قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط میں تاخیر
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے قومی اسمبلی اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر مملکت کے پاس قومی اسمبلی اجلاس پیر کو بلانے کی سمری کل بھیجی گئی ہے۔
صدر کا خیال ہے کہ وہ سمری کو15 دن تک روک سکتے ہیں۔ صدر کو بریفنگ دی گئی ہے کہ آئین کے تحت قومی اسمبلی کا اجلاس 29 فروری کو لازمی بلا نا پڑے گا۔ آئین پابند کرتا ہے کہ انتخابات کے 21 دن کے اندر اجلاس لازمی بلایا جائے۔ اگر 29 فروری کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا تو اسی دن حلف کے بعد نئے اسپیکر کا شیڈول جاری کیا جائے گا۔ پھر یکم مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی کے لیے کاغذات جمع کروائے جائیں گے اور دو مارچ کو اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب ہوگا جس کے بعد اسی دن ڈپٹی اسپیکر کا بھی چناؤ کر لیا جائے گا۔
اسی طرح تین مارچ کو وزیراعظم کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا عمل ہوگا۔ 4 مارچ کو قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا الیکشن کرایا جائے گا اور 9 مارچ کو صدر کا انتخاب الیکشن کمیشن آف پاکستان کرائے گا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس بھی 29 فروری کو لازمی بلانا پڑے گا۔
مسلم لیگ ن کے سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ صدر مملکت نے سمری پر اجلاس نہ بلایا تو 29فروری کو اسپیکر آئینی طور پر خود اجلاس بلا سکتا ہے۔ پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ آئین میں بڑا واضح ہے کہ اگر اجلاس نہیں بلایا جاتا تو 21ویں روز اسپیکر کو اجلاس بلانے کا اختیار ہے اور آئینی 21دن کی مہلت کے حساب سے 29فروری آخری تاریخ بنتی ہے۔
8 فروری کو ہونے والے انتخابات کے بعد الیکشن کمیشن اب 9 مارچ تک صدر مملکت کے عہدے کے لیے انتخابات کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر کے انتخاب کا مرحلہ آدھے سینیٹر کی 6 سالہ مدت کی تکمیل کے بعد ریٹائرمنٹ سے صرف دو دن قبل مکمل کیا جائے گا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے کہا کہ موجودہ سینیٹرز چاروں صوبائی اسمبلیوں کے قیام کے بعد صدر کا انتخاب کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر کا انتخاب 9 یا 10 مارچ کو ہو سکتا ہے۔