اچھرہ کا واقعہ اور مریم نواز کی ’ریڈ لائن‘

مریم نواز نے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ   ’کسی خاتون کو ہراساں کرنا مریم نواز کی ریڈ لائن ہے۔اقلیتیں ہمارے سروں کا تاج ہیں اور اقلیتوں کے لیے محفوظ پنجاب دیکھنا چاہتی ہوں‘۔ نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس عزم کو اگر گزشتہ روز اچھرہ لاہور میں پیش آنے والے سنگین ہراسانی کے واقعہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ امید کی جاسکتی ہے کہ نئی صوبائی حکومت صوبے میں مذہبی شدت  پسندی کے خاتمہ کے لیے بھی اسی تندہی سے کام کرے گی جس کا دعویٰ مہنگائی ختم کرنے اور دیگر عوام دوست منصوبوں کے بارے میں کیا جارہا ہے۔

اچھرہ میں پیش آنےوالے واقعہ پر بطور قوم تمام پاکستانیوں کا سر شرم سے جھکنا چاہئے ۔ اس کی دو وجوہات فوری طور سے نوٹ کی جاسکتی ہے۔ اس افسوسناک  سانحہ کی پوری دنیا میں تشہیر ہوئی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کی ایسی شبیہ سامنے آئی ہے  جو کسی باوقار اور باعزت قوم کے شایان شان نہیں ہوسکتی۔  اس واقعہ سے یہی واضح ہؤا ہے کہ مذہب کا نام آتے ہی پاکستان کے شہری  وحشت ناک ہجوم میں تبدیل ہوکر کسی بھی ناجائز اور غیر قانونی اقدام پر تیار ہوجاتے ہیں۔ اور جن لوگوں کی ذمہ داری  یعنی  دینی رہنما اور پولیس،  انہیں ہوش کے ناخن لینے اور سچائی جاننے کا سبق   دینا چاہئے، وہ مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے پیدا کیے ہوئے ماحول میں ہراسانی کا نشانہ بننے والے  شخص کو ہی معافی مانگنے پر مجبور کرنے لگتے ہیں۔

اس قومی شرمندگی کی دوسری وجہ یہ ہونی چاہئے کہ  اسلام  کا پیروکار ہونے کے ناطے پاکستانی مسلمانوں کا یہی دعویٰ ہوتا ہے کہ  وہ ایک پرامن عقیدہ کے ماننے والے ہیں اور مغربی ممالک نے جھوٹے اور بے بنیاد پروپگینڈے کی بنیاد پر مسلمانوں کو دہشت گرد یا انتہا پسند مشہور کیا ہے۔  اس کے لیے وہ رسول پاک ﷺ کی حیات مبارکہ سے مثالیں  دیتے ہیں اور  یہ کہتے ہیں  کہ ہمارے پیارے نبی تو  رحمت اللعالمین ہیں، ان کی ذات سے  دوست  تو دوست کبھی کسی دشمن کو بھی گزند نہیں پہنچی ۔ بلکہ وہ خود  اپنے آپ سے زیادتی کرنے والوں کے ساتھ بھی محبت  و شفقت کا سلوک کرتے تھے۔ البتہ  اچھرہ میں  جیسے ایک خاتون کو محض  لباس پر عربی لفظ پرنٹ ہونے کی وجہ سے فوری طور سے   توہین مذہب کا مرتکب قرار دیتے ہوئے نشانہ بنانے کی  کوشش کی گئی ، وہ کسی طور اس احسن اخلاق کی عکاسی نہیں کرتا جس کا دعویٰ  ہم بطور مسلمان کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس موقع پر شرانگیزی پر اترا ہؤا ہجوم یا تماشائی ، یہ غور کرنے پر آمادہ نہیں تھا  کہ وہ تو ایک امن پسند مذہب کا ماننے والا ہے اور جس طریقے سے ا یک عورت کو گھیر کر خوفزدہ و مطعون کیا جارہا تھا، وہ کسی  طرح بھی   طرح حضرت محمد ﷺ کا طریقہ نہیں ہے  ہوسکتا۔ ایسے شخص کے بارے میں کیا کہا جائے جو خود کو  نبی آخرالزماں کا امتی بھی کہتا ہے لیکن اپنے قول و فعل میں ان کی  سنت، احکامات اور ہدایات پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔

اس واقعہ میں مرکز ی کردار ادا کرنے والی نوجوان پولیس افسر  شہربانو نقوی یقیناً تحسین  کی مستحق ہیں۔ انہوں نے  نہ صرف مشکل صورت حال  میں  شدید دباؤ  اور خطرے کا شکار خاتون کو باحفاظت باہر نکالا بلکہ  نہایت حوصلہ مندی سے مشتعل ہجوم کو سمجھانے کی کوشش کی  کہ پولیس توہین مذہب  کے معاملات کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور اگر اس معاملہ میں بھی کوئی زیادتی ہوئی  ہے تو  پولیس   تحقیقات کے بعد مناسب و ضروری کارروائی کرے گی۔  اس واقعہ کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد  سوشل میڈیا پر شہربانو کی تعریف کی جارہی ہے اس کے علاوہ آئی جی پولیس نے بھی انہیں اعزاز دینے کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک پولیس افسر کی طرف سے بروقت کارروائی کرکے کسی شخص کو مشتعل ہجوم سے بچانے کے بعد پولیس کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے اور کیا اعلیٰ افسران متعلقہ  اے ایس پی کو تمغہ یا توصیفی سرٹیفکیٹ  دے کر اپنی محکمانہ اور سماجی ذمہ داری سے عہدہ برآہوجائیں گے؟

 اس حوالے سے مشتعل ہجوم کی غنڈہ گردی کے  دوران میں  رونما ہونے والے واقعات پر غور کرنے کے علاوہ یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ  پولیس جب خاتون کو لے   کرتھانے پہنچی تو اسے   باحفاظت گھر پہنچانے کا اہتمام نہیں ہؤا۔ بلکہ علاقے کے متعدد مولویوں کو جمع کیا گیا اور  خوفزدہ خاتون کوان کے درمیان   بٹھا کر  معذرت کا بیان ریکارڈ  کروانے پر مجبور کیا گیا۔  اس ویڈیو میں واقعہ کا عینی شاہد ایک  باریش شخص  خود ہی بتاتا ہے کہ ’بیٹی نے جو لباس پہنا تھا اس پر لکھے حروف کے  بارے میں غلط فہمی ہوگئی تھی، اب اس نے معافی مانگ کر معاملہ  ختم کردیا ہے‘۔ اس کے بعد دو مولوی اس نحیف و پریشان خاتون کو اپنے حصار میں لے کر معذرت  و معافی کا بیان دلوا رہے ہیں۔  خاتون   اپنے راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کا بیان دیتے  ہوئے یقین دلاتی ہے کہ وہ مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور ان  کے سسر حافظ قرآن ہیں۔ اس کے باوجود ایک مولوی لقمے دے کر سہمی ہوئی  عورت کے  منہ سے  معافی کا اعتراف کروا رہا ہے۔  اس سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کہے کہ اس کا تعلق اہل سنت والجماعت سے ہے۔

پولیس کی طرف سے اس ویڈیو کی تیاری اور اشاعت کا یہ جواز دیا گیا ہے کہ  اس معافی کے بعد  خاتون کی زندگی کی ضمانت حاصل کی گئی ہے۔ تاکہ بعد میں کچھ مفسد عناصر اسے پھر سے عاجز نہ کریں۔   اس وضاحت سے  کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ ایک کا تعلق اس  دعوے سے ہے جو آج پنجاب کی  وزیر اعلیٰ مریم نواز نے دیا ہے کہ ’کسی خاتون کو  ہراساں کرنا مریم نواز کی ریڈ لائن ہے‘۔  اس بیان کی روشنی میں دیکھا جائے تو   اچھرہ بازار میں ہجوم کو مشتعل کرنے جمع کرنے والے عناصر اور بعد میں پولیس  کی معیت میں ایک مظلوم اور ہرساں کی گئی خاتون کو معافی پر مجبور کرنے والے مولوی، یکساں طور سے  یہ  ریڈ لائن   عبور کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ پولیس  نے خاتون کو یہی مشورہ دیا کہ وہ اپنی جان بچانے اور پولیس کی مشکل آسان کرنے کے لیے  معافی  مانگ لے تاکہ  اشتعال پیدا کرنے والوں کی تسلی ہوسکے۔ اس طریقہ سے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ معاشرے کے فسادی عناصر کو وزیر اعلیٰ کی ’ریڈ لائن‘ بنایا جارہا ہے۔ ورنہ خاتون کو محفوظ مقام پر پہنچانے کے بعد پولیس کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے تھا کہ کن   عناصر نے ایک  بے ضرر لباس پر خاتون کو دھمکیاں دیں بلکہ اسے بدعقیدہ اور اسلام کی توہین کا مرتکب قرار  دینے جیسے اشتعال انگیز اور ہلاکت خیز الزامات عائد کیے۔  تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی  کی جاتی۔  لیکن خود نشانے پر آنے والے عورت کو ہی معافی مانگنے پر مجبور کیا گیا۔  پولیس کا یہ طریقہ معاشرے میں پائی جانے والی افسوسناک مذہبی شدت پسندی کی جھلک پیش کرتا ہے ۔ اور اسے تقویت بھی دیتا ہے۔

پاکستان  علما کونسل کے سربراہ  علامہ طاہر محمود اشرفی نے ایک بیان میں اسی نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ معافی تو   خاتون کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے والے لوگوں مانگنی چاہئے۔ اس کی بجائے  ایک مشکل کا سامنا کرنے والی خاتون ہی سے معافی منگوائی جارہی ہے۔  لیکن دیکھا جاسکتا ہے     کہ علامہ اشرفی کے علاوہ کسی مذہبی گروہ  یا عالم دین کی طرف سے اس واقعہ  پر شرمندگی یا مذمت کا اظہار نہیں کیا گیا۔  کیوں کہ انہی عناصر نے گروہی اور ذاتی مفادات  کے لیے عوام کے دل و دماغ میں اتنا زہر بھر دیا ہے کہ اسے زائل کرنے کے لئے پوری قوم کو شدید محنت کرنے اور حکومت کو فوری سخت اقدام کرنے کی ضرورت ہوگی۔  یہاں یہ بھی نوٹ کرنا چاہئے کہ چند روز پہلے جب سپریم کورٹ نے قانونی میرٹ پر  ایک احمدی شہری کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا تو ملک  کے متعدد جید عالم  اس فیصلہ سے اسلام کو لاحق خطرے  کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے ۔ سینیٹ میں اب  بھی  اس معاملہ پر مسلسل بحث کی جارہی ہے اور سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست میں جماعت اسلامی بھی فریق بننا چاہتی ہے تاکہ چیف جسٹس کو اپنے فیصلہ پر شرمندہ ہونے پر مجبور کیا جائے۔

اچھرہ واقعہ کے بعد جاری ہونے والی ویڈیو کے حوالے سے یہ پہلو بھی اہم ہے کہ  خاتون نے اپنے صحیح العقیدہ مسلمان ہونے، مذہبی گھرانے سے تعلق اور گھر میں ایک بزرگ کے حافظ قرآن ہونے کا حوالہ دے کر جان چھڑانے کی کوشش  کی ہے۔ قیاس کیاجائے کہ اگر یہی بے ضرر لباس جس پر ’حلوہ‘ کا نہایت ہی عام سا لفظ چھپا ہؤا تھا، کسی غیرمسلم خاتون  نے زیب تن کیا ہوتا اور ووہ ایسے ہی  کسی بے راہرو ہجوم کے ہتھے چڑھ جاتی تو کیا اس کی گلو خلاصی ہوسکتی تھی؟ ملکی آئین تو ہر شہری کو عقیدے کا تحفظ فراہم کرتا ہے لیکن کیا یہ معاشرہ بھی اس اصول کو ماننے پر تیار ہے؟ سپریم کورٹ کے فیصلے پر مولویوں کے ردعمل اور اچھرہ واقعہ کے بعد خاتون کے معافی  نامہ سے اس کی تائید نہیں ہوتی۔  یہ خاتون اس لیے بچ گئی کہ  ایک مستعد اور ذہین پولیس افسر موقع پر پہنچ گئی اور  بعد میں اس نے اپنے مذہبی ہونے کا  یقین دلا تے ہوئےمعافی مانگ کر جان بچا لی۔  بصورت دیگر کیا ہوتا؟ کیا پولیس   اسلام کے علاوہ کسی دوسرے عقیدے  پر عمل کرنے والے کسی شخص کو ایسی صورت حال سے بچا پاتی؟  اس پر یقین کرنا محال ہے۔  ملک میں آئے روز ہونے والے  المناک سانحات کی روشنی میں  یہ اعتبار نہیں کیا جاسکتا ۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے  اقلیتوں کو اپنے سر کا تاج قرار دیا ہے۔

 معاشرے سے  مذہبی کا زہر نکالنے کے لیے اچھرہ جیسے واقعات کو  نظر انداز نہیں کیا  جاسکتا۔ پنجاب کی وزیر اعلیٰ اگر خواتین  و اقلیتوں کی حفاظت کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو وہ پہلی فرصت میں اس خاتون سے ملیں اور اس پریشانی پر  پنجاب کے عوام کی طرف سے ان سے معافی مانگیں۔ اس کے ساتھ  ہی ان مولویوں کے خلاف ایک خاتون کو دباؤ میں لانے، خوفزدہ و ہراساں کرنے کے الزام میں فوری کارروائی کا حکم جاری کریں۔ تاکہ   مذہبی انتہاپسندی پھیلانے اور اس کی پشت پناہی کرنے والوں کو بتایا جاسکے کی  پانی سر سے گزر چکا ہے ۔ اس ملک کو اگر آگے بڑھنا ہے تو مذہب کا نعرہ لگا کر    کوئی بھی جرم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ مریم نواز اپنے ہی اعلان کی روشنی میں اس نیک کام کا آغاز کرسکتی ہیں۔