رخصتی !
- تحریر علی اصغر عباس
- اتوار 25 / فروری / 2024
صدمہ موت کا ہو یا بچھڑنے کا ہڈیاں گھُلا دیتا ہے۔ آنکھ اور دل یکساں برتاؤ کرتے عالمِ اضطراب میں رہتے ہیں۔ بہتے ہیں تو بہتے ہی چلے جاتے ہیں اور ہم اندوہ و غم و رنج سہتے ہی چلے جاتے ہیں۔
خاک کے پُتلے کر بھی کیا سکتے ہیں۔ اپنا تو خمیر ہی اشکوں میں گوندھا گیا ہے۔ اپنوں کی جدائی کی کٹھالی میں دُکھوں کی موصلی سے کُوٹا جاتا ہے تو رزقِ خاک ہوئے وجود بھی غموں کے جھکڑوں میں غبارِ الم کے سونامی بن جاتے ہیں۔ مشیت ایزدی اجل کاری سے ردائے خاک پر فطرت کے ستارے ٹانکتی ہے تو آنسوؤں کے سیلاب میں پرِ کاہ سے ہلکے وجود کے تار و پود کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے۔ زیست بارِ امانت ہے، اترتا ہے تو آدم زاد کو ہر طرح کے بوجھ سے نجات دے دیتا ہے۔
روح کہ امرِ ربی ہے، دمِ واپسیں پرواز بھرتی ہے تو کہرام مچ جاتا ہے اسی کہرام میں جمالِ ہستی صدا لگاتا ہے کہ زندگی خوبصورت ہے اسے اوجِ مسرت سے ہمکنار کرنے کے لیے غموں کی تلخیاں بھی رنگ آمیز کرنا پڑتی ہیں۔ اسی تلخابۂ شیریں کے گھونٹ حلق میں اٹکی سانس کو دم لگاتے ہیں۔ میں حالتِ غم میں دم مارو دم الاپتا محوِ خرام ہوں کہ بقول ابنِ انشا، کچھ کام ہمیں نمٹانے ہیں، جنہیں جاننے والے جانے ہیں، کچھ پیار دُلار کے دھندے ہیں، کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں۔ اور جیون کا پھندا لگا یہ خاکی وجود عالمِ اضطرار میں بہت کچھ کر جاتا ہے۔ وقت کا جبر اسے خود پہ جبر کرنے پر مجبور کردیتا ہے۔ ہائے ہائے یہ مجبوری۔ بڑے بھائی کے جسدِ خاکی کو سفرِ آخرت کے لئے روانہ کرنے کی تیاریاں کرتے غم سے نڈھال بیٹوں کے حوالے کرکے قانونِ فطرت کے تقاضے پورے کرنے کے لیے گھر لوٹنا پڑا جہاں پیاری بیٹی اقصٰی کی شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔
اقصٰی عباس، میری لختِ جگر، جسے میں کبھی کبھار شرارت کرنے سے روکتا ہوا دھمکی لگاتا کہ میں آپ کو ماروں گا تو پیار سے مسکراتے ہوئے مجھے کہتی، ہمت ہے ؟ اور میں آج اسے کیسے بتاؤں کہ دیکھ تیرے کمزور دل باپ نے تجھے خود سے الگ زیست کرنے کا اذن دینے کی ہمت کر ہی لی... بزرگ برادر کے وچھوڑے کا صدمہ تیری مہندی کی خوشبو میں گھول کر پی گیا۔ تجھے خوشیوں کی سرشاری میں گل و گلزار دیکھ کر میں بھی نہال ہو گیا۔ کردگارِ ازل کی منشا تھی کہ یارِ عزیز مرحوم ناہید شاہد اور زندہ دل بھابی رخسانہ کی محبت کا فیضان تیرے وسیلے سے میرے گلستانِ حیات میں بہار لاتا:
طلب سے پہلے میرا کاسہ بھر دیتا ہے
میرے سارے کام وہ خود ہی کر دیتا ہے
جیسا لافانی حمدیہ شعر کہنے والے ناہید شاہد کے جند جان فیضان ناہید زمان خان کے ساتھ اقصٰی عباس کا رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونا بفضلِ تعالیٰ ہم دونوں دوستوں کی بے لوث باہمی محبت کا ان مٹ ثبوت ہے۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ وہ ہمارے حدیقۂ الفت کے بہار افزا نخلِ مؤدت کو ثمربار کرے اور اقصٰی و فیضان کے رشتۂ تقدیس کو طرفین کے لئے خیر وبرکت کا وسیلہ بنائے آمین ثم آمین یارب العالمین. غزل کے چند اشعار۔
آج کی غزل !
اک حادثے میں دانش و فکر و نظر گئے
جو نظریاتی لوگ تھے بے موت مر گئے
بے چہرگی کے خوف نے سب کو ڈرا دیا
جو رہبرِ حیات تھے, جینے سے ڈر گئے
عقل و شعور و درک کا خانہ خراب ہے
اب شامِ زُود خواب کے سائے اُتر گئے
لوحِ جمالیات پہ کندہ ہوس ہوئی
کیسے چراغ تھے کہ جو اندھیرا کر گئے
ہر گام ایک آئنہ خانہ تو ہے مگر
اس کے ہوئے قریب جو بھی, بے بصر گئے
ٹوٹا پڑا ہے سلسلہء واقعاتِ زیست
کڑیوں کو جوڑ صدیاں بناتے کدھر گئے
منظر تراش! چشمِ تصور میں جھانک, دیکھ
کیا سرسراتی روحوں کے پیکر سنور گئے
خوش فہمیوں کا پالنا آسان کام ہے
ہم لوگ حسن و خوبی سے یہ کام کر گئے
عہدِ زیاں کا بوجھ جو عمرِ رواں پہ تھا
اصغر اسے اتارتے ہی اپنے گھر گئے