پاکستان کے اقتصادی استحکام کیلئے نئی حکومت کے ساتھ کام کے منتظر ہیں: آئی ایم ایف
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے تمام شہریوں کی خوشحالی یقینی بنانے اور ملکی معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے نئی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے، جب تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان الیکشن میں مبینہ دھاندلی کے معاملے پر آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا تھا کہ عمران خان کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھا جائے گا، جس میں کہا جائےگا کہ جتنے حلقوں میں دھاندلی ہوئی وہاں آڈٹ کرایا جائے۔
بیرسٹر علی ظفر نے بتایا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے خط آئی ایم ایف کو جاری کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف، یورپی یونین اور دیگر آرگنائزیشن کا اپنا ایک چارٹر ہے۔ ان کا چارٹر کہتا ہے کہ ملک میں اسی وقت وہ کام کی اجازت، قرض دیں گے جب گڈ گورننس ہو۔ گڈ گورننس کی اہم شق یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت ہو۔ جس ملک میں جمہوریت نہیں، وہاں بین الاقوامی ادارےکام کرنا پسند نہیں کرتے۔
آج ایک پریس بریفنگ کے دوران آئی ایم ایف میں کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ جولی کوزیک سے اس بارے میں پوچھا گیا کہ کیا پاکستان جون 2023 میں طے پانے والے اسٹینڈ بائی معاہدے کی تیسری قسط کو حاصل کرنے کے راستے پر گامزن ہے۔ ان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ کیا آئی ایم ایف عمران خان کی جانب سے انتخابی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کرنے والے کسی خط کو قبول کرے گا؟
جولی کوزیک نے کہا کہ 11 جنوری کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے پہلے جائزے کی منظوری دی تھی۔ جس سے مجموعی طور پر 1.9 ارب ڈالر کی ادائیگیاں ہوئیں۔ عبوری حکومت کے دور میں حکام نے معاشی استحکام کو برقرار رکھا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ ہم پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے معاشی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے نئی حکومت کے ساتھ پالیسیوں پر تعاون کی توقع رکھتے ہیں۔ جب ان سے عمران خان کے ممکنہ خط پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ میں ملک میں جاری سیاسی پیش رفت پر تبصرہ نہیں کروں گی، اس لیے میرے پاس اس حوالے سے کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔
قبل ازیں، امریکی جریدے بلوم برگ نے امکان ظاہر کیا کہ پاکستان عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ نئے پروگرام کے لیے 6 ارب ڈالر قرضے کی درخواست کرے گا۔ جریدے کے مطابق اس سال واجب الادا قرض ادائیگی میں مدد کے لیے نئے قرضے کی درخواست کی جائےگی۔
پاکستان آئی ایم ایف سے توسیعی فنڈ کی سہولت پر بات چیت کرے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت مارچ یا اپریل میں شروع ہونے کی توقع ہے۔ گزشتہ موسم گرما میں پاکستان آئی ایم ایف سے مختصر مدت کے بیل آؤٹ کی بدولت ڈیفالٹ سے نکل گیا تھا۔ تاہم یہ پروگرام اگلے ماہ ختم ہو جائے گا اور نئی حکومت معاشی استحکام کے لیے طویل مدتی انتظامات پر بات چیت کرنا ہوگی۔
آئی ایم ایف کے ترجمان نے بتایا کہ آئی ایم ایف کا عملہ پاکستانی حکام کے ساتھ طویل مدتی اصلاحات کی ضروری کوششوں کے حوالے سے جاری بات چیت میں مصروف ہے۔ اگر درخواست کی جائے تو پاکستان میں جاری چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک نئے انتظام کے ذریعے انتخابات کے بعد نئی حکومت کی مدد کے لیے فنڈز دستیاب ہیں۔
فچ نامی ریٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ نئی حکومت کو کئی اہم مسائل کا سامنا کرنا ہوگا جن میں پاکستان کو فوری طور پر مختلف بین الاقوامی شراکت داروں سے رقم حاصل کرنا اہم مسئلہ ہے کیونکہ ملک کی مالی صورتحال پہلے ہی کمزور ہے۔
دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمٰن نے بانی پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی جانب سے آئی ایم کو ’لکھے خط‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈز کا پاکستان کے الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دعوت دینا ملک دشمنی نہیں تو کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کی تصدیق افسوسناک ہے۔ ہم اس خط کی شدید مذمت کرتے ہیں، اپنے دور میں ریکارڈ قرضہ لینے والوں کو اب یاد آیا ہے کہ قرضہ واپس کون کرے گا۔ جب خود قرضے لے رہے تھے اس وقت ان کو غربت اور مہنگائی بڑھنے کی فکر کیوں نہیں تھی۔
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق وزیر اعظم کے وکیل بیرسٹر گوہر علی خان نے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج آئی ایم ایف کو خط لکھیں گے اور ہر حال میں پاکستان میں قانون کی بالادستی اور رول آف لا چاہتے ہیں۔ یہ خط ملکی مفاد میں ہو گا۔‘