی قیادت کے دعوے قابلِ ملاحظہ ہیں کہ انہوں نے کشمیر اور فلسطین کی جنگیں لڑنی ہیں، لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرانا ہے۔ پوری دنیا میں اپنا ڈنکا بجانا ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ یہاں سیاسی بحران ہے۔ بندہ عرض گزار ہے کہ سیاسی نہیں اخلاقی بحران
ہے۔ عقلی و شعوری بحران ہے، رواداری و برداشت کا بحران ہے، معاشی و سماجی بحران بھی انہی کا حصہ ہیں۔ اگر رواداری سے کام لیا جائے تو ن لیگ اور پی پی میں کیا فرق ہے؟ کیا دونوں کی اعلیٰ قیادت نے برسوں قبل چارٹر آف ڈیموکریسی سائن کرتے ہوئے یہ طے نہیں کرلیا تھا کہ وہ آمریت و جبر کے بالمقابل آئین، جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے باہم ایکتا کا مظاہرہ کریں گے۔ اگر یہ قومی سوچ یا اپروچ حاوی ہو تو پھر چھوٹے چھوٹے گھٹیا مفادات کی خاطر یہ دونوں ایک دوسرے کے خلاف منافرت کیوں پھیلاتے ہیں۔ بالخصوص ایک نوجوان نے ن لیگ کی قیادت کے خلاف لاہو رکے جلسوں میں کھڑے ہوکر جس نوع کی غیر ذمہ دارانہ زبان اپنائے رکھی، آج شاید وہ اس پر شرمندگی محسوس کررہا ہو۔ ان دنوں بھی بظاہر وہ لاکھ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے عہدے نہیں لینے مگر جن کی خدمت و خوشنودی کے لیے یہاں بلند پرواز اور بچہ جمہورا میں ایک نوع کا دنگل برپا رہتا ہے، ان کے اشارۂ ابرو پر آپ نے میٹھی
گاجریں کیا کڑوی گولیاں بھی کھالینی ہیں۔
اصل المیہ تو ان کا ہے جنہیں طاقتور منہ نہیں لگا رہے۔ حالانکہ ہمارے شاید بہت سےسادہ لوح دوست یہ خیال کیے بیٹھے ہوں کہ وہ نہ جانے کون سے اعلیٰ آدرشوں کے لیے مخالفت بازی پر تلے بیٹھے ہیں، کئی ایسے ناہنجار ملتے ہیں جو اپنی خوش گمانی اس طرح بیان کرتے ہیں کہ گویا جبر و آمریت کے بالمقابل جمہوریت یا سویلین اتھارٹی منوانے کا ایشو کھڑے ہوگیا ہے۔ بندہ ان کی خدمت میں عرض گزارتا ہے کہ ان کا کھلاڑی یا اناڑی تو وہ ہے جو طاقتوروں کو تاحیات ابا ماننے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اُسے وزارتِ عظمیٰ کے سنگھاسن پر بٹھائے رکھو۔ چاہے سارے اختیارات تم لوگ خود ہی استعمال کرلو۔ بس ہماری چمک دمک اور آنیاں جانیاں قابلِ ملاحظہ ہونی چاہیں۔ ہم بزدار کو بٹھائیں یا گوگی کو بس ہمارا شغل میلہ لگا رہنا چاہیے۔
یہ ہے ہماری فکری تنزلی کی موجودہ حالتِ زار، یہی غیر سیاسی جنونی سوچ ہے کہ جیسے تیسے اتنی سیٹیں جیت کر بھی عبداللہ جیل میں فاختائیں اڑا رہا ہے، باقی اگلا اگا کس نے دیکھا ہے۔ کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک۔ اس وقت اصل خسارے میں ہمارے مولانا صاحب رہ گئے ہیں جو اچانک ہار کی فرسٹریشن میں وہ لائن لے بیٹھے جس میں سوائے خسارے کے کچھ نہ تھا۔ ان کی اچھی بھلی بات بنی ہوئی تھی، اب کے بھی کم از کم اتنی تو بنی رہ سکتی تھی جتنی ایم کیو ایم والوں کی۔ مگر پریشانی و بدگمانی میں وہ اپنا ہی نقصان کر بیٹھے۔
” سنی اتحاد کونسل” والے اپنا کچھ بھلا کرنے کے قابل نہیں ہیں، ان کی بھلائی وہ کیا کرسکتے ہیں۔ اور پھر کے پی میں مولانا کا میچ جب بھی پڑنا ہے انہی شہد والوں سے پڑنا ہے جن کے ساتھ انہوں نے ناسمجھی میں محبت کی پینگیں استوار کیں۔ مگر حاصل حصول زیرو جمع زیرو رہا۔ اب دھاندلی دھاندلی کے کھیل پر ایکا ہے مگر کب تک؟ اس ملک بدنصیب میں دھاندلی ایک ایسا رولا یا واویلا ہے جو سوائے ستر والے الیکشن کے ہر انتخابی معرکے کے بعد خوب اچھالا گیا۔ اس کے وزن سے انکار نہیں لیکن اس کا حاصل حصول دو صورتوں میں ہی ہوسکتا ہے۔ یا تو ایسے الزامات کو عدالتوں میں ثابت کیاجائے یا پھر بھرپور عوامی احتجاجی تحریک کے ذریعے اپنی سچائی منوائی جائے۔ اگر آپ یہ دونوں کام نہیں کرسکتے تھے تو پھر پروپیگنڈہ ٹول کے طور پر رولا ڈالتے رہو۔ لیکن سسٹم کے ساتھ چلتے ہوئے جمہوری تقاضے پورے کرو تاوقتیکہ عہدوں پر براجمان ہونے والے اپنی عوام دشمن پالیسیوں اور اپنے کرتوتوں سے عوامی نظروں میں از خود راندۂ درگاہ ہوجائیں۔
ن لیگ کے قائد نے موجودہ حالات میں خود وزیراعظم نہ بن کر جتنا اچھا فیصلہ کیا ہے، اپنے بھائی کو اس عہدے پر بٹھا کر انہوں نے اتنا ہی بُرا کیا ہے۔ آزمودہ را آزمو دن جہل است کا یہی مطلب ہے کیا آپ نے سولہ ماہ کے تجربے سے یہی سبق سیکھا ہے؟ آج آپ کے بالمقابل کوئی کھلاڑی یا اناڑی پاپولر نہیں بلکہ آپ کی مقبولیت یا ساکھ کو جو نقصان سولہ ماہ کی حکمرانی نے پہنچایا ہے، آج آپ نے دوبارہ اس کا اہتمام کردیا ہے۔ آپ کے لوگ اسے کانٹوں کا تاج کہتے ہیں جبکہ یہ کوئلوں کی لاحاصل دکان ہے جس کی قیمت حسبِ سابق آپ کو اور آپ کی پاپولیریٹی کو چکانی پڑے گی۔
عرض کی تھی کہ تین ناہنجاروں سے سیاسی طور پر ایک فاصلہ رکھیے۔ بہتر ہوتا کہ آپ پنجاب پر توجہ دیتے ہوئے وفاق میں اپنی حلیف پارٹی کو خوش کردیتے یا کم از کم اپنا گھوڑا ہی بدل لیتے۔ آپ کے اصطبل میں اس حوالے سے کون سی کمی ہے اور آپ طاقتوروں کو قائل کرنے کی پوزیشن میں بھی ہیں۔