نئی پارلیمنٹ کتنی طاقت ور ہوگی؟

اسے جمہوریت کاحسن کہنا چاہئے  کہ تحریک انصاف کے لیڈروں نے آج پھر اپنے شدید سیاسی دشمن مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی۔  اور اسد قیصر کے بقول، ان سے اسپیکر  ووزیر اعظم کے عہدوں کے لئے تحریک انصاف  کے امید واروں کوووٹ دینے  کی درخواست کی۔ سب پارٹیوں کے منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی اور ان کے لیڈر اگر آنے والے وقت میں ایسے ہی مثبت اور تعمیری طرز عمل کا مظاہرہ کریں  تو سب مل کر پارلیمنٹ  کو مضبوط اور غیر منتخب طاقتوں کے اثر و رسوخ کو کم کرسکتے ہیں۔

تاہم آج قومی اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کے دوران میں اور  بعد ازاں یہ سوال زیر بحث رہا کہ نئی  قومی اسمبلی کس  حد تک مؤثر ادارے کے طور پر سامنے آئے گی اور کیاعوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ارکان اسے حقیقی معنوں میں ایسا فورم بناسکیں  گے جہاں عوامی مسائل پر بات ہو اور ان کے حل کے لیے جو بھی مناسب تجویز سامنے آئے اسے منظور کیا جائے۔  فیصلے کرتے ہوئے یہ نہ دیکھا جائے کہ یہ تجویز اپوزیشن کے بنچوں سے دی گئی ہے یا اسے حکومت نے پیش کیا ہے۔ البتہ اس پہلو کو پیش نظر رکھا جائے کہ کیا اس اقدام سے  عوام کو وسیع تر بنیادوں پر فائدہ ہوگا یا ان کے مفادات پر زک لگے گی۔

انتخابات کے انعقاد کے بعد ابھی تک جذبات قابو میں آنے کا نام نہیں لے رہے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران میں بھی اس کا مظاہرہ کیا گیا۔ تحریک انصاف کے لیڈر عمران خان کے چہرے والے ماسک پہن کر اجلاس میں شریک ہوئے اور مخالفین کے خلاف مسلسل ’چور چور‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ یہ طریقہ  حکومت سازی  کا عمل مکمل ہونے تک تو قابل فہم ہوسکتا ہے کہ انتخابات میں ناکامی اور دھاندلی کی شکایات کی وجہ سے تحریک انصاف کو پریشانی لاحق ہے۔ الیکشن کمیشن نے ابھی تک مخصوص نشستوں کا فیصلہ بھی نہیں کیا ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے آزاد ارکان کو  سنی اتحاد کونسل کا رکن بنوانے کے بعد الیکشن کمیشن سے اقلیتوں اور خواتین کی مخصوص نشستوں میں حصہ دینے کی درخواست کی تھی۔ الیکشن کمیشن نے یہ سیٹیں ابھی تک کسی پارٹی  کے  نام نہیں کی ہیں اور نہ ہی سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔

سنی اتحاد  کونسل کے ذریعے  مخصوص سیٹوں کا کوٹہ لینے کے حوالے سے  سب سے بڑی مشکل یہی ہے کہ سنی اتحاد  کونسل کا کوئی رکن قومی اسمبلی کا رکن منتخب نہیں ہؤا اور نہ ہی اس پارٹی نے مخصوص نشستوں کے لیے اپنے نامزد  امیدواروں کے نام مقررہ وقت میں الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائے ہیں۔  اصولی اور قانونی طور سے الیکشن کمیشن یہ نشستیں سنی اتحاد کونسل کو دینے سے انکار کرسکتا ہے ۔ البتہ  اس  سے دھاندلی اور مینڈیٹ چوری کے موجودہ   ماحول  کی تلخی میں اضافہ ہوگا۔  الیکشن کمیشن نے اگر  سنی اتحاد کونسل کے نام سے تحریک انصاف کو یہ سیٹیں دینے کا فیصلہ کیا تو سیاسی لحاظ  سے تو اسے درست فیصلہ کہا جائے گا لیکن اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھتے رہیں گے۔

اس سے پہلے تحریک انصاف  کے انتخابی نشان کے حوالے سے بھی یہی صورت حال پیدا ہوئی تھی۔ قانونی لحاظ سے الیکشن کمیشن کی پوزیشن مضبوط تھی اور اس نے اسی کے مطابق فیصلہ کیا اور سپریم کورٹ کو بھی اس فیصلہ کو تسلیم کرنا پڑا تھا کیوں کہ تحریک انصاف اس بات کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکی  تھی کہ انٹرا پارٹی الیکشن منعقد ہوئے تھے اور پارٹی سیکرٹری کی طرف سے  اس بارے میں جعلی حلف نامہ جمع نہیں کروایا گیا تھا۔  البتہ اس فیصلہ کے سیاسی مضمرات کا خمیازہ تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ ملکی سیاست کو عام طور سے بھگتنا پڑا ہے۔  پوری انتخابی مہم کے دوران یہی نعرہ عام کیا جاتا  رہا کہ تحریک انصاف سے ناجائز طور پر انتخابی نشان واپس لے کر اسے  انتخابات میں مساوی موقع دینے سے انکار کیا گیا ہے۔  تحریک انصاف مسلسل یہ ماننے سے انکار کررہی ہے کہ اس کا قانونی  مقدمہ کمزور اور سیاسی فیصلے بے وقت اور غلط تھے، جس کے نتیجے میں اسے انتخابی نشان سے محروم ہونا پڑا۔

البتہ  انتخابی نشان کے بغیر بھی تحریک انصاف کے ’آزاد‘ ارکان متفرق انتخابی نشانوں پر قومی اسمبلی کی  90 سے زیادہ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئے  ہیں۔  ان نتائج  پر پارٹی نے اطمینان کا اظہار کرکے جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کا قصد کرنے کی بجائے اس طاقت کو حسب سابق ہنگامہ آرائی اور احتجاجی سیاست کے لیے استعمال کیا۔ اب تک تحریک انصاف اپنی تمام صلاحیتیں محض خود کو درست اور دوسروں کو غلط قرار دینے پر صرف  کررہی ہے۔  ملک میں اقتدار کے لئے سیاسی رابطوں کے حوالے سے بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی ہے۔ عمران خان کی ہدایت پر پارٹی قیادت نے مسلم لیگ (ن) ،  پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے ساتھ بات چیت سے انکار کردیا البتہ سنی اتحاد کونسل   جیسی بے نام جماعتوں کے ساتھ پینگیں بڑھانا ضروری سمجھا۔ اب یہی فیصلہ شاید  مخصوص نشستوں کے حصول میں بھی مشکلات کا سبب بنے۔ تحریک انصاف اگر آزاد ارکان کا گروپ بنا کر یا انہیں اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم پر جمع کرکے مخصوص نشستیں طلب کرتی تو شاید الیکشن کمیشن اس سے انکار نہ کرسکتا کیوں کہ تحریک انصاف بطور پارٹی بہر حال موجود ہے اور الیکشن کمیشن میں رجسٹر بھی ہے۔  لیکن اس آسان راستہ کی بجائے پارٹی نے یہی مناسب سمجھا کہ سنی اتحاد کونسل  میں شامل ہوکر اپنی پارلیمانی طاقت میں اضافہ کیا جائے۔  یہ فیصلہ کس حد تک پارٹی کے لیے سود مند ہوتا ہے ، اس کا اندازہ آنے والے وقت میں ہوگا۔

البتہ مخصوص نشستوں کی تقسیم  مکمل نہ ہونے کے سوال پر تنازعہ کھڑا کرکے صدر عارف علوی نے آخر ی وقت تک  قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکار کیا ۔ جب  وزارت پارلیمانی امور نے آج  صبح دس بجے اجلاس بلا لیا تو چند گھنٹے پہلے صدر نے بھی اجلاس بلانے کی سمری پر دستخط کردیے۔   عارف علوی نے یہ اقدام  خوشی سے نہیں کیا تھا لیکن انہیں بھی یہ خوف لاحق ہوگا کہ اگر انہوں نے اجلاس بلانے سے متعلق اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہ کی تو شاید  انہیں  بعد از وقت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے۔ اب  تحریک انصاف کی طرف سے وزارت عظمی کے  امید وار عمر ایوب نے  حلف برداری کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا کیوں کہ ان کا دعویٰ تھا کہ پارٹی کو درحقیقت 185 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ہے لیکن دھاندلی کرنے والے جعلی ارکان کو اسمبلی میں بلا لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے مخصوص نشستیں تقسیم نہ  ہونے  کے حوالے سے بھی دلیل دی۔ البتہ  یہ مطالبہ ماننے کا مقصد یہ ہوتا کہ 8  فروری کے انتخاب کے بعد شروع ہونے والا  حکومت سازی کا  عمل تعطل کا شکار رہے اور ملک میں بدستور بے یقینی رہے۔ تحریک انصاف کو شاید اسی میں  اپنا فائدہ دکھائی دے رہا ہے لیکن وہ یہ سمجھنے سے مسلسل انکار کررہی ہے کہ اگر  یہ بحران کسی غیر جمہوری دست اندازی  پر منتج ہوتا ہے تو جمہوریت کا راگ الاپنے والا ہر گروہ پریشان ہوگا اور ملک میں جمہوری عمل  کا راستہ مسدود ہوسکتا ہے۔

تحریک انصاف   کو قومی اسمبلی میں قابل ذکر نمائیندگی حاصل ہے۔ اس  پارلیمانی طاقت  کو ملک میں  مثبت تبدیلی کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ اسی وقت ممکن ہوگا اگر  تحریک انصاف کے لیڈر یہ ادراک کرسکیں گے کہ  موجودہ آئینی انتظام چلتے رہنے میں ہی سب کا فائدہ ہے۔ ان سب میں تحریک انصاف بھی شامل ہے۔  لیکن اگر  پارلیمنٹ میں نمائیندگی کی قوت کو بدستور تخریبی سیاست کے لیے استعمال کیا  گیا تو  اس سے پارلیمنٹ  کمزور رہے گی ۔ ایک تو مسلسل ہنگامہ آرائی میں  قانون سازی یا اہم معاشی فیصلے کرنے کا کام نہیں ہوسکے گا۔ دوسرے  متعدد دوسرے امور میں پارلیمنٹ  کردار ادا نہیں کرسکے گی۔  ایسے ہی ماحول میں  غیر جمہوری قوتیں یااسٹبلشمنٹ مؤثر اور طاقت ور ہوتی ہے۔

تحریک انصاف اگر ایک مشکل سیاسی ماحول میں مولانا فضل الرحمان سے راہ و رسم بڑھانے اور ووٹ مانگنے کا اقدام کرسکتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ  اس نے پیپلز پارٹی یا ایسے ہی دیگر گروہوں سے مواصلت کا راستہ بند کیا  ہؤا ہے جو  شاید پی ٹی آئی کو سیاسی سپیس دینے پر راضی تھے۔   بلاول بھٹو زرداری کہہ چکے ہیں کہ انہوں  نے جزوی طورسے شہباز شریف کو وزارت عظمی کے لیے ووٹ دینے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کیوں کہ تحریک انصاف نے ان سے اپنے امیدوار کے لیے ووٹ مانگا ہی نہیں۔  عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈروں کو سمجھنا چاہئے کہ سیاست میں  بڑی  انتخابی کامیابی حاصل کرنے کے باوجود اگر بروقت  درست سیاسی فیصلے نہ کیے جائیں تو بعد از وقت اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ یہی دیکھ لیا جائے کہ تحریک انصاف کا وفد  انتخابات کے بعد دوسری مرتبہ مولانا فضل الرحمان سے ملا ہے کیوں کہ وہ کم تر پارلیمانی نمائیندگی کے باوجود بروقت فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کو مولانا سے صرف ووٹ ہی نہیں مانگنے چاہئیں بلکہ سیاسی حکمت عملی کا سبق بھی سیکھنا چاہئے۔

فی الوقت اگرچہ یہ لگ رہا ہے کہ پارلیمنٹ کی کارکردگی کا  انحصار تحریک انصاف کے رویہ پر  ہوگا۔ لیکن اگر پی ٹی آئی نے مسلسل منفی سیاست کی اور آئی ایم ایف کو خط لکھنے جیسی غلطیاں دہرائی جاتی رہیں تو پارلیمنٹ میں موجودگی کے باوجود اس کی  اہمیت کم ہوجائے گی ۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ  منتخب ہونے والی حکومت  درست اقدامات کرکے  اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ یوں بھی تحریک انصاف ایک بڑی پارٹی ہے ، اسے جماعت اسلامی کی طرح اس بچگانہ تصور سے باہر نکلنا چاہئے کہ فوری طور سے ملک میں نئے انتخابات منعقد ہوسکتے ہیں۔ اس کی بجائے سب سیاسی قوتوں کو مل کر  کوشش کرنی چاہئے کہ موجودہ پارلیمنٹ اور  منتخب ہونے والی حکومت اپنی  آئینی مدت پوری کرے اور ملک کو موجودہ بے یقینی اور بحران سے باہر نکال سکے۔