مولانا فضل الرحمان سیاسی خود کشی نہ کریں
- تحریر سید مجاہد علی
- منگل 27 / فروری / 2024
سب شفاف انتخاب چاہتے ہیں۔ سب دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں۔ سب کا کہنا ہے کہ ان کے ووٹ چوری ہوگئے۔ کسی کو دوسرے کا نقصان دکھائی نہیں دیتا یا وہ صرف اپنی گم شدہ خواہشات کو ہی ’چوری‘ سمجھ بیٹھے ہیں۔ اگر ایسا ہو بھی پھر بھی یہی سب کے مفاد میں ہے کہ آگے بڑھا جائے۔ ایک دوسرے سے ملا جائے۔ گلے شکوے کیے جائیں اور اپنی ناتمام خواہشوں اور خام سیاسی ایجنڈے کے لیے ملکی مفاد کو داؤ پر نہ لگایا جائے۔
البتہ 8فروری کے انتخاب کے بعد جو کچھ دیکھنے میں آرہا ہے وہ اس سے متضاد ہے۔ کوئی کسی دوسرے کی بات پر کان دھرنے پر آمادہ نہیں ہے اور کوئی کسی دوسرے کے لیے جگہ دینے پر بھی راضی نہیں ہے۔ حتی کہ مولانا فضل الرحمان جیسے سرد و گرم چشیدہ سیاست دان بھی اشتعال انگیز اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو کو ہی آگے بڑھنے کا راستہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ آج ہی ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے فرمایا ہے کہ انتخابات میں اسٹبلشمنٹ نے دھاندلی کروائی ہے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف جیت گئی ہے۔اس سے یہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ سانحہ 9 مئی جھوٹ تھا اور یہ بیانیہ دفن ہوگیا ہے ۔ ان کا کہناتھا کہ ’ پھر تسلیم کریں کہ قوم نے باغی کو ووٹ دیا ہے اور ہم باغی کو ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ بنا رہے ہیں، اس بات کو تسلیم کریں۔ پھر شرمانا کس بات کا ہے‘۔ مولانا کا طرز تکلم سیاسی خود کشی کا راستہ ہے۔ کیا وہ واقعی اس راستے پر بڑھنے کا حتمی فیصلہ کرچکے ہیں؟
اس پریس کانفرنس میں مولانا کی باتوں میں پیش کی گئی منطق کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کا دعویٰ ہے کہ جس پارٹی اور لوگوں پر گزشتہ سال 9 مئی کو عسکری تنصیبات پر حملے کرنے اور قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کے دعوے کیے گئے تھے، وہ انتخابات میں جیت گئے ہیں۔ اس لیے یہ بیانیہ دفن ہوگیا ہے۔ یعنی اگر فوجی قیادت اپنی طاقت استعمال کرکے تحریک انصاف کو ذبردستی سیاست سے باہر کرواتی اور اس کی بجائے مولانا فضل الرحمان جیسے ’وفاداروں‘ کو باافراط اسمبلی کی نشستیں حاصل ہوجاتیں، تب مولانا کے نزدیک 9 مئی کا بیانیہ بھی زندہ رہتا اور ’شفاف انتخاب‘ کا تقاضہ بھی پورا ہوجاتا۔
مولانا جیسا ہوشمند سیاست دان شکست کی شرمندگی و پریشانی میں یہ سمجھنے سے بھی انکار کررہا ہے کہ 9 مئی 2022 کو تحریک انصاف کے احتجاج کے نتیجہ میں جو واقعات رونما ہوئے تھے، وہ کوئی بیانیہ نہیں تھا بلکہ حکومت و فوج کے مطابق مجرمانہ فعل تھا جس میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ ملوث تھے اور اس کا مقصد فوج میں افراتفری کے ذریعے سیاسی مقاصد حاصل کرنا تھا۔ ان سانحات کی تحقیقات کے بعد کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور متعدد کے خلاف اس روز غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام میں مقدمے درج ہیں۔ ابھی ان مقدمات پر عدالتی فیصلے سامنے نہیں آئے۔ اس کے بعد ہی یہ رائے قائم کی جاسکے کی کہ حکومت کا مقدمہ کتنا مضبوط ہے۔
البتہ اسے فوج کا بیانیہ قرار دے کر مولانا کی فوجی قیادت سے یہ فرمائش دلچسپ ہے کہ اگر تحریک انصاف فوج دشمن سرگرمیوں میں ملوث تھی تو پھر اس نے ان سیاسی قوتوں (یعنی مولانا کی جمیعت علمائے اسلام) کو کیوں نہیں جتوایا، جو طویل عرصے سے فوج کی وفاداری کا دم بھرتی آرہی ہیں بلکہ فوج کے سابق سربراہ کے کہنے پر عمران خان کو اقتدار سے نکالنے کے لیے تحریک عدم اعتماد تک لانے پر آمادہ ہوگئی تھیں۔ چونکہ فوج مولانا سمیت ان قوتوں کو سیاسی کامیابی دلوانے میں کامیاب نہیں ہوئی لہذا اسے دھاندلی کہا جائے اور اس کا سارا بوجھ فوج موسوم بہ اسٹبلشمنٹ پر ڈال دیا جائے۔ مولانا کا یہ شکوہ خود اپنی ساخت میں ہی بودا اور کمزور ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف واقعی سانحہ9 مئی میں ملوث تھی تو پھر عوام نے ایسے ’باغیوں‘ کو کیسے ووٹ دے کر کامیاب کروادیا؟ گویا انتخابات میں کبھی شہری کسی غلط آدمی یا کسی مقدمے میں مطلوب شخص کو ووٹ نہیں دے سکتے۔ یہ قیاس کرلینا درحقیقت انتخابی سیاست کی مبادیات سے نابلد ہونے کے مترادف ہے۔
البتہ مولانا فضل الرحمان کے بارے میں یہ نہیں سمجھا جاسکتا کہ وہ انتخابی سیاست کو نہیں سمجھتے لیکن حالیہ انتخابات میں وہ چونکہ ’سیاسی بارگیننگ‘ کی پوزیشن میں نہیں رہے ، اس لیے ان کی باتیں بدحواسی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان ہتھکنڈوں سے وہ فوج ہی نہیں بلکہ مرکز اور بلوچستان میں حکومت بنانے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں تاکہ کسی سیاسی حیثیت کے باوجود انہیں بلوچستان اور مرکز کے اقتدار میں مناسب حصہ مل سکے۔ دونوں پارٹیوں کی طرف سے مولانا کو ’اکاموڈیٹ‘ کرنے کے اشارے دیے بھی گئے ہیں لیکن لگتا ہے کہ وہ اپنے سیاسی جثے سے زیادہ حصہ مانگ رہے ہیں، اسی لیے سیاسی بیان بازی میں تندی لارہے ہیں۔ فوج سے مولانا کا یہ شکوہ ہے کہ ان کی جماعت کو تمام تر خدمت گزاری کے باوجود خیبر پختون خوا میں حکومت سازی کا موقع کیوں نہیں مل پایا ااور کیا وجہ ہے کہ تحریک انصاف ایک بار پھر وہاں حکومت بنارہی ہے۔ البتہ اس الزام کو دھاندلی میں فوج کی شرکت کا ثبوت نہیں مانا جاسکتا۔ اس کے برعکس اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ بعض لیڈروں کی خواہشات کے باوصف اسٹبلشمنٹ نے دھاندلی کے ہتھکنڈوں سے بعض سیاسی گروہوں کو کامیاب کروانے کی کوشش نہیں ہے۔ ان محروم رہنے والوں میں چونکہ مولانا فضل الرحمان بھی شامل ہیں اس لیے وہ تلملا رہے ہیں۔
وہ جوش خطابت میں اس حد تک اتر آئے ہیں کہ ملک کو داؤ پر لگانے کی بات کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پشاور میں کی گئی پریس کانفرنس میں مولانا کا کہنا تھا کہ ’ یہ سسٹم چلنے والا نہیں ہے اور مجھے فکر ہے کہ کہیں ملک نہ ڈھے جائے‘۔ اس کی وجہ وہ یہ بتا رہے ہیں کہ سسٹم کے اندر رہنے والے ناکام ہوں گے اور باہر رہنے والے ان کے خلاف مہم جوئی کریں گے۔ بین السطور تو اس کا یہی مطلب ہے کہ اعلیٰ عہدوں سے مولانا کا ’منہ بند‘ نہ کیا گیا تو وہ شور مچاتے رہیں گے اور ماضی کے آزادی مارچ طرز کے ڈھکوسلوں سے حکومت اور عوام کا جینا حرام کرتے رہیں گے۔ یہ واقعی نئی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کا اہم امتحان ہوگا۔
یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ انتخابات کے نتیجہ میں حکومت سازی اور صدر کے انتخابات کے بعد اسمبلیاں کام کرنے لگیں اور نئی حکومتیں پر امن ماحول میں ملکی مسائل حل کرنے پر توجہ مرکوز کرسکیں۔ یہ مان لینے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ آئی ایم ایف کے علاوہ دوست ممالک بھی بہت احتیاط سے آنے والے دنوں کا انتظار کررہے ہیں۔ اگر حکومت سازی کے بعد سڑکوں پر ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کا چلن روکا نہ جاسکا تو سرمایہ کاری تو دور کی بات ہے، شاید آئی ایم ایف سے مزید معاشی پیکیج لینے کی کوششیں بھی بارآور نہ ہوسکیں۔ کیوں کہ قرض دینے والے سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ملک میں امن ہو تاکہ پیداوار اور قومی آمدنی میں اضافہ ہوسکے۔ اگر یہ مقصد حاصل کرلیا گیا تو آئی ایف پیکیج کے علاوہ دوست ممالک سے بیس پچیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی آسکتی ہے جو پاکستان کی معیشت کو موجودہ بحران سے باہر نکال سکے گی۔ اسی طرح سی پیک منصوبہ ایک بار پھر فعال ہوسکتا ہے اور قومی آمدنی میں اضافہ کاسبب بن سکتا ہے۔ البتہ اگر فوج کی حمایت سے مستقبل کی حکومتیں ملک میں امن قائم کرنے کا اہم مقصد حاصل نہ کرسکیں تو حکومت کا مستقبل تو دور کی بات ہے لیکن عوام کی مشکلات ضرور دو چند ہوجائیں گی۔ مہنگائی، احتیاج اور پریشان حالی کا ماحول نہ حکومت کو کام کرنے دے گا اور نہ ہی یہ قومی سلامتی کے لیے اچھا پیغام ہوگا۔ ملکی سیاست میں اگر فوج کا واقعی اتنا ہی عمل دخل ہے جیسا کہ تصور کیا جاتا ہے تو آنے والے دنوں میں سیاسی دنگل کو اسمبلیوں تک محدود کرنا پڑے گا۔ اگر یہ کام نہ ہوسکا تو یہی سمجھا جائے گا کہ فوجی قیادت اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
تحریک انصاف کی قیادت میں جماعت اسلامی، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ، جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام انتخابی دھاندلی اور مینڈیٹ چوری کا شور مچارہی ہیں۔ پریس کانفرنسوں اور ٹاک شوز میں کبھی فارم 45 کا حوالہ دے کر ناقابل یقین کامیابی کا دعویٰ کیا جاتا ہے یا پھر مولانا فضل الرحمان کی طرح یہ کہہ کر ہی کام چلالیا جاتا ہے کہ ’الیکشن سے دستبردار شدہ لوگ کامیاب ہو گئے‘۔ لیکن حیرت انگیز طور پر یہ ثبوت متعلقہ اداروں، ٹریبونلز اور عدالتوں میں پیش کرنے میں اسی قدر تساہل و لاپرواہی سے کام لیا جارہا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اگر تحریک انصاف، جی ڈی اے، جماعت و جمیعت جس دھاندلی کی دھائی دے رہی ہیں، وہ اس کے ثبوت لے کر متعلقہ فورمز کا رخ کرنے کی بجائے اپنے حامیوں کو سڑکوں پر اترنے کی ہدایت کرتی ہیں۔ احتجاج سے ملک کا پہیہ جام کرنے کی سابقہ کوششوں میں ناکام ہونے کے بعد اب تحریک انصاف کے لیڈر شیر افضل مروت کے بقول عمران خان نے ہفتہ کو ملک بھر میں احتجاج کا مطالبہ کیا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ جو ملکی میڈیا تحریک انصاف یا مولانا فضل الرحمان کے ہمہ قسم اعلانات کو کوریج دینے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرتا ہے، اس نے بلوچستان میں تمام قوم پرست پارٹیوں کی طرف سے ہونے والے احتجاج کی خبر تک فراہم کرنا ضروری نہیں سمجھا۔
ملک مشکل میں ضرور ہے لیکن اس سے باہر نکلنے کا راستہ بھی اس ملک کے شہریوں ہی کے ہاتھ میں ہے۔ انتخابات میں کامیاب ہونے والی سب پارٹیاں یا کم از کم تین بڑی سیاسی جماعتیں اگر باہم شراکت کے کسی فارمولے پر متفق نہیں ہوتیں اور ایک دوسرے کی مٹی پلید کرنے کا قصد کرتی رہیں گی تو یقین کرلیا جائے کہ اس سے فوجی کی طاقت میں ہی اضافہ ہوگا۔ ملک میں جمہوریت، شہری آزادیوں اور پارلیمنٹ کی بالادستی کا خواب بکھرے گا اور آنے والا وقت میں آزادی اظہار کے لیے مزید مشکلات عائد ہوں گی۔ اب سیاسی لیڈروں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ دنگل جاری رکھنا چاہتے ہیں یا ملکی نظام کے نقائص دور کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں۔ مولانا نے ملک ڈھے جانے کی بات بھی کی ہے ۔ ان کے پیشواؤں نے قیام پاکستان کے خلاف ضرور جد و جہد کی تھی لیکن اب مولانا اور اس قبیل کے سب لوگوں کا وجود اسی ملک سے وابستہ ہے۔ اگر اس سچائی کو ماننے سے انکار کیا جائے گا تو اس کا خمیازہ سب کو بھگتنا پڑے گا۔