شہباز شریف پاکستان کے 24ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے

  • اتوار 03 / مارچ / 2024

صدر مسلم لیگ (ن) میاں محمد شہباز شریف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 24ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے۔ اتحادی جماعتوں کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے منصب کے لیے صدر مسلم لیگ (ن) شہباز شریف امیدوار تھے جبکہ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے عمر ایوب خان مدمقابل تھے۔

آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں ووٹنگ کا عمل مکمل کرلیا گیا۔ سیکریٹری قومی اسمبلی نے ووٹوں کاریکارڈ اسپیکر ایاز صادق کو پیش کردیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے نتائج کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ شہباز شریف 201 ووٹ لے کر وزیراعظم پاکستان منتخب ہوگئے ہیں۔ ان کے مدمقابل عمر ایوب کو 92 ووٹ ملے۔

اس سے قبل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری، شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری، سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف ایوان میں پہنچے۔ وزارت عظمیٰ کے امیدوار شہباز شریف اور عمر ایوب بھی اسمبلی ہال پہنچے۔ نوازشریف اور شہباز شریف کی ایوان میں آمد پر اراکین نے شیر شیر کے نعرے لگائے اور ڈیسک بجا کر استقبال کیا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا۔ پارٹی اراکین وزیراعظم کے انتخاب میں حصہ لینے کے لیے ایوان میں نہیں آئے۔ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے رہنما اختر مینگل نے وزارت عظمی کے انتخاب کے لیے کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہیں دیا اور اپنی نشست پر ہی براجمان رہے۔

نومنتخب وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اتحادیوں کا شکریہ ادا کیا جبکہ سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے شدید نعرے بازی کی۔اسپیکر ایاز صادق نے جیسے ہی قائد ایوان کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے نتائج کا اعلان کیا تو ایوان ’شیر شیر‘ کے نعروں سے گونج اٹھا۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے ’گھڑی چور‘ کے نعرے لگائے جبکہ سنی اتحاد کونسل کی طرف سے ووٹ چور کے جوابی نعرے بلند کیے گئے۔

نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’معمار پاکستان‘ نواز شریف نے مجھے وزیر اعطم نامزد کیا۔ پورے ایوان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ تمام اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے اعتماد پر شکر گزار ہوں۔ نواز شریف معمار پاکستان ہیں۔ نواز شریف کی قیادت میں پاکستان میں خوشحالی کا انقلاب آیا۔

شہباز شریف نے قومی اسبملی میں اپنے پہلے خطاب کے دوران الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے دور اقتدار میں پوری اپوزیشن کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا۔ نواز شریف کو جلا وطنی پر مجبور کیا گیا۔ حالانکہ  20۔20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ نواز شریف کے دور حکومت میں ختم ہوئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت، قانون وانصاف کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ پی ٹی آئی نے پوری اپوزیشن کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا۔ انہوں نے 9 مئی کے پُرتشدد واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس دن پاکستان کے اداروں پرحملے کیے گئے۔ ہماری جماعت نے ملکی مفاد میں اپنی سیاست کا نہیں سوچا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھی۔

شہباز شریف نے سابق اسپیکر قومی اسمبلی راجاپرویز اشرف کو بطور اسپیکر خدمات انجام دینے پر خراج تحسین پیش کیا۔ نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ بیچ منجھدار میں پھنسی کشتی کنارے لگائیں گے۔ ہمیں دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا چاہیے۔ سیکیورٹی فورسسز جانوں کی قربانی دے کر ملک و قوم کی حفاظت کر رہی ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو ہر نعمت سے نوازا ہے۔ بیچ منجھدار میں پھنسی کشتی کنارے لگائیں گے۔ ملکی چیلنجز سے مل کر نمٹیں گے۔ ملک کی کشتی کو منجدھار سے نکال کر کنارے لے جائیں گے۔ شہباز شریف نے کہا کہ 12 ہزار 300 ارب این ایف سی کے بعد 7 ہزار 3 سو ارب بچتے ہیں۔ 7 سو ارب کا خسارہ ہو گا تو صوبوں کے لیے پیسے کہاں سے آئیں گے۔ ہمارا ملک قرضوں میں گھرا ہوا ہے۔ کیا اس صورتحال میں ایک ایٹمی قوت کامیاب ہو پائے گی۔

ہم نے صوبوں میں بنیادی ریفارمز ڈالی ہیں۔ نوجوان ملک کا ہراول دستہ ہیں۔ مل کرتمام چیلنجز سے نبردآزما ہوں گے۔ ملکی چیلنجز سے مل کر نمٹیں گے۔ آئیں مل کر فیصلہ کریں ہمیں ملک کی تقدیر بدلنی ہے۔ ہمارا ملک قرضوں میں گھرا ہوا ہے۔ کیا اس صورتحال میں ایک ایٹمی قوت کامیاب ہو پائے گی۔ ایک اور بڑا چیلنج بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہے۔ 80ہزار ارب روپے کے اندرونی و بیرونی قرضہ جات ہیں۔

نومنتخب وزیراعظم نے کہا کہ شور شرابے کے بجائے یہاں شعور کا راج ہونا چاہیے تھا۔ اگر شعور شور کو عبور کرجائے تو ایوان کا فائدہ ہوگا۔ بجلی کا چیلنج ایک اور بہت بڑا چیلنج ہے۔ 23 سو ارب بجلی کی مد میں کا گردشی قرضہ ہے۔ ایک غریب قوم اس ساری صورتحال میں نہیں چل سکتی۔ ہمارے ملک میں چھ سو ارب کی بجلی چوری ہوتی ہے۔

شہباز شریف نے تقریر کے دوران بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں گھڑی چوری کی بات نہیں کر رہا بجلی کی بات کر رہا ہوں۔ ان لوگوں نے پاکستان اور افواج کے خلاف زہر اگلا۔ قرضے کا حجم 8 سو ارب روپے ہو چکا ہے۔ بجلی اور ٹیکس چوری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ بجلی اور ٹیکس چوری کا سارا بوجھ غریب اٹھاتا ہے۔

ایک شخص نے زہراگلا جس پر دنیا نے پی آئی اے پر پابندی لگادی۔ ٹیکس چوری کو روکنے کی نگرانی خود کروں گا۔ 5 لاکھ نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت کی تربیت دیں گے، آئی ٹی کی مصنوعات کو برآمد کرکے زرمبادلہ کمائیں گے۔ انہوں نے دوست ممالک کے سرمایہ کاروں کو ویزا فری انٹری دینے، چاروں صوبوں میں ایکسپورٹ زون اور جدید ہسپتال بنانے، ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کا جال بچھانے، سولرٹیوب ویل پروگرام لانے اور اعلیٰ ترین بیج منگواکر دینے کا اعلان کیا۔

شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو 10 روزمیں ٹیکس ریفنڈ جاری کرنے، کھاد فیکٹریوں کے بجائے سبسڈی براہ راست کسان کو دینے کا اعلان بھی کیا۔ شہباز شریف نے نو مئی کے واقعات کو سنگین غداری قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ ملوث افراد کو ہر صورت قانون کا سامنا کرنا پڑے گا اور کسی بے گناہ کو کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔ وزیراعظم نےخواتین کو ہراساں کرنے کا جرم بھی ناقابلِ برداشت قرار دیا۔

شہباز شریف نے 9مئی کیس میں گرفتار کسی بےگناہ کو سزا نہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 9 مئی کیسز میں ملوث افراد کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 9 مئی کوملک و قوم سےعظیم غداری کی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن والے جنگلہ بس کا شور مچایا کرتے تھے لیکن خود پشاور بی آر ٹی کا کیا حشر کیا۔ ٹھوس اقدامات سےمہنگائی میں کمی اور روزگار میں اضافہ ہوگا۔ کوشش ہوگی کہ حکومتی اقدامات کی بدولت ایک سال میں ثمرات آنا شروع ہوں۔ کسانوں کو کھاد پر براہ راست سبسڈی دی جائے گی۔ کسانوں کو معیاری بیج کی فراہمی یقینی بنائی جائےگی۔ جعلی زرعی ادویات کا خاتمہ کیا جائے گا۔ عوام کو صاف ستھری اور آرام دہ سفر کی سہولت ہماری ترجیح ہے۔ پورے ملک میں مؤثر ٹرانسپورٹ کے نظام کا جال بچھائیں گے، سولر ٹیوب ویل پروگرام کا اجرا کیا جائے گا۔ بیرون ملک یونیورسٹیز میں تعلیم کے لیے وظائف دیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سستےاور فوری انصاف کی فراہمی کےلیے قانون سازی ضروری ہے۔ 2 سال سےکم جیل میں قید خواتین اوربچوں کو فنی تربیت دی جائے گی۔ چاروں صوبوں میں جدید اسپتال بنائے جائیں گے۔ خواتین کو ہراساں کرنے کا جرم ناقابل برداشت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ خواتین کو مردوں کے برابر تنخواہ اور حقوق دیےجائیں گے۔ چاروں صوبوں میں ایکسپورٹ زون کا جال پھیلائیں گے۔ دہشت گردی سے متعلق نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدر آمد کریں گے۔ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کریں گے۔ فلسطین اور کشمیر میں ظلم و بربریت کا بازارگرم ہے، دنیا فلسطین میں جاری مظالم روکنے میں ناکام رہی۔ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔

شہباز شریف نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کی شکایت کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس جانے کی کیا ضرورت تھی۔ دھاندلی کی شکایت کے لیے آئینی فورم موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کے دوران بانی پی ٹی آئی یہاں تقریر کرکے چلے گئے۔ نفرت کے کلچر کو ختم کرنے میں کئی سال لگ جائیں گے۔