مریم نوازکیا نئی بینظیر بھٹوبن پائیں گی؟
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 29 / فروری / 2024
الیکشن 85 کے بعد جس روز نواز شریف چیف منسٹر پنجاب منتخب ہوئے، درویش کی ملاقات میاں طفیل محمد سے ہوئی۔ جھٹ سے پوچھا ’’میاں صاحب آپ نواز شریف کے وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کو کیسے دیکھتے ہیں؟‘‘۔
بولے ’’آپ بتائیں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟‘‘ عرض کی ’’میاں صاحب مجھے تو نواز شریف اپنے بالمقابل افراد میں سب سے اچھے لگتے ہیں، اس لئے خوشی محسوس ہوئی ہے‘‘۔ اس پر تب کے امیر جماعت اسلامی میاں طفیل صاحب گویا ہوئے ’’میرے بھی یہی احساسات ہیں۔ خدا انہیں نام کے مطابق کام کرنے کی ہمت اور توفیق عنایت فرمائے‘‘۔ مابعد 88 میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو پرائم منسٹر منتخب ہوئیں تو میرے ایک خط کے جواب میں میاں صاحب نے ان کے متعلق خاصے سخت الفاظ لکھے بلکہ ایک حدیث کا حوالہ بھی دیا کہ وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جس نے ایک عورت کو اپنا لیڈر چن لیا ہے۔
مس فاطمہ جناح کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کو قیادت کے منصب پر فائز ہوتے ہوئے ہمارے روایتی مذہبی طبقات کی اچھی خاصی مخالفت اور مذہبی حوالہ جات سے پھیلائی گئی منافرتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہمارے میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی اس حوالے سے خاصی تلخ بحثیں ہوئیں مگر الحمد للہ آج حالات نے اتنا زیادہ پلٹا کھایا ہے کہ محترمہ مریم نواز کی مخالفت دیگر حوالوں سے تو ہے اور شاید مزید ہوگی لیکن مذہبی حوالوں سے وہ تنگ نظری ختم ہو چکی ہے۔ ماقبل دو معزز خواتین کو جس کا سامنا کرنا پڑا۔ آج محترمہ مریم نواز شریف پنجاب کی پہلی خاتون چیف منسٹر کی حیثیت سے منتخب ہوئی ہیں تو ان کے لئے ماحول ناصرف مذہبی لحاظ سے خوشگوار ہے بلکہ طاقتوروں کی طرف سے بھی کسی نوع کے تحفظات نہیں ہیں۔ فیملی اور پارٹی بھی ان پر یکسو ہے۔
شاہد خاقان اور چودھری نثار دونوں فارغ ہو چکے ہیں۔ عوامی سطح پر بھی انہیں محترمہ بے نظیر کی طرح ایک دبنگ لیڈر کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔ بی بی کی سرپرستی کے لئے ان کے سر پر باپ کا سایہ موجود نہیں رہا تھا جبکہ مریم بی بی کی گڈلک ہے ان کے والد محترم کو خداوند اچھی صحت کے ساتھ درازی عمر سے نوازے، ان کی پدری شفقت و محبت کے علاوہ، ایک منجھے ہوئے سیاستدان، تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کی سیاسی رہنمائی و توانائی انہیں ہر لمحہ میسر رہے گی۔ اور پھر جناب پرویز رشید صاحب جیسے جہاندیدہ لیگی رہنماؤں کی ایک پوری کھیپ ہے جس کا نظری و عملی دست تعاون انہیں کسی نوع کی کمی یا محرومی کا احساس تک نہیں ہونے دے گا۔
اس پس منظر میں افسر شاہی کا روایتی سرخ فیتہ ان کے عزائم یا آؤٹ پٹ دینے کی لگن میں رکاوٹیں نہیں ڈال سکے گا۔ رہ گئی اپوزیشن، وہ بھی انہیں بلیک میل کرنے سے قاصر رہے گی کیونکہ انہیں پنجاب میں سمپل میجارٹی کے باعث کسی چھوٹے گروہ کی محتاجی نہ ہوگی۔ اگرچہ چچا کی کمزور وفاقی حکومت کا تعاون بھی انہیں تمام وفاقی محکمہ جات میں حاصل ہوگا لیکن بالفعل وہ اپنے ممبران قومی اسمبلی کو بھی ایک نوع کی ڈھارس فراہم کریں گی۔ سچ تو یہ ہے کہ پنجاب میں مریم نواز حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ہی یہ ہوگا کہ وہ کس طرح پنجاب کے بظاہر منقسم مینڈیٹ کو ن لیگ کی جھولی میں ڈالتی ہیں۔ جس طرح ان کے والد محترم نے اسی اور نوے کی دہائیوں میں اپنی خدمت اور کارکردگی سے پورے پنجاب کو اپنے ساتھ جوڑ لیا تھا۔ 1997 کے انتخابی نتائج قابل ملاحظہ ہیں ۔ مریم بی بی کی کامیابی تب مانی جائے گی جب اگلے انتخابی معرکے میں وہ اپنی پارٹی کو اسی مقامِ شریف تک لے آنے میں کامیاب ہو جائیں۔
کوئی مانے نہ مانے جس طرح ایک زمانے میں پنجاب کا غریب اور متوسط نوجوان بھٹو کا دیوانہ تھا جسے نواز شریف نے اپنی طرف کھینچ لیا، اسی طرح کی اس سے کچھ ملتی جلتی صورتحال پنجاب کے نوجوانوں میں ایک کھلاڑی نے پیدا کر رکھی تھی جس کا بڑا دوش خود مریم بی بی کے چچا جان کی سولہ ماہ پر محیط بری حکمرانی کو بھی جاتا ہے۔ جس طرح اخبار کا خسارہ چینل والے پورا کر رہے ہیں، اپنی گڈگورننس کے ذریعے کچھ ایسی ہی کارکردگی محترمہ مریم نواز کو بھی دکھانی ہو گی۔ تب جاکر وہ نہ صرف یہ کہ پنجاب کے یوتھ بلکہ عوام، ان کی مانگوں اور امنگوں کو جیت سکیں گی۔ چیف منسٹر پنجاب محترمہ مریم نواز کا تقابل کسی وسیم پلس عثمان بزدار، فرح گوگی یا پنکی پیرنی صاحبہ سے ہرگز نہیں ہے بلکہ جیسے انہوں نے خود کہا کہ اپنے ہی والد محترم اور چچا کی بطور وزیر اعلیٰ کارکردگی اور آئوٹ پٹ سے ہے۔
درویش جس طرح بلاول کو یہ کہتا رہا ہے کہ وہ اپنے نانا کو کاپی کرنے کی بجائے اپنی والدہ مرحومہ کو اپنا رول ماڈل بنائے مگر وہ ناکام رہا۔ اسی طرح مریم بی بی اپنی من مانیاں کرنے کی بجائے اگر اپنے والد کی عاجزی، سادگی، ٹھوس کارکردگی، دھیمے لب ولہجے میں اپنے ٹارگٹ کے حصول پر گہری نظر اور جدوجہد کو اپنائیں گی تو کامیابیوں کی دیوی ان پر مہربان رہے گی۔ اس ناچیز کو مریم بی بی کی خود پسندی پر مبنی سوچ، لگژری لائف سٹائل اور کئی ترجیحات پر خاصے تحفظات ہیں جن پر کسی اور کالم میں بحث کی جائے گی۔ مگر وہ نواز شریف کا فخر ہیں ہمارے لوگ لڑکوں کو روتے ہیں، اس نے لڑکی یا بیٹی ہوتے ہوئے اپنی لگن اور جدوجہد سے وہ ولولہ دکھایا ہے جو حسن، حسین جیسے لڑکوں کے بس میں نہ تھا وہ اپنے باپ کی بے باک، بہادر اور پرعزم بیٹی ہیں۔ اب انہوں نے خود کو حوصلہ مند زیرک، معاملہ فہم اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والی لیڈر بن کر دکھانا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر پنجاب کے بارہ کروڑ عوام کے دکھوں کا مداوا کرتے ہوئے ان سب کی محبتوں کو سمیٹنا ہے گڈگورننس کی نئی مثالیں قائم کرنے کے چیلنج پر پورا اترنا ہے۔
انہوں نے اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر کے دوران جن مسائل کی درست نشاندہی کی ہے، اپنے اس ادراک، وژن اور ترقی کے بیانیے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ تاکہ کل کلاں کوئی اسے کھلاڑی جیسی نمائشی بڑھکیں نہ کہہ سکے۔ غربت، بیروزگاری، مہنگائی، امن عامہ، صحت، تعلیم اور بالخصوص خواتین کیلئے محفوظ ماحول، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس مگر سیاسی مخالفین کیلیے ٹالرنس مذہبی جنونیت کا خاتمہ بلاامتیاز مذہب، نسل یا جنس سب کیلئے مساوی مواقع اور پھر یہ مشن کہ خواتین کے خلاف ہراسمنٹ میری ریڈلائن ہے، بالخصوص اچھرہ میں ایک بے گناہ خاتون کو جس طرح خوفزدہ کرتے ہوئے اس کی زندگی کو خطرے میں ڈالا گیا، اس جنونی مائنڈ سیٹ کا خاتمہ بھی محترمہ مریم نواز شریف کیلئے چیلنج ہونا چاہئے۔
آپ کو نواز شریف ہی کا نہیں پنجاب کے 12کروڑ عوام بالخصوص پاکستانی خواتین کا اپنی آؤٹ پٹ سےفخر بننا ہے۔ اپنے مخالفین کو برا کہنے دھمکیاں دینے یا سخت زبان بولنےسے کچھ نہیں ہوتا۔ سادگی و عاجزی اور وقار کے ساتھ عوامی خدمت کے ذریعے جب سوسائٹی کے دبے ہوئے کمزور و مظلوم طبقات و افراد کے دکھوں کا مداوا کریں گی تو مخالفین ازخود فارغ ہو جائیں گے۔