نو مئی واقعات کی غیر جانب دار تحقیقات ہونی چاہئیں: عمر ایوب
پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمر ایوب نے نو مئی واقعات کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہباز شریف بیرونی سرمایہ کاری لانے کی باتیں کرنے سے پہلے قانون کی حکمرانی کی پاسداری کریں۔
شہباز شریف کے وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے عمر ایوب کا کہنا تھا کہ نئی حکومت پی ڈی ایم حکومت کا تسلسل ہے جس کے پاس ملکی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ حکمراں اتحاد کے چہرے اترے ہوئے ہیں، لگتا ہے کہ جیسے جنازے پر آئے ہوں۔
پاکستان تحریکِ انصاف نے عمر ایوب کو وزارتِ عظمیٰ کا اُمیدوار نامزد کیا تھا۔ تاہم اتوار کو وزیرِ اعظم کے انتخاب میں وہ شہباز شریف کے مقابلے میں 92 ووٹ حاصل کر سکے۔ عمر ایوب کا کہنا تھا کہ یہ کہتے تھے کہ ہماری بات ہو گئی ہے، مگر لگتا ہے کہ ان کا رانگ نمبر لگا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی عوام سے بات ہوئی تھی، جنہوں نے کامیاب کرایا۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ آج پھر کہتے ہیں کہ شہباز شریف فارم 47 کی پیداوار ہیں۔ جو لوگ بیٹھے ہوئے ہیں انہیں پتا ہے کہ انہوں نے مینڈیٹ چوری کیا ہے۔ ان کے بقول اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ایم کیو ایم کے ارکان بھی فارم 47 کی پیداوار ہیں۔ ہفتے کو ہم نے پورے ملک میں پر امن مظاہرے کیے۔ ہمارے 80 سے زائد ورکرز کو گرفتار کیا گیا۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) آٹھ فروری کے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے احتجاج کر رہی ہے۔ تاہم الیکشن کمیشن ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ اتوار کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی کہا تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بجائے الیکشن کمیشن، عدالتوں اور دوسرے پلیٹ فارمز سے رُجوع کرنا چاہیے۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ہمارے محبوب قائد کو گرفتار کیا۔ مگر ہم کھڑے رہے۔ ہمارے گھروں پر ریڈ کیے گئے۔ ہماری خواتین کو ہراساں کیا گیا پر ہم کھڑے رہے۔ ہمارا انتخابی نشان چھین لیا مگر ہم کھڑے رہے۔ ہم اس وقت تک کھڑے رہیں گے جب تک عمران خان وزیرِ اعظم کا حلف نہیں اٹھا لیتے۔